اولیاء کاملین کی نظر میں

 *۔۔۔محمد اشرف صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ نے جھنڈا عطا فرمایا اور اسے پہاڑ چوٹی پر لگانے کا حکم فرمایا تو اس کے تقریباً پندرہ دن بعد حضرت پیر ان پیر سید عبد القادر جیلانی بغدادی ؒ نے بذریعہ خواب اپنی زیارت کا شرف بخشا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑی محفل ہے اس میں حضرت غوث الاعظم سرکار ؒ تشریف فرما ہیں ۔ آپ نے فرمایا :

’’ہم لاثانی سرکار کی شان اس جھنڈے کی طرح اونچی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جو ہمارے آقا حضرت سیدنا محمد ﷺ نے انہیں عنایت فرمایا تھا‘‘۔

*۔۔۔محمد یا مین ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عالم رویاء میں اپنے پیرو مرشد کی شان کا یوں مشاہدہ کیا کہ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ اور حضرت دستگیر اعظم عبد القادر جیلانی ؓ تشریف لائے اور باری باری میرے آقا حضرت لاثانی سرکار کی تاج پوشی کی ۔ 

*۔۔۔عامر حمید ( شاہدرہ ، ٹاؤن لاہور ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت ہی نورانی بزرگ ہستی ہمارے گھر تشریف لائے ۔ا ن کے تشریف لاتے ہی کمرے میں چاروں طرف خوشبو بکھر گئی ۔ میں حیران ہوتا ہے اور سوچتا ہوں کہ یہ کون بزرگ ہیں ۔ ان بزرگ نے میرے دل میں پیدا ہونے والی سوچ کو پڑھ لیا اور ارشاد فرمایا ۔ 

’’ہم حضرت غوث الا عظم عبد القادر جیلانی ؒ ہیں اور تمہیں یہ بتانے کیلئے آئے ہیں کہ جس در سے تمہاری نسبت ہے وہ ہمارا درہے ۔وہ سچ اور حق در ہے اسے چھوڑنا نہیں ۔‘‘

اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں بہت خوش ہو تا ہوں گھر والوں کو بتاتا ہوں کہ آج تو میرے آقا کی شان کی گواہی خود ولیوں کے سردار حضرت پیر انِ پیر غوث الا عظم ؒ دے کر گئے ہیں ۔ 

*۔۔۔ عبد القدیر صاحب ( کالونی نمبر ۳، خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کی زیارت ہوئی آپ ؒ نے فرمایا ہم نے لاثانی سرکار کو بہت سے اختیارات سے نوازا ہے اور آج کے دور کے شہنشاہ ہیں ۔ 

*۔۔۔محمد اعظم وحید نقشبندی ( منصور آباد، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت داتا صاحب ؒ نے اپنی زیارت سے نوازااور فرمایا ’’جہاں ہم ہیں وہاں لاثانی سرکار بھی ہوتے ہیں اور جہاں لاثانی سرکار ہیں وہاں ہم بھی ہوتے ہیں ‘‘ اور ایک مرتبہ فرمایا ’’تمہارے داتا لاثانی سرکار ہیں‘‘۔

*۔۔۔گلزار صاحب ( لاہور ) بیان کرتے ہیں کہ میں داتا صاحب کے دربار پر گیا وہاں میں نے مشاہدہ کیا کہ میرے پیچھے کوئی آدمی کھڑا ہے اور داتا صاحب ؒ اس سے فرما رہے ہیں ابھی تیری تسلی نہیں ہوئی تجھے کہا نہیں کہ ’’آج کا جو تمغہ ہے لاثانی سرکار کے پاس ہے ۔‘‘ 

*۔۔۔جاوید صاحب ( شاہدرہ لاہور ) بیان کرتے ہیں کہ میرے پیر و مرشد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت امام بری سرکار کی زیارت با برکت سے نوازا ۔ آپ بہت سے لوگوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور مختلف اولیاء کرام کی شان کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں ۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور آگے بڑھ کر عرض کی حضور ! ’’ میرے پیرو مرشد لاثانی سرکار ‘‘ میں نے ابھی صرف اتنے ہی الفاظ زبان سے ادا کئے تھے کہ آپ سرکار نے فوراً ہی فرمایا ’’سبحان اللہ !سبحان اللہ ! ، ماشاء اللہ لاثانی سرکار کی تو کیا ہی بات ہے بہت اونچے بزرگ ہیں وہ بڑی ہستی ہیں ۔‘‘

*۔۔۔محمد ناصر صاحب ( بٹالہ کالونی ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ عالم رویاء میں میں نے دیکھا کہ میں کسی جگہ کھڑا ہوں اور اپنے آقا کے لطف و کرم کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہوں کہ اتنے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ تشریف لاتے ہیں اور آپ نے ارشاد فرمایا ’’ تیری سرکار دیاں شاناں نرالیاں نے ایناں نوں کوئی نہیں سمجھ سکدا ‘‘ ۔ میں فوراً کہتا ہوں بے شک ، بے شک میرے آقا کی شان کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا ۔

*۔۔۔محمد معصوم صاحب ( لاہور )بیان کرتے ہیں ۔ خواب میں حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کی زیارت ہوئی ۔ بہت سے لوگ آپ کے دربار پر حاضر ہیں اور پکار پکار کر عرض کرتے ہیں بابا جی ہماری دستگیری کریں ہم پر کرم کریں ہمیں اپنے فیض سے نوازیں لیکن بابا صاحب خاموش تشریف فرما ہیں اتنے میں میں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر عرض کرتا ہوں کہ بابا جی گدائے اولیاء آپ کے دربار پر حاضر ہے اور کرم کا خواستگار ہے لاثانی سرکار سے نسبت ہے ۔میرا اتنا عرض کرنا تھا کہ بابا جی کا خدمت گزار با آواز بلند کہتا ہے ۔ 

’’مبارک ہو ، مبارک ہو با با جی نے سب کو اپنے کرم سے نواز دیا ‘‘۔ صبح جب میری آنکھ کھلی تو مجھے رات کا خواب یا د کر کے بہت خوشی ہوئی کہ میرے قبلہ کی بارگاہ اولیاء میں اتنی مقبولیت ہے۔

*۔۔۔عارفہ افضل صاحبہ ( نثار کالونی ، فیصل آباد ) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ تشریف لائے اور مجھے کہنے لگے کہ تم لاثانی سرکار کی مرید ہو۔ میں نے عرض کی جی ہاں تب وہ بزرگ مجھے آسمانوں پر لے گئے اور فرمایا وہ تمہارے مرشد کا آستانہ ہے ۔ میں نے دیکھا کہ آستانہ عالیہ ستاروں کی مانند چمک رہا ہے ۔ میں نے جب پیرو مرشد کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب عرض کیا اور حیرت سے پوچھا سرکار آسمانوں پر گھر ہونے کا کیا مطلب ہے ۔ تو آپ نے فرمایا :

’’درویش کا ایک گھر ( آشیانہ ) زمین پر ہو تا ہے اور ایک آسمانوں پر اور اسی طرح درویش کا ایک نام زمین پر ہوتا ہے اور ایک نام آسمانوں پراور بارگاہ رسالت مآب ﷺ ،فرشتوں اور بزرگان دین کے ہاں یعنی روحانی دنیا میں وہ اسی نام سے پکارا جاتا ہے ‘‘۔

اسی طرح ایک رات پیرو مرشد کی کرم نوازی سے حضرت داتا صاحب ؒ نے اپنی زیارت پاک سے نوازا اور فرمایا :

’’جس در پر تم لگے ہو پکے ہو کر لگے رہنا یہ در با لکل حق ہے ‘‘۔

*۔۔۔محمد یامین صاحب ( خانیوال) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت داتا صاحب ؒ کے دربار پر حاضر ی دی ۔ مراقبہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا :

’’تم اپنے پیرو مرشد لاثانی سرکار کے پاس جاؤ ۔ تمہیں سب کچھ و ہیں سے ملے گا‘‘۔

*۔۔۔سمیرا رفاقت ( قائد آباد ، ضلع خوشاب ) بیان کرتی ہیں کہ راہ طریقت میں سالک کیلئے مرشد کی تقلید انتہائی ضروری ہے اور سالک کا امام اس کا مرشد ہو تا ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے ۔ 

’’قیامت کے روز ہم ہر گروہ کو اس کے امام کی طرف سے بلائیں گے ‘‘۔(بنی اسرائیل ۔۷۱)

ایک مرتبہ عالم رویا ء میں ایک مجلس پاک دیکھی جس میں عام لوگوں کے علاوہ اہل سلسلہ علماء کرام اور اولیاء کرام ؒ بھی تشریف فرما ہیں ۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ اور قبلہ لاثانی سرکار بھی اس محفل پاک میں تشریف فرما ہیں ۔ حضرت امام ابو حنیفہؓ نے لاثانی سرکار کی طرف اشارہ کر تے ہوئے تمام اہل سلسلہ سے مخاطب ہو کر فرمایا :

’’تمہارے امام یہ ( لاثانی سرکار ) ہیں ‘‘۔

*۔۔۔محمد وسیم ( علامہ اقبال کالونی ، فیصل آباد ) کہتے ہیں کہ خواب میں حضرت داتا صاحب ؒ کی زیارت ہوئی آپ نے پیرو مرشد لاثانی سرکار کے آستانہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ’’ یہ ہمارا در بار ہے ، کوئی ہمارا فیض لینا چاہتا ہو تو لاثانی سرکار کے در سے بھی فیض لے سکتا ہے ۔‘‘ 

*۔۔۔راشد صاحب (نثار کالونی ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ 1993ء کاواقعہ ہے کہ باذن الٰہی مرشد پاک لاثانی سرکار مری تشریف لے کر گئے یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دوران سفر ہم گنہگاروں (راشد صاحب ، رانا طاہر صاحب ) کو آپ کی رفاقت نصیب ہوئی ۔وہاں پر ہم نیو مری میں حضرت بابا لال حسین شاہ قلندری سوراسی بیابانی ؒ کے دربار اقدس پر تشریف لے گئے جب ہم وہاں پہنچے تو آپ نے بذریعہ کشف میں ہمیں بتایا کہ یہ درویش حقیقت کے شہنشاہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا حضرت (لال حسین شاہ صاحب ) اپنے کسی خاص مرید سے ہماری ملاقات کروائیں ۔ سرکار نے مزار شریف پر چادر چڑھائی اور نذرانہ بھی دیا ۔ اس کے بعدحضرت قبلہ لاثانی سرکار نے قبر مبارک کے پاس بیٹھ کر مراقبہ کیا جب ہم مزار مبارک سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک انتہائی بزرگ آدمی بڑی مشکل سے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے مزار کی طرف آ رہے ہیں اور سرکار جی کو آوازیں دے رہے ہیں ۔ ( مزار اقدس پہاڑ پر بنا ہوا ہے )جب وہ بزرگ ہمارے قریب آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ بہت خوش تھے اور سرکار سے عرض کی حضور آپ یہاں تشریف رکھیں ابھی چائے کا لنگر لے آتا ہوں ۔ انہوں نے عرض کی کہ سرکار آپ حضرت لال حسین شاہ صاحب ؒ کے مہمان ہیں ۔ میں بہت خوش اور حیران ہوں کہ جب سے میرے مرشد پاک نے پردہ فرمایا آج پہلا موقع ہے کہ میں نے اپنے مرشد پاک کی آواز مبارک سنی ۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’بیٹا فیصل آباد سے جو بزرگ آئے ہیں انہیں رو کو اور ان کی خدمت کرو ‘‘۔

انہوں نے ہمیں کہا کہ میں ٹھیک طرح چل نہیں سکتا لیکن خوشی کہ وجہ سے بھا گا ہوا آیا کہ آج ضرور بڑی ہستی تشریف لائی ہے جن کی خدمت کا مجھے پیرو مرشد نے حکم فرمایا ۔ 

*۔۔۔ظہور صاحب (خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں سید نواز شاہ صاحب رہتے تھے ۔ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سید صاحب تشریف لائے میر اماتھا چوما اور فرمایا سبحان اللہ ! ہمیں ہمارے مرشد کی طرف سے حکم ملا کہ لاثانی سرکار کے غلا م سے مل کر آؤ ۔ 

*۔۔۔ظہور صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی راستے میں چلا جارہا ہوں کہ میرے پیچھے کوئی آ رہا ہے ۔ میں بھاگنا شروع کر دیتا ہوں پیچھے سے آواز آتی ہے کہ رک جاؤ ۔ میں رک جاتا ہوں تو ایک بزرگ تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں ہم معین الدین چشتی اجمیری ؒ ہیں ۔ میں فوراً ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ خواجہ صاحب مجھ سے فرماتے ہیں’’ہم تو تمہیں نوازنے آئے تھے کہ تم لاثانی سرکار کے غلام ہو ‘‘۔ میں بہت خوش ہو تا ہوں کہ آج اپنے قبلہ لاثانی سرکار کے وسیلہ سے خواجہ صاحب نے مجھے اپنی زیارت پا ک سے نوازا او ر میرے مرشد پاک کی شان سے بھی آگاہ فرمایا ۔ 

*۔۔۔محمد اشتیاق صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کے قریب پاکپتن سے ایک بزرگ تشریف لائے تھے ۔ انہوں نے بیس سال سے بابا فریدؒ کے آستانہ عالیہ پر ڈیرہ ڈال رکھا تھا ( خدمت کرتے تھے ) ایک دن میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا میں پاکپتن شریف جا رہا ہوں ۔ تم مجھے چادر دے دو(ان دنوں سردی بہت تھی) میں نے انہیں اپنی چادر دے دی اگلے دن مجھے خواب میں بابا فریدؒ اور لاثانی سرکار کی زیارت ہوئی آپ ( بابافرید ؒ ) نے فرمایا :

’’تم دو نفل شکرانے کے پڑھو ‘‘۔

اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں وضو کر کے دو نفل شکرانے کے ادا کرتا ہوں ۔ تھوڑی دیر بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ میری چادر لئے دروازے پر کھڑے ہیں اور مجھ سے کہنے لگے ۔ سبحان اللہ !مرشد کے صدقے آج بیس سال بعد بابا فرید ؒ نے اپنی زیارت سے نوازا ۔اور فرمایا کہ جس سے چادر لے کرآئے ہو اس سے کہہ دو کہ ’’ دو نفل شکرانے کے پڑھیں ‘‘۔ تب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے بھی آج میرے مرشد کے صدقہ بابا فریدؒ نے اپنی زیارت با برکت سے نوازا اور پہلے ہی حکم فرمادیا ۔ 

*۔۔۔ محمد یا مین صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ جب سے میری آقا سے نسبت ہوئی بہت سے درویشوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے میرے آقا کی شان کے بارے میں بتایا اور نصیحتیں کیں ۔ یہاں صرف ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ 

ایک مرتبہ میں فیصل آباد شریف آستانہ عالیہ پر اپنے پیرو مرشد سخی سلطان حاجی صو فی مسعود احمد صدیقی لاثان سرکار صاحب کی زیارت کیلئے خانیوال سے چنا ب ایکسپریس پر سوا ر ہوا ۔ جس ڈبے میں سوار ہوا وہاں ایک مجذوب تشریف فرما تھے۔ جب میں نے ان کی زیارت کی تو ان کی پیشانی سے نور کی کرن نکلتی محسوس ہوئی اور میں سمجھ گیا کہ یہ کوئی درویش ہیں ۔ انہوں نے مجھے غور سے دیکھااور فرمایا ’’تم لاثانی سرکار کے مرید ہو اور اب آستانہ عالیہ پر حاضری دینے جا رہے ہو‘‘ میں نے عرض کی جی ہاں تو انہوں نے مجھ سے فرمایا تم بہت خوش قسمت ہو کہ تمہاری نسبت ایسے ولی اللہ سے ہے جو موجود ہ وقت کے سردار ہیں ۔ لاثانی سرکار میرے بھی آقا ہیں اور میں اکثر ان کے حضور حاضر ہو تا ہوں پھر انہوں نے مجھے نصیحت فرمائی ۔ 

’’میری ایک بات یاد رکھنا ۔ اس در پر لگے رہنا چاہے کچھ بھی ہو جائے ‘‘۔

جب میں فیصل آباد شریف سٹیشن پر اترا تو انہوں نے مجھے سینے سے لگایا اور فرمایا تم قبلہ لاثانی سرکار سے میرا بھی سلام عرض کرنا۔ 

اسی طرح خانیوال میں ایک مرتبہ ایک مجذوب بزرگ کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے میرے پیرو مرشد کے متعلق ارشاد فرمائیں تو انہوں نے مجھ سے کہا ۔ 

’’تمہارے پیرو مرشد کی یہ شان ہے کہ رب سے ملا دیتے ہیں اور آج جس طرح کا فیض ان کے در سے جاری ہے وہ کہیں نہیں ۔ ان کے مریدوں کو تو سنبھالنا ہی نہیں آتا۔ 

اور میں دل ہی دل میں عرض کرتا رہا کہ یہ بزرگ کتنا درست فرما رہے ہیں ۔ میں خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے دکھایا گیا میرے آقا اولیاء کرام کی نظر میں کتنے محبوب ہیں ۔ 

*۔۔۔پیرمحمد افتخار ( قاضی پارک ، لاہور) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دوکان پر بیٹھا تھاکہ ایک بزرگ میرے پاس آئے وہ بار بار ’’ علی شہباز قلندر ؒ ‘‘کا نعرہ لگا رہے تھے میں نے انہیں اندر دوکان میں لے جاکر بٹھایا ۔ خاطر تواضع کی اور اس دوران ان سے اپنے قبلہ لاثانی سرکار کا تذکرہ کیا توذکر سن کر ان کی کیفیت بدل گئی اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں خود آج رات روحانی طور پر ان سے مل لوں گا پھر وہ تھوڑی دیر بعد چلے گئے ۔ تقریباً چھ ماہ بعد وہ دوبارہ دکان پر آئے تو میں نے انہیں فوراً پہچان لیا ۔ وہ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے کہ ’’ کہو لاثانی سرکار حق ہیں ، کہو لاثانی سرکار حق ہیں‘‘ وہ بار بار یہی الفاظ دہرائے جا رہا تھے ۔ 

*۔۔۔محمد ادریس صاحب ( محلہ حیدر آباد ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میں عالم رویاء میں حضور داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کی زیارت کی ۔ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا :

’’لاثانی سرکار ہمارے محبوب ہیں‘‘۔

*۔۔۔05-12-1996ء شمشاد بی بی زوجہ یوسف علی ( چک نمبر 339‘ نیا لاہور ) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن اللہ تبارک و تعالیٰ کی مہربانی سے خواب میں حضر ت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے مزار مبارک کی زیارت نصیب ہوئی ۔ دربار عالیہ پر حاضری کے بعد میں بصد احترام پاؤ ں کی جانب ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی ۔ فاتحہ شریف کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد عرض کی حضور ہمارے لئے بھی دعا فرمائیں ابھی عرض گزار ہی ہوئی تھی کہ آپ کی قبر انور شق ہوئی ۔ آپ ؒ باہر تشریف لائے اور فرمایا۔’’اتنا بڑا پیر تمہیں دے دیا ہے اور اب بھی ہم سے دعا کرواتی ہو۔‘‘

آپ ؒ نے یہ الفاط مبارک کن انداز میں میری جانب دیکھتے ہوئے فرمائے ۔ میری آنکھ کھل گئی اور خوشی سے میرے آنسو نکل آئے اور میں سوچنے لگی میرے سرکار کی شان کا اندازہ کون کرسکتا ہے ۔ جن کے بارے میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ صاحب فرمائیں کہ تمہارے پیرو مرشد اتنی شان والے ہیں کہ رب کی بارگاہ میں ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ ایسی مقبول بارگاہ ہستی کے ہوتے ہوئے تمہیں ہم سے دعا کروانے کی کیا ضرورت ہے ۔ 

*۔۔۔عابد محمود صاحب ( کوٹ بیر بل ‘ خانیوال ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم اور مرشد پاک کی نظر عنایت سے میں نے خواب میں دیکھا ۔ ایک دربار شریف پر حاضر ہوں ۔ وہاں ایک نورانی صورت ہستی موجود ہیں ۔ارد گرد عقیدت مندوں کا جھرمٹ ہے اور آپ علم و معرفت کے خزانے لٹا رہے ہیں ۔ میں بھی عاجزانہ ‘ غلامانہ سلام عرض کر کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہوں ۔ کچھ دیر بعد جب محفل برخاست ہوئی اور سب چلے گئے تو میں آخر میں رہ جاتا ہوں آپ نے نہایت محبت کے ساتھ مسکراتے ہوئے مجھے اپنے قریب بلایا اور فرمایا ۔’’اگر تمہارے مرشد پاک تمہیں کہیں کہ مانگ کیا مانگتا ہے تو جتنا چاہے مانگ لینا ۔ وہ تو سخی ہیں ان کے در پر کوئی کمی نہیں ۔‘‘ جب آنکھ کھلی تو اسو قت خوشی اور فخر کے ملے جلے جو جذبات تھے انہیں بیان کر نے سے قاصر ہوں ۔ میرے ہونٹوں پر بس یہی الفاظ تھے ۔ بے شک میرے آقا 

میرے ورگے گدا تے ہین لکھاں اے پر سخیاں وچ بے مثال توں ایں 

بریاں وچ نئیں کوئی مثال میری فیر وی کردا کرم کمال توں ایں 

*۔۔۔29-01-1996ء افتخار احمد صاحب ( مہدی محلہ ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا نظام الدین اولیاء ؒ ، حضرت امیر خسرو ؒ اور میرے مرشد قبلہ لاثانی سرکار کی زیارت پاک ہوئی ۔ ’’جیسے امیر خسرو‘‘ نے اپنے مرشد پاک کی خدمت کی تم بھی اسی طرح اپنے مرشد پاک کی خدمت کرو۔ ‘‘ پھر میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کی قدم بوسی کرنے لگا تو انہوں نے ارشاد فرمایا ۔ پہلے تم اپنے قبلہ لاثانی سرکار کی قدم بوسی کر و۔ پھر ہماری قدم بوسی کرنا ۔ کیا کہنے میرے آقا کی شان کے ۔ اولیاء عظام ؒ خود تشریف لا کر اہل سلسلہ کو آداب مرشد سکھاتے ہیں ۔

28-08-1996ء محمد شفیع ولد محمد صدیق (وارث پورہ ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میرے دل میں اولیائے کرام کے لئے بہت محبت تھی اور پیر کامل کی تلاش بھی تھی ایک دن نماز کے بعد بارگا ہ رب العزت میں خلوص دل سے عرض کی یا اللہ مجھے ایسی جگہ بھیج ایسے در کی طرف راہنمائی فرما جو حقیقاً تیرا دربار حق ہو ۔ یقیناً وہ وقت قبولیت کا تھا ۔ کیونکہ میری دعا قبول ہوئی اور اسی رات مجھے خواب میں حضرت سیدنا داتا صاحب ؒ کی زیارت ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ آپ ؒ کے ہاتھ مبارک میں ایک انگوٹھی ہے آپ نے فرمایا ۔ اس میں دیکھو جب میں نے اس میں دیکھا تو مجھے اس میں خانہ کعبہ کی زیارت ہوئی ۔ پھر آپ نے ایک کتاب دی ۔ میں نے اسے کھول کر دیکھا تو اس میں حضرت لاثانی سرکار کی تصویر مبار ک تھی ۔ صبح اٹھا تو دل کو تسلی ہوئی لیکن میں رضائے الٰہی کو واضح طور پر سمجھ نہ سکا ۔ اسی دوران حضور قبلہ لاثانی سرکار کے آستانہ عالیہ پر حاضری کا موقع ملا ۔ ابھی دو مرتبہ حاضری دی تھی کہ ایک دن 27-07-1996ء کام کرتے کرتے اچانک میرا ذکر جاری ہو گیا اور دل اللہ اللہ کرنے لگا ۔ تقریباً تین گھنٹے یہی کیفیت رہی ۔ اس دوران مشاہدہ ہوا کہ حضرت سیدنا داتا صاحبؒ تشریف لائے اور ارشاد فرمایا۔’’لاثانی سرکار کے آستانہ عالیہ پر جاؤ اور ان کے دست اقدس پر بیعت ہو جاؤ۔ اب جو واضح حکم ملا تو میں بے قرار ہو گیا پھر میں خدمت اقدس میں حاضر ہوکر بیعت کے شرف سے سرفراز ہوا ۔ اللہ تعالیٰ اس در پر ہمیں استقامت عطا فرمائے ۔آمین۔

*۔۔۔عامر اعجاز ( امین پارک ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میں محفل پاک لاثانی میں شامل ہوا بعد میں چار روز حاضر نہ ہو سکا ( اس سے پہلے تقریباً میں روزانہ حاضری دیا کرتا تھا ) کیونکہ میرے مرشد پاک قبلہ لاثانی سرکار ایران کے تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے تھے ۔ جمعہ کی رات خواب میں دیکھا کہ بہت سی بزرگ ہستیاں تشریف فرما ہیں اور میرے آقا بیرون ممالک میں ہی ہیں ۔ لوگ جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے آ رہے ہیں ۔ میں چند قدم آگے جاتا ہوں تو پہاڑوں پر دو نورانی صورت بزرگ تشریف فرما ہیں ۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ۔تو آپ فرماتے ہیں

۔’’ ہم اس جگہ کی زیارت کے لئے آئے ہیں جہاں لاثانی سرکار تشریف فرماتے ہیں۔‘‘ دوسرے بزرگ نے ارشاد فرمایا :’’ آپ اور آپ کے پیر بھائی آستانہ کے قریب رہتے ہیں اور آستانہ عالیہ پر حاضری نہیں دیتے ۔ ہم تو اس جگہ کی زیارت کے لئے آئے ہیں جس جگہ لاثانی سرکار چند روز قیام پذیر ہوئے ۔ ‘‘جب میری آنکھ کھلی تو اپنی اس کو تاہی پر بہت ندامت محسوس ہوئی اور سوچنے لگا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم اس بات کا اندازہ نہیں کر سکتے وہ سر زمین جہاں اللہ کے محبوب چند لمحے قیام پذیر ہو جائے وہ جگہ باقی جگہ سے افضل ہو جاتی ہے اور فرشتے اولیاء کرام ؑ اس جگہ کی زیارت کے لئے آتے ہیں ۔ 

*۔۔۔ غلام مصطفےٰ ( راجہ چوک ‘ فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ حضرت بابا گنج بخش ؒ ، حضرت خواجہ بختیار کا کی ؒ اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے کچھ بڑے اولیا ئے کرام ؒ تشریف فرما ہیں ۔ آپ ؒ فرماتے ہیں ۔’’جب تم اپنے پیرو مرشد لاثانی سرکار کے آستانہ عالیہ پر نماز پڑھو ا ن سے پہلے اپنی نماز ختم کر کے بیٹھ جایا کرو ۔ یہ نہ ہو کہ لاثانی سرکار نماز پڑھ کر فارغ ہو جائیں اور تم اپنی نماز میں مشغول رہو اور لاثانی سرکار تمہارا انتظار کریں کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو ذکر کرایا جائے ۔ آستانہ عالیہ پر نماز پڑھنے کا طریقہ کار سیکھو آستانہ عالیہ اور مرشد کے آداب کا خیال رکھو‘‘۔

*۔۔۔محمد یا مین صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ نے کرم فرمایا اور اپنی زیارت سے نواز ا اور ارشاد فرمایا ’’۔ یہ در بہت بڑا در ہے ۔ یہ ایسا در ہے کہ یہاں پر بہت بڑی بڑی عطائیں ہوتی ہیں ۔ اگر کوئی بزرگ کئی سو سال تک کسی اور در پر لگا رہے تب بھی اسے اتنا فیض حاصل نہیں ہو سکتا جو اس در پر ہر وقت جاری ہے ‘‘۔

ایک مرتبہ خواب میں حضرت بابا بلھے شاہ ؒ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ مستی کی کیفیت میں فرماتے ہیں۔’’تیری سرکار عاشقوں کے عاشق ہیں۔‘‘ میں فوراً عرض کرتا ہوں۔ بے شک سرکار بے شک ۔ پھر آپ ؒ فرماتے ہیں ۔’’تیری سرکار محبوبو ں کے محبوب ہیں ۔‘‘ میں عرض کرتا ہوں ۔ بے شک جی بے شک ۔ اس کے بعد آپؓ نے فرمایا ’’تیری سرکار راحت العاشقین ہیں۔ انہو ں نے لاثانی عشق کیا ہے اور اور یہ فیض بھی عشق والا عطا کرتے ہیں ‘‘۔ اکثر و بیشتر رب العزت نے میرے آقا کی شان کے بارے میں جو کچھ دکھایا ۔ اگر بیان کروں تو الفاظ نہیں ملتے ۔ یہاں پر اپنا ایک اور خواب مختصراً عرض کرتا ہوں۔جو کہ مجھے اس وقت آیا جب میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا رب العالمین مجھے اپنے پیرو مرشد کے بارے میں کچھ دکھا ۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ حضرت پیر ان پیر حضرت غوث الا عظم ؒ اور حضرت بہاؤ الدین زکریا ؒ تشریف لائے اور حضرت سیدنا غوث الا عظم ؒ نے فرمایا ۔’’ تمہارے پیرو مرشد ہمارے محبوب ہیں۔ ہم نے اپنے سلسلہ کا رنگ لاثانی سرکار کو عطا کر رکھا ہے ۔ وہ جسے چاہیں ‘ جتنا چاہیں عطا کر دیں ۔ انہیں ہماری طر ف سے مکمل اختیار ہے ‘‘۔

پھر اپنے آقا کی سخاوت کا مشاہدہ کیا اور دیکھتا ہوں کہ آستانہ عالیہ پر فیض حاصل کرنے والوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور میرے قبلہ صدیقی لاثانی سرکار سب کو جھولیاں بھر بھر کر فیض کے خزانے تقسیم فرما رہے ہیں ۔ جو بھی آرہا ہے آپ اس کو نواز رہے ہی ۔ کوئی بھی خالی ہاتھ نہیں جا رہا ہے ۔ اتنے میں دیکھا کہ حضور قبلہ عالم امیر ملت ؒ اور دادا مرشد چادر والی سرکار ؒ تشریف لے آتے ہیں ۔ آپ کا انداز سخاوت دیکھ کر دونوں ہستیاں بہت خوش ہوتی ہیں ۔ پھر حضور سیدنا امیر ملت ؒ فرماتے ہیں ۔ ’’دیکھو ہمارا محبوب ہمارا کام کس احسن طریقے سے نباہ رہا ہے ۔‘‘

*۔۔۔ 29-12-1996ء نا صر لطیف صاحب ( بٹالہ کالونی ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میں 29تاریخ کو لاہور میں چند پیر بھائیوں کے ساتھ سرکار داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ کے مزار اقدس پر حاضری کے لئے گیا ۔ پھر فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔

مشاہدہ میں دیکھا کہ آپ ؒ ایک نورانی تخت پر جلوہ افروز ہیں ۔ آپ ؒ اس قدر نورانی حالت میں ہوتے ہیں کہ میری نظریں دیدار کی تاب نہیں لا سکتیں ۔ ساتھ ہی میری کیفیت بدل جاتی ہے ۔ میں عرض کرتا ہوں کہ سرکار کرم فرمائیں ۔آپ ؒ نے مسکرا کر میری جانب دیکھا اور پاؤں مبارک میری جانب پھیلا دیئے ۔ میں نے قدم بوسی کی اور آپ ؒ کے پاؤں چومنے لگا ۔ میری کیفیت تیز ہو گئی ۔ میں عرض کرتا ہوں حضور ہمارے سلسلہ پر بھی کرم فرمائیں ۔ میری بات سن کر آپ ؒ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ لاثانی سرکار کا سلسلہ ہمارا ہی سلسلہ ہے ۔‘‘ تقریباً آدھا گھنٹہ آپ ؒ نے اس گنہگار کو اپنی زیارت بابرکت سے نوازا ۔