نظریہ اہلسنت کانفرنس- سرگودھا

مورخہ 12ستمبر بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء جامع مسجد شہداء سٹی سٹاپ سرگودھا میں پاکستان سنی تحریک سرگودھا کی جانب سے دوسری سالانہ نظریہ اہلسنّت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت پیر طریقت ،رہبر شریعت ،جانشین امیر ملت ،عالمی مبلغ اسلام الحاج صاحبزادہ منور حسین شاہ جماعتی صاحب (سجادہ نشین آستانہ عالیہ امیر ملت علی پور سیداں شریف نارووال) نے کی،دیگر مہمانان گرامی میں حضرت مولانا صاحبزادہ پیر فیض الحسن شاہ صاحب (سکھیکی)،صاحبزادہ حضرت علامہ غلام فرید الدین سیالوی صاحب (جھنگ)،حضرت علامہ محمد قمر ظہور ترابی صاحب،حضرت عبد الرحمن قادری صاحب،حافظ محمد ارسلان صاحب ،حضرت صوفی محمد عرفان نقشبندی صاحب،جناب قاری محمد سلیمان نقشبندی صاحب ،جناب چوہدری محمد عارف ڈھونڈا نقشبندی صاحب ،جناب قاری محمد ظہیر نقشبندی صاحب، جناب محمد رمضان نقشبندی صاحب(نقیب پاکستان)، حاجی محمد اکرم نقشبندی صاحب سلانوالی و دیگر نے شرکت کی۔ قائد روحانی انقلاب، شیخ الشیوخ ،سفیر امن ،پیر طریقت ،رہبر شریعت جناب صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار (امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان، چےئرمین لاثانی ویلفےئر فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ) انٹرنیشنل، چےئرمین بین المذاہب امن اتحاد پاکستان) کے فرزند اکبر جناب پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی نقشبندی صاحب (مرکزی کوآرڈینیٹر تنظیم مشائخ عظام پاکستان، اوورسیز کوآرڈینیٹر لاثانی ویلفےئر فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ) انٹرنیشنل ) کی اس موقع پر خصوصی آمد بھی ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب قاری الطاف حسین چشتی صاحب نے کی۔ نقابت کے فرائض جناب فیاض حسین تارڑ صاحب اور جناب محمد رمضان نقشبندی صاحب نے ادا کئے ۔تلاوت قرآن پاک کے بعد حضور آقائے کل حضرت محمد ﷺ کی بارگاہ میں نعت شریف کا ہدیہ پیش کیا گیا ۔اور پھر مقررین نے اپنے اپنے انداز میں نظریہ اہلسنّت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔صاحبزادہ پیر طریقت شبیر احمد صدیقی نقشبندی صاحب نے اپنے خوبصورت اور پرکشش انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نظریہ اہلسنّت دراصل تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا دوسرا نام ہے۔یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ شان مصطفی ﷺ کا بیان کرنا اور اس کی تقلید کرنا، ذات مصطفی ﷺ میں فنا ہو جانا،سیرت مصطفی ﷺپر عمل کرنااور نام مصطفی ﷺ پر قربان ہو جانا نظریہ اہلسنّت ہے۔وہی نظریہ امام العاشقینؓ، مظہر ذات مصطفیﷺ، وارث مصطفیﷺ، آئینہ مصطفیﷺحضور سیدنا صدیق اکبر235 کا تھا اور ہے، سیدنا فاروق اعظم235، سیدنا عثمان غنی235،سیدنا مولا علی235، پھراہل بیتؓ اور صحابہ کرام ؓ کو جو نظریہ تھا وہی نظریہ اہلسنّت ہے۔اور ہم پر لازم ہے ہم ان ہستیوں سے محبت کریں اور ان کی اطاعت کریں تاکہ اس نظریے کا تسلسل صدیوں تک جاری و ساری رہے۔

اس کے بعد پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی صاحب نے آیت قرآنی ’’وما ارسلنک الا رحمتہ اللعالمین‘‘ پڑھی اوراس کی تشریح پیش کی، آپ نے کہا ’’میرے نزدیک اس کی تشریح کچھ اس طرح ہے اور یقیناًاس سے پہلے آپ نے یہ تشریح نہیں سنی ہو گی ۔میں نے جو آیت قرآنی پڑھی اس کا ترجمہ غور طلب ہے کہ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے (آپ ﷺ کو) مگر رحمت العالمین بنا کر‘‘ اصل میں یہاں پر بات تو حضور ﷺ کی شان و عظمت کی ہو رہی ہے۔لہٰذا میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اکثر علماء کرام اس آیت کا ترجمہ ایسے کرتے ہیں کہ حضور ﷺ رحمت اللعالمین بن کر اس دنیا میں تشریف لائے آپ ﷺ کو اللہ جل شانہ نے رحمت بنا کر پوری شان و شوکت کیساتھ سارے عالمین کیلئے بھیجا ہے،جو کچھ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا آپ ﷺ اس کیلئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ بیشک یہ بات برحق ہے۔ فقط اسی بات کو انتہا نہ سمجھا جائے یہ بات تو اس لامکاں کے شہنشاہ، آئینہ خدا کی ابتدا ہے۔ ہماری فہم و فراست ہمیں یہ کہتی ہے کہ آقائے کل حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان و عظمت ، کبریائی اور جاہ و جلال، بحیثیت آئینہ خدا ہونے کے بہت زیادہ ہے جسے بشر، نباتات، موجودات، عرش و فرش اور مکاں و لامکاں برداشت نہیں کرسکتے تھے، اس لیے اللہ رب العزت نے اپنے حبیبﷺ کو رحمت اللعالمین کا لبادہ پہنا کر بھیجا ہے تاکہ عرش و فرش وجودِ مصطفیﷺ کو وصول کر کے برداشت بھی کر سکیں، ہمارے آقاﷺ بہت سے پردوں میں اس دنیا میں تشریف لائے ہیں اور اگر حضورﷺ اپنی پوری آب و تاب کیساتھ جلوہ گر ہوتے تو اللہ کی قسم کوئی بھی اس کائنات میں آپﷺ کا وہ جلوہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ابھی اگر سورج ہی سوا نیزے پر آجائے تو قیامت کی نشانی ہے کہ سب کچھ تباہ و بربا د ہو جائے گا اور جو سورج محمد مصطفیﷺ کے قدموں کی دھول کی وجہ سے روشن ہے تو خود حضورﷺ کی کیا شان ہو گی اور اگر آپﷺ اپنی کلی تخلیق پر اس کائنات میں تشریف لاتے تو کیا ہوتا ،یقیناًکوئی بھی وہ نور برداشت نہیں کر سکتا تھا،ہمارا تو وجدان یہ کہتا ہے کہ رحمت اللعالمین سے تو حضور ﷺ کی شان کا آغاز ہے، جسے کچھ لوگ انتہا کہہ رہے ہیں۔ ہمارے آقاﷺ کی شان تو اس سے بہت آگے ہے۔ حضور پاک ﷺ کی شان کے متعلق یہ ہمارا نظریہ ہے اور یہی نظریہ اہلسنّت ہے۔

عالمی امن اور اسلام کی حقیقی روح کے متعلق بیان کرتے ہوئے پیر طریقت جناب صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی صاحب نے کہا کہ تمام مذاہب و مسالک کو ساتھ لیکر چلنے میں عالمی امن کی ضمانت ہے اور ہمارے آقا و مولا ﷺ، اہل بیتؓ ،خلفاء راشدینؓ ، صحابہ کرامؓ اوربزرگان دین نے جو نظریہ اور پیغام امن ہمیں دیا وہی نظریہ اہلسنّت ہے۔ موجودہ دور میں نظریہ اہلسنّت کو حقیقی معنوں میں تقویت دینے والی عظیم روحانی شخصیت کے بارے میں آپ نے کہا کہ امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان ،چےئرمین بین المذاہب امن اتحاد پاکستان اور چےئرمین لاثانی ویلفےئر فاؤنڈیشن (رجسٹرڈ) انٹرنیشنل قائد روحانی انقلاب، شیخ الشیوخ، سفیر امن جناب صوفی مسعود احمد صدیقی المعرو ف لاثانی سرکار صاحب اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نظریہ اہلسنّت کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ آپ کی تعلیمات اور فیوض و برکات کی وجہ سے ہزاروں مسیحی اور دیگر مذاہب عالم کے ہزاروں لوگ دین اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ تیز ی سے جاری و ساری ہے۔ تنظیم مشائخ عظام پاکستان جو اس وقت روئے زمین کی سب سے بڑی مشائخ کی جماعت بن چکی ہے، آپ صدیقی لاثانی سرکار اس کے امیر ہیں اور اس تنظیم میں تمام سلاسل طریقت کے ہزاروں مشائخ عظام، صاحبزادگان، سجادگان اپنے خلفاء سمیت شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ تنظیم نظریہ اہلسنّت کو لیکر فروغِ اسلام و فروغِ امن کیلئے شب و روز اپنے قائد صدیقی لاثانی سرکار کے ساتھ علم جہاد بلند کئے ہوئے ہے۔ یہاں ایک قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ عوام اہلسنّت تو چاہتے ہیں کہ ہم سب مل کر استحکام پاکستان کیلئے کوششیں کریں مگر افسوس رہنما اہلسنّت یہ نہیں چاہتے کہ ہم سب ملکر چلیں۔ ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے اور جب سنی تحریک نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تو بہت خوشی ہوئی کہ ہماری سوچ کی عکاسی کرنے والے ابھی موجود ہیں اور مختلف سلاسل کے مشائخ کو اس کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔

شرکاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی صاحب نے کہا کہ اپنی نیتیں درست کرکے اللہ کی بندگی کریں، جس میں دکھاوا نہ ہو، حضور نبی کریمﷺ کی اطاعت کریں، اتباع کریں اور کسی ولی کامل کے دست حق پر بیعت ہو کر اسلام کی خدمت کریں۔ پروگرامز، کانفرنسز اور محافل میں آ نے کا حقیقی مقصد تو یہی ہے کہ حضورﷺ سے محبت بڑھے، روحانی تسکین ہو اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روحوں کو طاقتور بنائیں، اپنے دلوں کا منور کریں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہوا کہ ،’’پس اللہ جسے گمراہ کرے ،تو اس کاکوئی ولی مرشد نہ پاؤ گے‘‘۔ ارشاد ہو ا،’’اس کی پیروی کر، اطاعت کر جس نے اپنا دل میری طرف پھیر رکھا ہے‘‘۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جو بندگان خدا ہیں اللہ خود انکی پیروی اور بیعت کا حکم فرما رہے ہیں۔ یعنی جہاں اللہ کے کامل بزرگوں کو پاؤ تو ضرور انکی تعلیمات سے مستفیض ہو جاؤ اوران کے نور سے اپنے دلوں کو منور کر لو۔

ہمارے پیر و مرشد صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار جو آقاو مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نائب ہیں، باطنی خلیفہ ہیں۔ہم یہ باتیں اس لیے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ باتیں کہنے کی اجازت بھی ہے۔ اولیاء کی بھی مختلف اقسام ہیں، جیسے کچھ اولیاء کرام کو ساری زندگی ہی نہیں پتا چلتا کہ وہ ولی ہیں۔ ان کو صرف قیامت کے دن پتا چلے گا کہ ہم تو اللہ کے ولی ہیں۔اور ایک قسم وہ ہے جن کو دنیا میں نہیں پتا ،لیکن قبر میں جاتے ہی پتا چل جائے گا ۔اور ایک وہ ہیں جن کو دنیا میں بھی پتا ہے کہ وہ اللہ کے ولی ہیں۔اور ایک قسم ایسی ہے جن کو حکم ہے کہ دنیا کو بتاؤ کہ تم اللہ کے ولی ہو۔جس طرح حضور غوث الاعظم سرکارؒ نے فرمایاکہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔یہ ایسا دعویٰ ہے جس کی انہیں اللہ رب العزت کی طرف سے کہنے کی اجازت تھی ۔ اسی طرح امیر ملت سرکار محدث علی پوری ؒ نے حاضر ناظر، علم غیب اور نور و بشر کا مسئلہ صرف تین منٹ میں ہزاروں کے مجمع میں ثابت کیا تھا۔کیونکہ ان کو ایسا کرنے کی اجازت تھی۔یہ فقر کہ باتیں ہیں جس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ ’’فقر مجھ سے ہے، میں فقر سے ہوں اور فقر میرا فخر ہے‘‘۔ ہمارے دادا مرشد حضرت سید ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ نے بھی یہی اعلان فرمایا تھا کہ سارے مسالک اکٹھے کرو اور مجمع اکٹھا کرو ،میں بھی اپنے مرشد کی طرح حاضر و ناظر، علم غیب اور نورو بشر کا مسئلہ صرف تین منٹ میں ثابت کروں گا جی۔اور یہی معاملہ ہمارے پیر ومرشد صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار کا بھی ہے۔ آپ کی بے شمار ایسی کرامات ہیں کہ جن کی سمجھ ہمیں آہی نہیں سکتی ہے۔ہمارے پردادا مرشد امیر ملت سرکار ؒ نے یہی فرمایا تھا کہ کرامت کہتے ہی اس کو ہیں جو سمجھ میں ہی نہ آئے، عقل سے ماوراء ہو ۔

آ پ صدیقی لاثانی سرکار کو 1993 ء میں خود حضور نبی کریم ﷺ نے بشارت دی کہ کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص صرف ایک ماہ تمہارے ہاتھ پر بیعت اختیار کر لے تو صرف ایک ماہ کے اندر اندر اسے میں راہ حق کی تصدیق کروا دوں گا۔ تو آپﷺ کے حکم پر صدیقی لاثانی سرکار نے یہ اعلان کیا ہو ا ہے اور اب تک کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جسے ایک ماہ میں راہِ حق کی تصدیق نہ ہوئی ہوالحمد اللہ ۔ اس اعلانِ عام کے بعد لاکھوں لوگ انبیاء کرامؓ ، خلفاء راشدینؓ ،صحابہ کرامؓ اور بزرگان دین کی زیارت و دستگیری سے مستفیض ہوکر روحانی تسلی کر چکے ہیں اور اب بھر پور محبت و ادب کیساتھ راہِ حق (یعنی اللہ رب العزت کی سچے دل سے بندگی اور رسول اعظمﷺ اور اہل بیت و صحابہ کرامؓ سے سے والہانہ محبت اور ان کی اطاعت کی جانب گامزن ہیں۔آپ صدیقی لاثانی سرکار کا سلسلہ عالیہ میں داخل ہونے والوں کیلئے پہلا پیغام ہی یہی ہو تا ہے کہ نماز کی پابندی کیساتھ ساتھ جھوٹ ،بہتان ،رزق حرام اور اولیاء اللہ کی گستاخی سے پرہیز کرنا ہے اور دن میں کم از کم ایک مرتبہ روحانی طور پر بتائے گئے طریقے سے حضور مختار کل حضرت محمد مصطفی ﷺ پر درود و سلام کے نذارنے پیش کرنے ہیں۔ 

پھر خطاب کے آخر میں پیر طریقت صاحبزادہ شبیر احمد صدیقی صاحب نے ملک و قوم کیلئے دعا فرماتے ہوئے خوشخبری د ی اور کہا کہ جس طرح صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کی سابقہ دی جانے والی روحانی و سیاسی پیش گوئیاں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہیں ،اسی طرح موجودہ حالات کے پیش نظر دہشت گردوں، شر پسند اور کرپٹ عناصر کے خاتمے کے متعلق دی جانے والی پیش گوئی بھی انشاء اللہ سچ ثابت ہو گی۔آپ صدیقی لاثانی سرکار کے مطابق تمام شر پسند اور کرپٹ عناصر کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے، انکی ذلت و رسوائی شروع ہو چکی ہے، ان کے آپس کے اختلافات ان کے اتحاد کو کمزور کر دیں گے اور بہت جلد یہ شر پسند عناصر نیست و نابود ہو ں گے۔انشاء اللہ 

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی نیتیں درست کرکے اللہ و رسولﷺ کی راہ پر چلیں۔یہی احسان عظیم اس ذات کا ہم پر بہت ہے کہ ایک تو ہمیں اپنے حبیبﷺ کا امتی بنایا، صحیح عقیدہ عطا فرمایا اور پھر اپنے حبیب فقیر کے وسیلہ سے اپنے حبیب اعظمﷺ سے ملایا۔اللہ و رسولﷺ ہمارے حامی و ناصر ہوں آمین ثم آمین!