لوگ نمازیں اورتہجدیں بھی پڑھتے ہیں ،اس کے باوجود حرام کھاتے ہیں۔صوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکار

 پیر کامل صورت ظل الہٰ یعنی دید پیر دید کبریا ،یہ فرمان مبارک سچ اورعین حقیقت ہے۔ہفتہ وارروحانی تربیتی نشست سے خطاب

پیر کامل صورت ظل الہٰ یعنی دید پیر دید کبریا، یہ فرمان مبارک سچ اورعین حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ راہ حق کے سالکین کومومن مقربین فقراء کی صورت میں ہی اپنے دیدارسے نوازتاہے اوریہ وہ خزانے ہیں جو صرف ولی مرشد (ایسا مرشد جو راہ حق کے سالکین کواللہ ورسول ﷺ سے ملانے والا ہو)سے کامل عشق ومحبت کرنے سے ہی عطا ہوتاہے ،اللہ تعالیٰ کے فقراء (مومن مقربین ،واصلین حق )کی بارگاہ اقدس میں جواپنی انااورتکبرکوختم کرکے آتا ہے اسے ہی بھرپورنوازاجاتاہے۔ان خیالات کااظہاردورحاضرکے عظیم روحانی پیشواصوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکارنے ہفتہ واروحانی تربیتی نشست ومحفل پاک ذکرونعت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آپ نے مزیدکہاکہ مرشد ہوتاہی وہ ہے جو اللہ ورسولﷺ سے ملادے،پہنچادے اورپھر خزانے بھی دلوادے ۔فقراء (وارثین انبیاء )چونکہ اللہ ورسولﷺ کی بارگاہ اقدس میں منظورومقبول ہوچکے ہوتے ہیں ،اس لئے اللہ تعالیٰ کے فقیر پر جونوازشات،عطائیں اورکرم نوازیاں ہورہی ہوتی ہیں وہی ان کے مریدین اورعقیدت مندوں پر بھی ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔لوگ نمازیں اورتہجدیں بھی پڑھتے ہیں ،اس کے باوجود حرام کھاتے ہیں،ریاکاری کرنیوالے نمازی اورتہجدگزار،جب اللہ کے فقیر کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں اورنافرمانی کرتے ہیں تو انہیں ایسے لوگوں پر جلال آجاتاہے،بڑے بڑے صالحین بھی اللہ کے فقراء (مومن مقربین ،واصلین حق )کے مقام ومرتبے کونہیں سمجھ سکتے ،عام لوگ کیا سمجھیں گے ،ہرگز نہیں سمجھ سکتے ، صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے اورکرم سے ہی سمجھ بوجھ عطا ہوتی ہے۔جو لوگ دل کاکاسہ ہر طرح کی خواہشات سیخالی کرکے حاضرہوتے ہیں یعنی غروروتکبرکوختم کرکے آتے ہیں ،نہ صرف ان کو نوازاجاتاہے بلکہ ان کی قیامت تک آنیوالی نسلوں کوبھی نواز دیا جاتاہے۔فقیر (وارث الانبیاء )ہر وقت مقام شکر میں رہتاہے،واصل حق فقیر بڑی سے بڑی مشکلات میں بھی اپنے رب کا شکرہی اداکرتاہے،اللہ ورسولﷺ اورمرشد ایسے سخی ہوتے ہیں کہ مانگنے والوں کوجنتیں اوربادشاہتیں تک عطا فرمادیتے ہیں،لوگ دنیاوی مسائل کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ کے فقراء کے پاس آتے ہیں اورکرم دیکھ کر نسبت اختیار کرنے سے انہیں جنتی ہونے کی بشارتیں عطا فرمادی جاتی ہیں۔محفل پاک کے اختتام پر ملک وملت کی سلامتی واستحکام ، عالم اسلام کے اتحاد واتفاق کی دعامانگی گئی۔