مرشد پاک کی نگاہ میں

 *۔۔۔ریحان اظہر ( مظفر کالونی ‘ فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ حضو ر قبلہ لاثانی سرکار سے بیعت ہونے کے بعد ایک رات میں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کر کے سویا :یا اللہ !میرے پیرو مرشد جن کے دست حق پر میں نے بیعت کی ہے ۔ تیری بارگاہ میں وہ کتنے محبوب ہیں اس کی ایک جھلک میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں اسی رات خواب میں اپنے داد ا مرشد سید ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ کی زیارت با برکت نصیب ہوئی ۔ آپ نے مسکراتے ہوئے میری طرف اس انداز سے دیکھا گو یا فرما رہے ہوں کہ اپنے مرشد کی شان دیکھنا چاہتے ہو اس کے ساتھ ہی آپ نے ایک پر چہ میرے ہاتھ میں دیا جس پر تحریر درج تھی ۔ 

مسعود احمد پیر اکمل در جہاں مشہور شد از نگاہ رحمتہ اللعالمینﷺ منظور شد 

*۔۔۔یا مین صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ بیعت ہونے سے پہلے مجھے تین مرتبہ بیعت کا حکم ہوا پتہ نہیں چلا کہ یہ حکم کس کی طرف سے ہے ۔ پھر جب میں غوث وقت حضور قبلہ لاثانی سرکار کے دست اقدس پر بیعت ہو گیا تو اس کے پندرہ دن بعد میرے دادا مرشد حضرت سید ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ نے فرمایا ’’اجی ! با بوجی پہلے تم آوارہ تھے ، ہم نے تمہیں مسعود صاحب کی طرف بھیجا ان سے زیادہ سے زیادہ محبت و عقیدت رکھو‘‘۔ اس خواب سے یاد آیا کہ وہ جو بیعت کا حکم ہوا تھا دادا مرشد کی طرف سے کرم تھا ۔ 

*۔۔۔غلام مصطفےٰ صاحب ولد فقیر حسین صاحب ( راجہ چوک ، فیصل آباد) بیان کرتے ہیں کہ مجھے خواب میں اپنے دادا مرشد حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے اپنی زیارت کا شرف بخشا اور فرمایا :’’ہم نے فیصل آباد میں پہلے اپنے غلام ( لاثانی سرکار ) کو اتنا نوازا کہ اب وہ ہمارے محبوب ہیں ‘‘۔

*۔۔۔پیر رفاقت علی انجینئر ( قائد آباد ضلع خوشاب ) اس نا چیز کو ایک مرتبہ دادا مرشد حضور میاں صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ نے قبلہ لاثانی سرکار کی شان کا یوں مشاہدہ کر ایا کہ ہم چند پیر بھائی حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اسی محفل میں چادر والی سرکار بھی جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ 

’’دنیا میں ہر وقت کوئی بندہ ایسا ضرور ہو تا ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اور وہ شہنشاہ بقایت یا شہنشاہ روحانیت ہوتا ہے ۔ میں عرض کرتا ہوں حضور ! اس وقت تو وہ آپ ہی ہوں گے ۔ چادر والی سرکار ؒ فرماتے ہیں ہمارے بعد یہ مقام لاثانی سرکار کو عطا ہو اہے ۔ ‘‘

*۔۔۔محمد بوٹا صاحب بیان کرتے ہیں کہ چادر والی سرکارؒ خواب میں تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا :’’جو کچھ تمہیں ملے گا لاثانی سرکار کے در سے ملے گا اپنا عقیدہ مضبوط رکھنا ‘‘۔

*۔۔۔محمد منصور صاحب ( سول لائن ، خانیوال ) میرے آقا چادر والی سرکار ؒ خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا ’’ جس نے لاثانی سرکار کی زیارت نہیں کی صرف سن کر ہی عقیدت محبت کرتے ہیں ۔ ان کی بخشش کیلئے یہی کافی ہے اور جس نے لاثانی سرکار کی زیارت کی اسے بہت کچھ عطا ہو گیا اور جس نے ان کی خدمت کی اس کے مقام کا اندازہ کون کر سکتا ہے ‘‘۔

’’ولی اللہ کی صرف غائبانہ محبت سے بخشش ہو جائے گی‘‘( نورانی مواعظ)

*۔۔۔محمد خورشید صاحب ( فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عالم رویا ء میں دیکھا کہ میں حضور پر نور آقائے نامدار حضر ت محمد ﷺ کے روضۂ انور پر حاضر ہوں ۔ وہاں ایک بزرگ چادر میں ملبوس اپنے دونوں ہاتھوں سے روحانیت کا فیض لٹا رہے ہیں۔ پاس ہی قبلہ لاثانی سرکار تشریف فرما ہیں پھر وہ بزرگ لاثانی سرکار سے فرماتے ہیں اب آپ کی باری ہے پھر میرے قبلہ لاثانی سرکار وہی فیض دونوں ہاتھوں سے لٹانا شروع کر دیتے ہیں ۔

*۔۔۔محمد اشرف صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میرے ذہن میں کافی دیر تک جنوں کے بارے میں جب عجیب خیالات آتے رہے آخر میں سوچا کہ جنوں کا کوئی وجود نہیں ۔ رات تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا میں سو گیا ۔ پندرہ منٹ بعد اچانک کسی نے میرا بازو اتنی زور سے مروڑا کہ میری آنکھ کھل گئی اور تکلیف سے بر ا حال ہو گیا ۔ جب تکلیف میں کمی نہ آئی تو میں نے سوچا کہ مشکل میں اپنے آقا کو یاد کرنا چاہئے جیسے ہی میں نے اپنے پیرو مرشد کو یاد کیا کھلی آنکھوں سے کیا دیکھتا ہوں کہ میرے طرف پیر جن و بشر چادر والی سرکار ؒ اور دوسری طرف لاثانی سرکار تشریف فرما ہیں ، چادر والی سرکار ؒ لاثانی سرکار سے فرماتے ہیں ‘‘ اجی آپ اتنی دور سے کس لئے آئے ہیں میں جو آپ کے مریدوں کیلئے کافی ہوں‘‘۔ 

*۔۔۔حضرت پیر ذکا ء اللہ صاحب ( لاہور ) بیان فرما تے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا حضرت ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ کی زیارت ہوئی ۔ آپ نے مجھے اپنے فیض سے نواز ا اور ارشاد فرمایا ۔ 

’’اجی یوں تو ہم نے اور بھی بہت سے لوگوں کو نوازا ہے لیکن جیسا سلسلہ فیصل آباد میں مسعود صاحب چلا رہے ہیں اور جیسا کام ان کے آستانہ پر ہو رہا ہے ہمیں وہ بہت پسند ہے اور ہم ان سے بہت خوش ہیں ‘‘۔

*۔۔۔محمد ناصر صاحب ( بٹا لہ کالونی ، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے چادر والی سرکار ؒ نے اپنی زیارت پاک سے نواز ا اور آپ نے آستانہ عالیہ نقشبندیہ چادر یہ لاثانیہ کے متعلق ارشاد فرمایا ۔’’یہ ہمارا آستانہ ہے یہ ہمارا در ہے ۔ یہ اللہ عزوجل کا دربار ہے ‘‘۔

پردہ فرمانے سے پہلے ہم نے ظاہراً چادر والی سرکار کو یہ فرماتے سنا ’’ بابو جی مسعود صاحب ولی بھی ہے ، صوفی بھی ، درویش بھی ‘‘ اور کچھ ہی عرصہ پہلے آپ نے حضور قبلہ لاثانی سرکار کے متعلق خواب میں ارشاد فرمایا :’’لاثانی سرکار بہت درگزر کرنے والے ہیں ‘‘ میں آستانہ عالیہ پر جو تیاں پہنے چل رہا تھا اسی اثناء میں لجپال حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ جو کہ میرے پیرو مرشد بھی ہیں تشریف لے آئے اور آپ نے جلالی حالت میں فرمایا ’’ تجھے اس جگہ کی کوئی قدر نہیں ۔ اب اس جگہ (آستانہ عالیہ ) پر جوتا پہن کر نہیں پھرنا ۔ 

*۔۔۔محمد عاکف صاحب ( ٹاؤن شپ لاہور ) بیان کرتے ہیں کہ عالم رویاء میں قبلہ حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے میرے آقا کے متعلق ارشاد فرمایا ’’ اجی ! ہم نے لاثانی سرکار کو داد رسی کرنے والا بنا دیا ہے ۔ تم ان سے عرض کیا کرو جی ‘‘۔

*۔۔۔محمد یا مین صاحب ( خانیوال ) بیان کرتے ہیں کہ حضور چادر والی سرکار ؒ نے خواب میں ارشاد فرمایا کہ ’’اولیاء کرام کے قول و فعل کے بارے میں اعتراض کرنا مرید کی بدبختی کی علامت ہے اور لاثانی سرکار کے بارے میں بال برابر بھی اعتراض ذہن میں نہ لانا۔

*۔۔۔ میرے بڑے بھائی جناب محترم لیاقت مرحوم بھی لاثانی سرکار سے بیعت تھے اور آپ کا ان پر بڑا کرم تھا ان پر آپ کے کرم کیوجہ سے زیادہ تر مستی کی کیفیت طاری رہتی اور زبان پر اللہ و رسول اور پیرو مرشد کا ذکر جاری رہتا ان کو میرے آقا کے صدقے حضور نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرامؓ اور اولیاء کرام کی زیارتیں ہوتی تھیں۔ پردہ فرمانے سے چند گھنٹے بیشتر بھی انہوں نے اپنی چھوٹی بہن کو بتایا کہ آج رات حضور ﷺ نے اپنی زیارت سے نوازا اور صحابہ کرامؓ بھی آپ کے ہمراہ تھے اور انہو ں نے بھی بڑا کرم فرمایا اپنی وفات سے تقریباً دو تین ماہ پہلے انہوں نے بتایا کہ میرے دادا مرشد حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے اپنی زیارت سے نواز اور آپ نے بہت محبت بھرے انداز سے فرمایا :’’ اجی ! ہم نے تمہیں محبوب ( لاثانی سرکار ) کو عطا کیا ہوا پھر آپ نے پہلے سے زیادہ محبت اور جوش کے انداز میں فرمایا :’’اجی ہم نے تمہیں محبوب ( لاثانی سرکار ) عطا فرمایا ہے پھر آپ نے پہلے سے زیادہ محبت اور جوش کے انداز میں فرمایا ’اجی ! یہ ہمارا تم پر احسان ہے اجی کوئی اپنا محبوب بھی کسی کو دیتا ہے جی ۔ لیکن ہم نے تمہیں اپنا محبوب دیا ہوا ہے ۔ لیاقت بھائی بتاتے تھے کہ میں نے کبھی حضور صاحب چادر والی سرکار کو اتنا خوش نہیں دیکھا جیسا اس رات ( خواب میں ) دیکھا تھا ۔ 

*۔۔۔ نسیم صا حبہ (خانیوال ) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ خانیوال میں حاسدین و مخالفین کی قبلہ حضور لاثانی سرکار کے متعلق غلط قسم کی باتیں سن سنکر میرے دل میں بھی وسواس پیدا ہو گئے ہم چند پیر بہنو ں نے سوچا کہ دادا مرشد چادر والی سرکارؒ کے دربار پر حاضری دیں اور آپ سے دستگیری طلب کریں ۔ چنانچہ ہم اکٹھی ہو کر حضرت چادر والی سرکار ؒ کے دربار پر گئیں اور عرض کی سرکار کرم فرمائیں کیا وہ واقعی آپ کے نائب و محبوب ہیں اور ان کا اللہ رسول ﷺ کی بارگاہ میں تعلق ہے یا نہیں ۔ 

اسی رات میں خواب میں دیکھا کہ حضرت پیرا ن پیر، دستگیر اعظم، قبلہ غوث الا عظم سرکار حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ تشریف فرما ہیں اور ندائے غیبی ہوتی ہے ۔ 

’’ یہ ہمارے محبوب ہیں۔ پھر میں حضرت غوث الاعظم ؒ کی جگہ قبلہ حضور لاثانی سرکار کو جلوہ افروز دیکھتی ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی غیب سے آواز آتی ہے ۔’’یہ بھی ہمارے محبوب ہیں ‘‘۔آنکھ کھلی تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور توبہ استغفار کی کہ خواہ مخواہ مخالفین کی باتوں میں آکر اپنا عقیدہ خراب کیا اور دل میں وسواس کو جگہ دی ۔ 

*۔۔۔پیر رفاقت علی ( قائد آباد ) بیان کرتے ہیں کہ 10-08-1996ء بارہ ربیع الاول کی مبارک رات پیرو مرشد کی کرم نوازی سے حضور قبلہ چادر والی سرکارؒ کی زیارت با برکت نصیب ہوئی ۔ خواب میں آپ کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ میرے پیرو مرشد قبلہ لاثانی سرکار صاحب بھی تشریف فرما ہوتے ہیں ۔ نماز پڑھنے کے بعد حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے ارشاد فرمایا ۔ ’’منظوری ہی کی تو بات ہوتی ہے ‘‘۔میں عرض کرتا ہوں سبحان اللہ ! بے شک سرکار ۔ بے شک پھر آپ نے ارشاد فرمایا ( ایک شخص کے متعلق جو کہ کہتا پھرتا ہے مجھے چادر والی سرکار ؒ کی طرف سے منظوری حاصل ہے اور لوگوں کو بیعت کرتا ہے ) اپنی طرف سے وہ بے شک کہتا پھر ے میں پیر ہوں لیکن جہاں مرضی جس کے پا س چلا جائے منظوری نہیں۔پھر بڑے پر جوش اور محبت بھرے انداز میں قبلہ لاثانی سرکار کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔ ’’ ہم نے تو انہیں ( لاثانی سرکار کو) منظور کیا ہے جی ‘‘ اب جو بھی کسی روحانی سیٹ پر فائز ہو تا ہے ۔ ان کی ( لاثانی سرکار کی)منظوری سے ہوتا ہے ۔ 

*۔۔۔میرے بڑے بھائی محترم لیاقت علی مرحوم نے ایک مرتبہ اس ناچیز ( رفاقت علی ) کو اپنا خواب سنایا ۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضور سیدنا چادر والی سرکار ؒ بڑی محبت کے ساتھ پیرو مرشد قبلہ لاثانی سرکار کے متعلق فرما رہے ہیں ’’ اجی ہمیں اپنے محبوب لاثانی سرکار سے بہت محبت ہے ۔ اسی لئے جو بھی ان سے محبت کرتا ہے یا ان سے نسبت اختیار کرتا ہے ہم اس پر تو کرم فرماتے ہیں ۔ بلکہ اس کی گزشتہ اور آئندہ نسلوں پر بھی کرم فرمانا ہم نے اپنے لئے لازم کر لیا ہے ‘‘۔ 

*۔۔۔14مارچ 1992ء محترم یا مین صاحب( فیصل آباد ) بیان فرماتے ہیں کہ قبلہ لاثانی سرکار کے کرم سے حضور میاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زیارت سے نوازا ۔آپ نے فرمایا ۔ 

’’ اجی لاثانی سرکار حضور نبی کریم ﷺ تمام صحابہ کرا م رضی اللہ اور تمام اولیاء کرام ؒ کے محبوب ہیں اور انہیں ذرا سی بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ تو سب مجھ سے کہتے ہیں ۔ 

’’شاہ جی یہ کیا ہو رہاہے ؟ ‘‘

یعنی میرے قبلہ لاثانی سرکار ان ہستیوں کی نظر میں ایسے محبوب ہیں کہ انہیں آپ کی ذرا سی تکلیف بھی گوارہ نہیں ‘سبحان اللہ کیا شان ہے میرے آقا کی ۔

*۔۔۔ذوالفقار علی صاحب ( منصور آباد ، فیصل آباد ) 07-09-1995ء کو بتایا کہ ایک مرتبہ ملتان شریف حضور میاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر حاضری دی فاتحہ پڑھی اور بیٹھ کر ذکر خفی کرنے لگا۔ دورانِ ذکر مشاہدہ ہو اکہ حضور میاں صاحب چادر والی سرکار رحمتہ اللہ علیہ اپنی قبر انور سے باہر تشریف لائے اور زیارت سے نوازا ۔ اس کے بعد خواب میں حضور میاں صاحب ؒ نے اپنی زیارت کروائی اور فرمایا ہم نے اپنے اختیارات اپنے محبوب صوفی مسعود احمد کو عطا کر دیئے ہیں ۔ ان کی طرف توجہ رکھو اور انہیں میرا سلام کہنا اور ان کے تمام سلسلہ والوں کو میرا سلام پہنچانا ۔ 

( سبحان اللہ ) جو بھی عقیدت مند اگر یہ پڑھے وہ چادر والی سرکار ؒ کا تصور کر کے یہ کہے وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یا سیدنا چادر والی سرکار۔ ؒ 

*۔۔۔ محمد یامین صاحب ( فیصل آباد) 08-07-1991ء بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور سیدنا چادر والی سرکار ؒ کی زیارت با برکت ہوئی ۔ آپ نے بہت خوبصورت تاج مبارک پہنا ہوا ہے ۔ میرے آقا حضور لاثانی سرکار بھی وہیں تشریف فرما ہیں ۔ حضور سیدنا چادر والی سرکار ؒ نے اپنے دست مبارک سے تاج مبارک میرے قبلہ لاثانی سرکار کے سر مبارک پر رکھا اور اپنے سارے اختیارات میرے آقا کے سپر دفرمادئیے۔ چند دن کے بعد پھر حضور میاں صاحب نے اپنی زیارت سے نوازا اور ارشاد فرمایا :

’’اجی ہم نے سارے اختیارات لاثانی سرکار کے سپرد کر دیئے ہیں ‘‘ ۔