امن و امان کا قیام کیسے ممکن ہے؟سیمینار

 مورخہ30-10-2015 کو سرگودھا شہرمیں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا انعقاد ورلڈ الائنس آف رلیجنز پیس سومت (WARP) اور HWPLکے پلیٹ فارم سے سولو ہوٹل میں ہوااور اس کا اہتمام پاکستان مینارٹیز الائنس (PMA)کی طرف سے جناب نعیم یعقوب گل صاحب(سینئر رہنماء PMA) اور ان کے ہمراہ دوسرے ساتھیوں نے کیا۔ اس پروگرام میں نہ صرف سرگودھا شہر بلکہ پورے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقہ فکر کے اسکالرز اور مذہبی راہنمائوں نے شرکت کی۔جناب پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی نقشبندی صاحب (فرزند اکبر قائد روحانی انقلاب، سفیر امن صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب )کو اس پروگرام میں بین المذاہب امن اتحاد پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرنے کیلئے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ مہمانان گرامی میں محترم جناب حافظ عبدالرئوف صاحب (سنٹرل چیئرپرسن انصاف فائو نڈ یشن )، فا در ناصر ولیم صاحب ( کیتھولک چرچ ، سر گو د ھا )، فادر فا ر و ق صاحب (رشین آرچ چرچ پاکستان ) و دیگرمعز ز ین شامل تھے۔ سٹیج سیکرٹری نے اپنی خدمات کو بخوبی انجام دیتے ہوئے بین المذاہب امن اتحاد پاکستان اور ورلڈ الائنس آف رلیجنز پیس سومت (WARP) کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں  کو سراہاکہ یہ دونوں تنظمیں دنیا بھر میں مذاہب و مسالک کی تفریق سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت کیلئے عملی طور پر کوشاں ہیں۔اس کے بعد لائیو کال پر موجود HWPLکی کوآرڈینٹر مس ڈیانا ایان نے پروگرام کے شرکاء کے اس تنظیم کی طرف سے انسانی خدمات اور مختلف کاوشوں سے متعلق آگاہ کیا۔اب یہ تنظیم پاکستان میں بھی اپنا بھرپور عملی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔پروگرام کی کاروائی آ گے بڑھاتے ہوئے سٹیج سیکرٹری نے تمام شرکان پروگرام کو آگاہ کیا کہ جناب پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی نقشبندی صاحب تشریف لا چکے ہیں۔اور ان کے ہمراہ جناب شہزادہ طاہر احمد صاحب،محمد ناصر علی گل صاحب (رابطہ سیکرٹری بین المذاہب امن اتحاد پاکستان)، ڈاکٹر محمد سلیم صاحب (MBA،DHMSایم اے اردو، پنجابی ،انگلش) کوآرڈینیٹرفارن افیئرزتنظیم مشائخ عظام پاکستان) اور محمد آصف نقشبندی ( سب ایڈیٹر لاثانی انقلاب ، رکن لاثانی ویلفیئر فائونڈیشن انٹرنیشنل) کے تشریف لانے پران کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور مختصر تعارف کروایا گیا۔ جناب حافظ عبدارئوف صاحب (سینٹرل چیئرمین انصاف فائونڈیشن )نے اپنے بیان میں کہا کہ میںپروگرام منتظمین کا انتہائی شکر گزارہوں جنہوں نے ہم سب کو یہاں ''مذاہب کے مابین اختلافات کو ختم کرنے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے''کے بارے میں اظہار رائے کیلئے مدعو کیا ہے۔اور صاحبزادہ شبیر احمد صاحب کو سرگودھا آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اسکے علاوہ لاثانی سرکار صاحب کی مذاہب کے مابین اختلافات ختم کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کاوشیں  قابل ستائش ہیں اورمیں انہیں یقین دلاتا ہوںکہ آپ کی ولولہ انگیز قیادت میںاسی طرح یہ کام جاری و ساری رہے گا اور پوری دنیاامن و امان کا گہوارہ بنے گی(انشاء اللہ)۔اللہ تعالیٰ میری آپ سب کی یہاں حاضری قبول فرمائے ۔ فادر فاروق صاحب(رشین آرچ چرچ پاکستان ) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدانے جتنے بھی دین بنائے ہیں وہ سب انسانیت کی بھلائی کیلئے بنائے ہیں۔ قرآن مجید اور بائبل مقدس میں انسانیت اور بھائی چارے کی تعلیمات دی گئیں ہیں۔انہوںنے جناب سفیر امن صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارصاحب اورطاہر نوید چوہدری صاحب کی انسانیت کیلئے کی جانے والی گراں قدر خدمات کوخراج تحسین پیش کیا اوردعا کی کہ خداوند انہیں مزید امن کے کام کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ فا د ر نا صر و لیمز ( کیتھو لک چرچ،سر گو د ھا ) نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہم اپنے اند ر امن پیدا کریں گے تو ہم د نیا میں امن پیدا کر سکیں گے۔رام پرکاش صاحب(ہندو کمیونٹی) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ساری دنیا نے جان لیا ہے کہ ترقی اور خوشحالی امن ہی کی بدولت ہے۔ گیتا میں لکھا ہے کہ کسی سے سخت الفاظ بولنا بھی تشدد ہوتا ہے۔ہمیں ایسے اقدام کرنے چاہئے جس سے ملک میں انتشار پھیلانے والے لوگوں کا خاتمہ ہو سکے۔ بین المذاہب امن اتحادپاکستان کے مرکزی رکن جناب ڈاکٹر سلیم صاحب نے جناب لاثانی سرکار صاحب اور آپ کی زیر سرپرستی چلنے والی تنظیموں  کی فلاح انسانیت کیلئے کی جانے والی کاوشوں کا مختصر تعارف کروایا ۔انہوں نے کہا کہ لاثانی سرکارصاحب تمام انبیاء کرام علیہ سلام کی تعلیمات کو لے کر چلتے ہوئے تمام مذاہب و مسالک کی تفریق سے بالاتر ہو کر ''انسانیت پہلے ہے ،مذاہب بعد میں'' کے نعرے کی عملی تفسیر ہیں۔اس کے بعد چیئرمینPMAجناب طاہر نوید صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں میڈم ڈیانا ایان کا نہایت شکر گزار ہوں جنہوں نے PMAاور HWPLکے درمیان رابطہ کروایا۔میں صاحبزادہ شبیر احمد سرکار صاحب کا نہایت شکرگزار ہوں جنہوں نے امن کے اس کارواںمیں آکر ہمارا مان بڑھایا ہے ۔ اس کے علاوہ میں ہال میں موجودتمام افراد کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ فتنہ و فساد کے خاتمے کیلئے پاکستان کی عوام اپنا بھرپور کردار اد ا کر رہی ہے۔میں مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکارصاحب کا نہایت شکر گزار ہوںجو کہ پاکستان کی واحد شخصیت ہیں جن کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوںمیں ہے۔اور یہ پاکستان مینارٹیز الائنس کی خوش قسمتی ہے کہ لاثانی سرکار صاحب کے زیر سرپرستی چلنے والے بین المذاہب کے عظیم پلیٹ فارم پر اپنے مقاصد کی کامیابی اور اپنے مذہبی مسائل کا حل مل گیا ہے۔اور ہم نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے مل کر کام کریں گے۔ جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت جس امر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ امن کی ہے۔یہ آرمی ،حکومت یا کسی بھی ادارے کی ڈیوٹی نہیں ہے کہ وہ امن و امان قائم کرے بلکہ یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ فتنہ فساد اور انتشار پیدا کر نے والے عناصر کا خاتمہ کریں اور مذہبی تنائو کے جذبات پھیلانے والوں کی شدید مذمت کریں۔ جب بھی کوئی قدرتی رحمت یا آفت آتی ہے تو یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہاں پر ہندو ہیں یا عیسائی، مسلمان رہتے ہیں یا بہائی ۔آپ سب کی یہاں آمد اور موجودگی کیلئے میں بہت شکر گزار ہوں۔ خداوند ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔پھر ڈاکٹر سلیم صاحب نے جناب پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی نقشبندی صاحب کو مائک پر تشریف لانے کی دعوت دی۔

 جناب شبیر احمد صدیقی نے اپنے بیان کا آغاز نبی اکرم ۖ کی ذات بابرکات پر درود و سلام کے نذرانے پیش کرتے ہوئے کیا۔اس کے بعد انہوں نے تہہ دل سے جناب طاہر نوید صاحب(چیئرمین PMA) کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کا انتظام کیا۔ امن صرف بنی نوع انسان کیلئے ہی نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کیلئے ہے۔ پاکستان میں بین المذاہب امن اتحاد کاشعورسب سے پہلے سفیر امن صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے 1996  میں دیا۔جو کہ1990ء کی دہائی میں باطنی حکم (خواب میں) کے تحت شروع کیا گیا جس میں لاثانی سرکار صاحب کو حکم ہواتھا کہ تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ قائد روحانی انقلاب،سفیر امن  صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب کو دل کا مسئلہ ہوا اور جب حالت شدید نازک تھی تو خواب میں حضرت موسی علیہ سلام اور حضرت عیسیٰ علیہ سلام نے اپنی زیارت سے نوازا اور حضرت عیسیٰ علیہ سلام نے کچھ پڑھ کر دل کی طرف پھونکا تو جہاں بھی مسئلہ تھا وہ فوراً ٹھیک ہو گیا اور حالت کافی بہتر ہوگئی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ سلام نے قبلہ لاثانی سرکار صاحب کو فرمایا کہ ''تم جب انڈہ کھایا کرو تو اس کی سفیدی کھایا کرو ،زردی نہ کھایا کرو''۔ نیند سے بیدار ہو کر جب صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے ڈاکٹر صاحبان سے انڈے کی سفیدی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو دل کے مریضوں کیلئے نہایت مفید ہے۔ جس پر جناب لاثانی سرکارصاحب نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ مجھے ابھی خواب میں حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی طرف سے بتا یا گیاہے۔ تو یہ وہ روحانی روابط ہیں جن کی وجہ سے ہمارے دلوں میں اور ہماری روحوں میں صرف باتوں یا تقریروں کی حد تک نہیں بلکہ واقعتا درد دل موجود ہے۔اور یہ سلسلہ سرکار صاحب کی تعلیمات کی بدولت لاکھوں لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ہمارا انسانیت سے بھلائی کا مشن صرف ملک پاکستان میں ہی نہیںہے بلکہ پوری دنیا میںبہت سارے ممالک میں فائونڈیشن اور دوسری تنظیمین رجسٹرڈ ہیںاور اپنی مدد آپ کے تحت انسانیت کی خدمت کیلئے عملی طور پر کوشاں ہیں۔ ہمارا ظاہری مشن یہ ہے کہ دنیامیں امن اور سکون پیدا ہوجائے اور روحانی مشن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولۖ کی خوشنودی حاصل ہوجائے۔ آخر میں ایک شعر عرض کرنا چاہوں گا کہ

       یہی ہے محبت ،یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں