Home سرگرمیاں Others Women Rally in Faisalabad

 تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے زیر اہتمام طالبان کی ملک میں دہشت گردی،شدت پسندی اولیائ اللہ کے مزارات ودرباروں کی بے حرمتی کے خلاف ایک عظیم الشان ریلی

 
7 مئی بروز جمعتہ المبارک کو تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے زیر اہتمام طالبان کی ملک میں دہشت گردی،شدت پسندی اولیائ اللہ کے مزارات ودرباروں کی بے حرمتی کے خلاف ایک عظیم الشان ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ ریلی میں امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان حضرت صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کے زیر سرپرستی کام کرنے والی مندرجہ زیل سماجی ومذہبی تنظیموں  نے شرکت کی
تنظیم مشائخ عظام پاکستان ،لاثانی ویلفیئر فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ، بین المذاہب امن اتحاد پاکستان ،تنظیم فیضان لاثانی سرکار،آل پاکستا ن صو م صلوٰة کمیٹی  ،لاثانی نعت و کلام کونسل ۔
ریلی کی قیادت  امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان حضرت صوفی مسعود احمد صدیقی نے کی جبکہ خواتین ونگ کی نمائندگی  انکی اہلیہ محترمہ مہوش مسعود صاحبہ (مرکزی صدر لاثانی ویلفئیر فاؤنڈیشن انٹر نیشنل) نے کی۔سمیرا رفاقت صاحبہ (صدر LWF ضلع خوشاب) بھی انکے شانہ بشانہ تھیں۔سلطانہ ناصر صاحبہ (صدرنعت وکلام کونسل) اور عائشہ رحمان سائکالوجسٹ ومرکزی کوارڈینیٹرLWF) ریلی کے آغاز سے لیکر اختتام تک میگا فون کے ذریعے ولولہ انگیز نعروں سے ریلی میں شریک خواتین کے جوش وجذبہ کو اُبھارتی رہیں۔ دیگر عہدیداران میں مسز شبانہ جمیل،عابدہ معراج،سدرہ عاشق،نورین نوردین،فوزیہ ملک،نازیہ دین،نسرین،کلثوم،عظمیٰ سرور، صائمہ لیاقت ،شریفاں صاحبہ نمایاں رہیں۔

women protest
ریلی میں مندرجہ بالا تنظیموں کی مرکزی عہدیداران و ورکرز خواتیں کے علاوہ سکول وکالجز ویونیورسٹی کی طالبات،ڈاکٹر،معلمات،ودیگر سماجی ومذہبی شخصیات نے بھر پور شرکت کی ۔پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ریلی تھی جس میں خواتین نے کثیر تعداد میں بھر پور جوش وجذبہ کے ساتھ شرکت کی۔خواتین نے ناموس رسالتۖ،اولیائ اللہ کی حمایت اور طالبان کے خلاف تحریروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرز اُٹھائے ہوئے تھے۔حضرت  صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کی صاحبزادی صاحبہ GO TALBAN GO کا پلے کارڈ اُٹھائے ریلی میں سرفہرست رہیں ۔
محترمہ مہوش مسعود صاحبہ نے کہا کہ پاکستان اولیائ اللہ کا فیضان ہے  دہشت گرد اور شدت پسند واضح طور پر سن لیں کہ یہاں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ناموس رسالت ۖ،ناموس اولیائ اللہ اور درباروں،مزراروں کی بے حرمتی کرنے والوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں یہ بظاہر تو اپنے آپ کو توحید کا پر چار کرنے والے کہتے ہیں لیکن درحقیقت یہ شرپسند عناصر ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں اور وہ آیات جو بتوں اوربتوں کی  پوجا کرنے والوں کی مذمت میں نازل ہوئیں انہیں اولیائ اللہ پرچسپاں کرکے اُنکے جانثاروں کو مشرک قرار دے رہے ہیں۔ یہ تمام شرپسند عناصر سن لیں کہ ہم ملک پاکستان میں ایسے بہروپیوں اور فتنہ پروروں کو پنپنے نہیں دیں گے اگر یہ اسلام دشمن اور شدت پسند عناصر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کو منہ توڑ جواب دیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ان تمام خواتین کاشکریہ ادا کرتی ہوں جو اتنے مختصروقت میںہماری ایک کال پر ایک عظیم مقصد کے لیے یہاں جمع ہوئیں اور ریلی کو کامیاب بنایا انہوں نے کہا کہ میں اس پر امن مارچ کی وساطت سے صدر پاکستان ،وزیر اعظم اور افواج پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ قدم بڑھائیں ہم اس عظیم مقصد میں پورے پاکستان میں موجود اپنی لاکھوں ورکرز خواتین سمیت انکے ساتھ ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریزنہیں کریں گی۔اسکے بعد انہوں نے اولیائ اللہ کی حمایت اور شدت پسندوں کے خلاف نعرے لگائے۔خواتین نے بھر پور احتجاجی مظاہرہ کر کے دنیا کوباور کرادیا کہ وہ کسی میدان میں بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں

lasani sarkar
 ریلی نے ضلع کونسل سے چوک گھنٹہ گھر تک پیدل امن مارچ کیا  ریلی دوگھنٹے تک جاری رہی اور خواتیں مسلسل نعرہ تکبیر،نعرہ رسالتۖ،نعرہ حیدری ،نعرہ غوثیہ ،حضرت امام بری سرکار ،حضرت داتا صاحب سرکار،حضرت سلطان باہو سرکار،حضرت چادر والی سرکار اور تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے نعرے لگاتی رہیں۔ اگر ایک طرف گو طالبان گو کے نعرے لگ رہے تھے تو دوسری طرف اللہ اللہ اور لبیک یا رسول اللہۖ کی صدائیں فضاء میں گونج رہی تھیں ۔ریلی جب چوک گھنٹہ گھر پہنچی تو وہاں کچھ دیر کیلئے قیام کیا اس دوران محترمہ سمیرا رفاقت صاحبہ نے ایک تاریخ ساز اور ولولہ انگیزتقریر کی  انہوں نے آیات قرآنی سے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
                                   " تو اس سے بڑھ کرظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی آیتوں کوجھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے"۔
 انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات اور قضائے الٰہی کو بدلنے والے اور قرآن وحدیث کا انکار کرنے والے بے دین ہیںانھوں نے سورة بقرہ کی آیت نمبر 11،12 سنائی کہ
                   " اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین (ملک )میں فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کر نے والے ہیں ۔بے شک یہی فساد کرنے والے ہیں مگر سمجھتے نہیں"
 انہوں نے کہا کہ حدیث کی رو سے کسی بھی صحیح مسلمان پر شرک کا فتویٰ لگانے والا خود شرک کا حقدار ہے۔اور کسی بھی مسلمان کو محض اس وجہ سے مشرک قرار دیدیاجائے کہ وہ یا رسول اللہۖ کہتا ہے یااولیائ اللہ کی تعظیم کرتا ہے دین سے لاعلمی اور جہالت کا نتیجہ  ہے۔ایسا کہنے والوں کا دین اسلام سے حقیقت میں کوئی واسطہ نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اولیائ اللہ کے مزارات اور درباروں کی بے حرمتی کرنا( جہاں دن رات ذکر اللہ اور درودسلام کی صدائیں بلند ہوں، سینکڑوں ،ہزاروں بھوکوں کے پیٹ بھرتے ہوں انہیں شرک کے اڈے قرار دینے والے اور ایک ولی اللہ کے جسم انور کو دنیا سے پردہ کرجانے کے بعد درخت سے اُلٹا لٹکا کر اُنکے اعضاء کاٹنے والے(سوات کا واقعہ) کس منہ سے اسلام کی بات کرتے ہیں ۔اگر وہ سچائی اور دیانتداری کے ساتھ اپنامحاسبہ کریں تو ہر گز مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کریں گے۔

women protest
انہوں نے کہا کہ نظام اسلام کی آڑ میں در حقیقت اسلام سے دشمنی کی جارہی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ خاموش تماشائی بننے کی بجائے میدان عمل میں نکل کران باطل قوتوں کے  خلاف برسر پیکار ہو جائیں ۔آخر میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذہبی منافرت اور ملک میں خوف و ہراس اور بد امنی پھیلانے والے شر پسند عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے۔اس کے بعد ریلی چوک گھنٹہ گھر کے گرد چکر لگا تے ہوئے واپس پریس کلب کی طرف رواں دواں ہوئی،واپسی پر بھی خواتین کے جوش وجذبہ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی وہ مسلسل نعرے لگا رہی تھیں کہ٭درباروں کو بچائیں گے ٭مزاروں کو بچائیں گے   ٭دشمنان اسلام… طالبان ۔طالبان٭ دشمنان پاکستان…طالبان۔ طالبان ٭ غلامی رسول ۖمیں موت بھی قبول ہے ٭ جو ہو نہ عشق    مصطفٰے ۖ تو زندگی فضول ہے٭  غلامی اولیاء میں موت بھی قبول ہے  ٭جو ہو نہ عشق اولیائ تو زندگی فضول ہے
    ریلی جب پریس کلب پہنچی تو امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان اور قائد روحانی انقلاب محترم جناب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے ایک آدمی ہمارے پاس ایک پمفلٹ لیکرآیا جو کہ کراچی سے شائع ہوا اور فیصل آباد سے تقسیم کیا گیا۔اس میں ناموس رسالت ۖ،ناموس اولیائ اللہ اور مزاروں کے خلاف ایسے نازیبا الفاظ درج تھے جن کو ایک مسلمان اپنی زبان پرلانا بھی پسند نہیں کرتا ۔اس میں لکھا تھا کہ اولیائ اللہ اور بزرگان دین کے مزارات ودربار شرک کے اڈے ہیں اور انکا خاتما ہمارا مقصد ہے اسطرح ہم پاکستان کو شرک سے پاک کر دیں گے ۔  اسلام کے ان نام ونہاد علمبرداروں سے میں پوچھتا ہوں کہ اگریارسول اللہۖ کہنا شرک ہے تو تم دن پانچ مرتبہ ہر نماز میں شرک کررہے ہو (التحیات میں" یا ایھاالنبی "پڑھا جاتاہے)آپ نے فرمایا کہ یہ کونسا دین ہے ،یہ کونسا اسلام ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ شر پسندوں کے بیہودہ لڑیچر کو نہ صرف ضبط کیا جائے بلکہ اس کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کی جائے ۔اور انکے شائع کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ آج دنیا میں آفات وبلیات اورعذاب الٰہی نازل ہونے کی اصل وجہ اولیائ اللہ سے بغض ہے۔
حدیث قدسی کی روسے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کُھلا اعلان جنگ  ہے اور یہ باطل مرد ودقوتیں اولیائ اللہ اور بزرگان دین کی شان کے خلاف زہر اگل کر عذاب الٰہی کو کُھلی دعوت دے رہی ہیں۔  اسکے بعد آپ نے  "GO TALBAN GO"اور طالبان کا سسٹم نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے اور ریلی کی وساطت سے صدر پاکستان ،وزیر اعظم ، افواج پاکستان اوروزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف کو اپنے لاکھوں پیروکاروں سمیت مکمل تائید اور حمایت کا یقین دلایا۔ ( حضرت لاثانی سرکار اس وقت پاکستان میں مشائخ عظام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کے تا حیات امیر اور بانی ہیں۔ اس جماعت میں  5,600 سے زائد مشائخ عظام اپنے لاکھوں پیروکاروںسمیت تحریری طور پر شمولیت اختیار کر چکے ہیں)آخر میں محترمہ سمیرا رفاقت صاحبہ نے ملک پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے دعا مانگی اور بارگاہ رب العزت میںعرض کی کہ یا الٰہی اسلام اور پاکستان کو باطل قوتوں کے شر سے بچا ہمیں ان باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے روحانی وجسمانی قوت عطافرمااور سرزمین پاکستان کو دہشت گردوں اور شرپسندوں کے شر سے بچا کراپنی حفظ وامان میں رکھنا  سب نے ان کی دعا پر یک زبان ہو کر آمین ثمہ آمین کہااور یوں یہ تاریخ ساز ریلی اپنے اختتام کو پہنچی۔
women protest



   

 
حقِ اشاعت © 2010 lasanisarkar.org. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔