بین المذاہب امن سیمینار۔۔شان حضرت عیسیٰ علیہ سلام

مورخہ 2ستمبر 2015بمقام مدینہ ٹاؤن میں بین المذاہب امن اتحاد کے حوالے سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔جس کی قیادت جناب عزت مآب افتخار اندریاس (بشپ آف ایشیا) نے کی ۔ اس پروگرام میں جناب قبلہ صوفی مسعودا حمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب (چیئرمین بین المذاہب امن اتحاد پاکستان )اور پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی نقشبندی کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی۔ پروگرام کا آغاز خدا کے پاک نام سے کیا گیا ۔جس کے بعد چند مسیحی بھائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور حضرت اماں مریم علیہ سلام کی بارگاہ میں ہدیہ منقبت پیش کیا۔ اتنے میں پنڈال کی فضا ’’اللہ اللہ ‘‘ کی پکار سے گونجنے لگی۔ پتا چلا کہ لائق صد احترام قائد روحانی انقلاب جناب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب پنڈال میں تشریف لا چکے ہیں۔ سفیر امن جناب لاثانی سرکار صاحب کو پھولوں کی مالاپاسٹر رضوان صاحب نے پہنائی۔بشپ افتخار صاحب نے مزید کہاکہ’’میں جناب لاثانی سرکار صاحب کی بین المذاہب کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے بہت متاثر ہوں کہ آپ پاکستان میں محبت اور امن کو فروغ دینے کیلئے جس طرح اپنا کردار ادا کررہے ہیں اسکے لئے بطور بشپ آف ایشیا میں ان کا مداح ہوں۔ مجھے لاثانی سرکار صاحب کی کانفرسز میں شرکت کا موقع ملا ہے اور میں وہاں جا کر جتنا محضوض ہوتا ہوں اور جس طرح خلوص نیت کے ساتھ مجھے وہاں پر لاثانی سرکار صاحب محبت دیتے ہیں اور اظہار شفقت فرماتے ہیں تو میں اکثر کہتا ہوں کہ لاثانی سرکار صاحب کی کنونشن میں کھڑا ہو کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں چرچ میں کھڑا ہوں۔کیونکہ اگر کوئی بھی ہندو،پارسی، مسیحی،بہائی یا کسی بھی مذہب و مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص لاثانی سرکار صاحب کے پاس جا ئے تو اسے آستانہ عالیہ نقشبندیہ چادریہ لاثانیہ پر دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہا جاتا ۔لاثانی سرکار صاحب صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام انسانیت کیلئے ’’لاثانی ‘‘ ہیں۔لاثانی سرکار صاحب کی نسبت پر مجھے سب سے زیادہ فخر اس لئے ہے کیونکہ لاثانی سرکار پر سارے انبیاء علیہ سلام کا سایہ ہے۔لاثانی سرکار صاحب دوسرے مذاہب اور مسالک کے لئے دل میں نہایت نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ لہذا کوئی بھی فرد کسی بھی فرقہ، مسلک یا مذہب کا ملک کے کسی بھی کونہ میں بے یار و مددگار ہواور مشکل میں گرفتار ہوتو لاثانی سرکار صاحب کے زیر سایہ تربیت یافتہٹیم اس کی مدد اور ہمدردی کیلئے وہاں کسی بھی حکومتی یا سماجی ادارے سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔خدا وند کریم لاثانی سرکارصاحب کا سایہ ہم پر ہمیشہ قائم دائم رکھے۔‘‘ اس کے بعد سٹیج سیکرٹری صاحب نے جناب پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی صاحب کو مائک پر دعوت دی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی شان میں کلام عقیدت پیش فرمائیں۔

؂کیا کیا کہوں میں حضرت عیسیٰ کی شان میں

روح اللہ بن کر آئے ہیں وہ جہاں میں 

اس کلام پر تمام حاضرین محفل جھوم اٹھے اور اٹھ کر دھمال ڈالنے لگے۔ اس کے بعد محتر م محمد ریحان نقشبندی صاحب نے لاثانی سرکار صاحب کے روحانی فیوض و برکات اور سماجی خدمات کا مختصراً جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ’’لاثانی سیکرٹریٹ پر لاعلاج امراض سے لوگوں کو شفاء کاملہ عطا ہو رہی ہے جو کہ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی خصوصی عطا کی وجہ سے سے ہے۔اور اس میں مذہب کی قید نہیں ہے۔آپ کے آستانہ کوئی بھر فرد جو کہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہو اپنی دلی مراد پا کر ہی جاتاہے ۔اور لاثانی سرکار صاحب جس کیلئے بھی دعا فرماتے ہیں وہ فوراً پوری ہو جاتی ہیں۔ لاثانی ویلفیئر فاؤنڈیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فاؤنڈیشن کے تحت سینکڑوں ادارے اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر میں چل رہے ہیں۔ اور ان کی وجہ سے مفلس اور نادار بچوں کو تعلیم دے جارہی ہے،بے روزگار کو عزت اور سکون کا روزگار مہیا کیا جارہا ہے اور مختلف آفات ناگہانی سے متاثرہ لوگوں کی فی سبیل اللہ مدد کی جارہی ہے۔ اس کے علاو ہ آپ بھرپور عوامی تعاون کے ساتھ ملکی مسائل کیلئے مکمل جدو جہد فر ما رہے ہیں۔ جن میں دہشت گردی کے خلاف ریلیاں ، ڈینگی سے آگاہی سیمینارز ،زلزلے و سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کیمپس ،فری میڈیکل کمیپس کا انعقاد وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاثانی سرکار صاحب کی بتائی جانے والی پیشن گوئیاں حرف با حرف سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ اور سابق صدرپرویز مشرف صاحب کیلئے آپ کا مشکلات ختم کر کے آسانیاں پیدا فرمانا ، علامہ ڈاکٹرطاہر القادری اور منہاج القرآن کے وفود کو لانگ مارچ کے کامیاب نہ ہونے کی خبر دینا ، نواز شریف اور بے نظیر حکومتوں کا آنا جانا اور آپریشن ضرب عضب کا آغاز اور اس میں حاصل ہونے والی مسلسل کامیابیاں جناب لاثانی سرکا رصاحب کی بتائی جانے والی پیشن گوئیوں میں سے ایک ہیں۔

اس کے بعد سفیر امن، قائد روحانی انقلاب ،شیخ الشیوخ ، مرشد اکمل ،امام الفقراء جناب قبلہ صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے اپنے اختتامی بیان میں پروگرام منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور جناب حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور اماں مریم علیہ سلام کی طرف سے ہونے والی کرم نوازیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور حضرت موسیٰ علیہ سلام کی طرف سے لاثانی سرکار صاحب کے دل میں ہونے والے مسئلے کیلئے دی جانے والی شفاء کا تذکرہ فرمایا۔ نیز آپ نے اپنے بیان میں اس بات پرزور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نبی علیہ سلام کو نہ ماننے والا ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا ۔اور دہشت گردی کرنے اور پھیلانے والے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آستانہ عالیہ پر آنے والے بہت سے مسیحی لوگوں کوحضرت عیسیٰ علیہ سلام نے اپنی زیارت سے نوازا اور فرمایا کہ یہ ہمارا آستانہ ہے یہاں پر حاضر ہوتے رہا کرو۔ اور پاکستا ن کی تاریخ میں بین المذاہب کا قیام سب سے پہلے لاثانی سیکرٹریٹ پر شروع ہوا۔ہر سال بھر پور جوش وخروش سے ۲۵ دسمبر کو ’’یوم ولادت حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور اماں مریم علیہ سلام‘‘ منایا جاتا ہے۔ اور اس محبت اور اخوت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب

عید میلاد النبی ﷺ کی محافل چرچ میں منائی جانے لگی ہے۔اور میں سچا مسلمان اور سچا مسیحی اسے مانتا ہوں جوتمام انبیاء کرام علیہ سلام سے محبت رکھے اور ان کا ادب کرے۔اور اگر کوئی بھی یہ کہتا ہے کہ میں فلاں نبی کونہیں مانتا تو گستاخی وہیں سے شروع ہوتی ہے اور انبیاء علیہ سلام اس سے راضی نہیں ہوتے۔سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہ سلام ہماری گواہی دے رہے ہیں کہ یہ آستانہ ہمارا آستانہ ہے ۔

اور اسی نظریے کے پیش نظر ہم تمام لوگوں کے ساتھ اخلاق اور محبت سے پیش آتے ہیں جس کی وجہ سے تمام مسالک اور مذاہب کے لوگ ہمارے ساتھ ملتے جارہے ہیں۔ہم آپ سب کے نہایت مشکور ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور اسکے نیک اور صالح بندوں کی محبت اور 

قرب عطا فرمائے ۔ آمین !