کسی شخص پر اللہ کے فقیر کی ایک نظررحمت کاہوجاناہے روئے زمین پر انعامات ربانی میں سے سب سے بڑا انعام ہے۔صوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکار

فیصل آباد ( )دورحاضرکے عظیم روحانی پیشوا،وارثِ فقرصوفی مسعوداحمدصدیقی لاثانی سرکارکی صدارت میں لاثانی سیکرٹریٹ پر ہفتہ وارروحانی تربیتی نشست ومحفل پاک ذکرونعت بسلسلہ عرس مبارک امیر ملت پیر سیدجماعت شاہ صاحب ؒ منعقد ہوئی،آپ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کاسب سے بڑا انعام اس کے فقراء(وارثین انبیاء ،مومن مقربین) سے محبت ہے اوریہ برگزیدہ ہستیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے تمام خزانوں میں سب سے بڑا اس کے فضل کاخزانہ ہے اورجن پر یہ فضل ربانی ہوجاتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے فقراء کی خدمت پر مامورکردئیے جاتے ہیں،اللہ تعالیٰ کے فقراکے خادم محبوب سبحانی جیسے اعلیٰ مقام ومرتبہ سے نوازے جاتے ہیں،یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جس پرقیامت کے دن ولایت کبریٰ کے درویش بھی رشک کریں گے ۔کسی شخص پر اللہ کے فقیر کی ایک نظررحمت کاہوجاناہے روئے زمین پر انعامات ربانی میں سے سب سے بڑا انعام ہے،جہاں باقی انعامات،عطاؤں اورکرم نوازیوں کی انتہاہوتی ہے وہاں سے فقیرکی نظرمحبت کی ابتداء ہوتی ہے ،اس نظرمحبت کے فیو ض وبرکات جنت میں بھی مسلسل جاری وساری رہتے ہیں،یہ کبھی نہ ختم ہونیوالا سلسلہ ہے۔ فقرکی ابتدایہ ہے کہ فقیر کاوجود مسعودعرش الہٰی پرجب پہنچتاہے تو عرش الہٰی بھی خوش ہوجاتاہے۔فقیر کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں محبوبیت کودیکھتے ہوئے عرش الہٰی بھی خوشی اورفخرکااظہار فرماتاہے۔جومرشد کے قدموں تک پہنچ جاتاہے وہ ان قدموں کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس تک پہنچ جاتاہے۔صدیقی لاثانی سرکارنے مزید کہا کہ فقراء کی شان کوبڑے بڑے محبوب اولیاء بھی سمجھنے سے قاصرہیں۔جومرشد کے قدموں تک پہنچ گیا وہ ان قدموں کاصدقہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں منظورومقبول ہوگیا، فقراء چونکہ ازلی اورابدی طورپر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں منظورومقبول ہوچکے ہوتے ہیں،اس لئے جو لوگ ادب اورمحبت سے ان کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں توایسے لوگ ادب کرنے کی بدولت سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں بھی منظورومقبول ہوجاتے ہیں۔ جواللہ تعالیٰ کے فقراکی نظرمحبت کونہیں سمجھ سکتے وہ اللہ ورسولﷺ کے مقام ومرتبے کوکیاسمجھیں گے؟،ہرگزنہیں سمجھ سکتے!اس بابرکت محفل پاک میں شرکائے محفل کیلئے لنگر شریف کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ، اختتام پرملک وملت کی سلامتی اوراستحکام کیلئے خصوصی دعاکی گئی۔