القابات و اختیارات

 جناب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب کو اللہ رسولﷺ، اہل بیت اطہارؓ، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ اور کامل مشائخ عظام کی جانب سے بہت سے القابات عطا ہوئے اور باطنی طور پر خلافت عطا ہوئی۔ جن کا علم ہمیں خود جناب صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار صاحب اور بہت سے دوسرے سلاسل کے مشائخ عظام ،مذاہب و مسالک اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں سے مل کر اور انکی روحانی دستگیریوں اور کرم نوازیوں سے جان کر ہوا۔

* حضور نبی کریم ﷺ نے باطنی طور پر خلافت سے نوازااور بیعت رسولیہ کی اجازت فرمائی۔ آپﷺ نے فرمایا! لاثانی سرکار محبوب بھی ہیں اور حبیب بھی اور حبیب فقیر، محبوب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اور آپ کو ’’لاثانی سرکار‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ 

*میرے لجپال رؤف الرحیم آقا ﷺ نے اپنی زیارت بابرکات سے نوازا،اور اپنے قلب اطہر سے معرفت کا فیض نکال کر مجھے (مسعود احمد صدیقی کو) پلایا۔میرے مزید مانگنے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے مشورہ فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی وراثت کی منظوری فرمائی او رمزید معرفت کا فیض عطا کرنے کی سفارش بھی کی۔ جس کے بعد حضور پاک ﷺ نے دوبارہ اتناہی معرفت کا فیض اپنے قلب اطہر سے نکال کر اس فقیر (مسعود احمد صدیقی) کوپلایا۔

*حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپ کو اپنے خاص فیض سے نوازا۔ 

*حضرت موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ نے ولایت موسوی سے نوازا ۔ 

*حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ نے ولایت عیسوی سے نوازا اور شفاء کے فیض میں مزید اضافہ فرمایا۔ 

*امام العاشقین، امام ا لصدیقین سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ’’صدیقی ‘‘ ا ور ’’ سخی سلطان ‘‘کے القابات عطا فرمائے۔

*ایک مرتبہ امیر المومنین حضور سیدنا صدیق اکبرؓ نے زیارت مبارکہ سے مشرف فرماتے ہوئے عطائے خاص سے نوازا۔میں نے آپؓ کی بار گاہ میں آپؓ کے سامنے حاضر ہو کر ’’ اصلوٰۃ والسلام علیک یا امیر المومنین یا امام المتقین حضور سرکار سیدنا صدیق اکبرؓ ‘‘ مودبانہ سلام پیش کیا۔ 

آپ سرکارؓ نے خصوصی کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا! ’’میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے نام کے ساتھ میرا نام بھی لکھو‘‘۔

آآپؓ کے اس ارشاد مبارک کو سن کر میں خوشی سے رو پڑا،آپؓ کی اس عطائے خاص پر میں شکر کی کیفیت میں آپ سرکارؓ کے قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کر تا ہوں ! میرے آقا ، لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کاش آپؓ سے ان کی روحانی نسبت یا کوئی تعلق قائم ہو جائے اوراپنے نام کے ساتھ حضور ﷺ کا ،آپؓ کا نام مبارک لکھیں ، 

جیسا کہ ’’محمدی ﷺ ،صدیقی ؓ ‘‘۔جبکہ آپؓ ایسا کرنے کا اپنے اس فقیر کو خود حکم فرما رہے ہیں اور اجازت عطا فرما دی ہے کہ میں اپنے نام کے ساتھ آپؓ کا نام مبارک لکھ کر آپؓ کی نسبت پاک کو ظاہر کروں ۔یہ آپؓ کا اپنے اس غلام پر احسان عظیم ہے۔ 

آپؓ نے مزید ارشاد فرمایا!’’ہم نے تمھیں صدیق بنایا ،اب تمہارا نام مسعود احمد صدیقی ہے‘‘۔

میں نے آپؓ کا بے حد مشکور اور احسان مند ہوتے ہوئے عرض کی !میرے سخی لجپال آقا، بے شک آپؓ تمام صدیقوں کے سردار ہیں(یعنی صدیق اکبرؓ ہیں)۔اور اپنی نگاہ کرم سے جس کو چاہیں صدیق بنا دیں ۔

آپؓ نے اپنے غلام کی اس عرض پر مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے فرمایا !’’تم نے ٹھیک کہا‘‘ ۔

اس فرمان کے ساتھ ہی آپؓ کی اس عطا پر میں نے عاجزانہ عرض کی ! بیشک میرے آقا، آپ ؓ کی منظور ی سے ہی صدیق بنتے ہیں اور آپ ؓ کے فرمانے ہی سے میں صدیق ہوں۔

* امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خصوصی نظر کرم فرماتے ہوئے ’’صدیق الفاروق‘‘ کے لقب سے نوازا۔

مرشد پاک سید ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ کی سفارش پر حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمؓ نے اپنے نام مبارک کی مہر مبارک لگائی۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے صدیقی لقب سے نوازا، اس کے کچھ عرصہ بعد خواب میں دیکھا کہ میں روضہ رسولﷺ پر حاضر ہوں آپﷺ کی بارگاہ میں

الصلوٰۃ والسلام علیک یا سید الانبیاء و المرسلین ، الصلوٰۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ ، الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کے جملوں کے ساتھ صلوٰ ۃ و سلام پیش کیا ۔

پھرحضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی با رگاہ میں متوجہ ہو کر ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا امیر المومنین یا امام المتقین حضور سرکار سیدنا صدیق اکبرؓ ‘‘ کہہ کر سلام پیش کیا۔

اس کے بعد جب سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا امیر المومنین حضور کار سیدنا عمر فاروق اعظمؓ ‘‘کہہ کر سلام پیش کیا تو اسی لمحے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی قبر انور سے ظاہر ہوئے اور سلام کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں!’’ تم صدیق الفا روق ہو‘‘۔

چونکہ لقب صدیقی پہلے عطا ہو چکا تھا اس لیے میرے ذہن میں خیال آیا کہ فاروق کا کیا مطلب و مفہوم ہے ؟ 

آپ فوراً ہی میرے خیال کو بھانپ کر ارشاد فرماتے ہیں! ’’حق اور باطل میں تمیز کرنے والااور اسکی باریکیوں اور اشاروں کو سمجھنے والا‘‘۔

میں دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ بے شک آپ ؓ کو اللہ و رسول ﷺنے قیامت تک کے فاروقوں ( یعنی حق و باطل میں تمیز اور پہچان کرنے والوں) میں اعظم بنایا ہوا ہے۔اس لئے یہ آپؓ ہی کی شان ہے کہ آپ فاروق اعظمؓ ہیں۔ میری اس عرض پر آپؓ نے اثبات میں سرہلایا کہ تم نے ٹھیک کہا۔آپؓ نے مزید فرمایا!

’’ جس طرح پہلے تمہیں امیر المومنین حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صدیقی لقب سے نوازا تھااسی طرح آج سے تم فاروق بھی ہو‘‘۔اس خصو صی کرم پر میں آپؓ کابے حد شکر گزار ہو ا ۔

*حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ کو باطنی خلافت عطا فرمائی اور آپ کے آستانے کو اپنا آستانہ فرمایا۔ نیز آپ کو تلوار ذوالفقار کے تصرفات عطا فرمائے گئے اور آپ کو ’’مولا‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ 

* حضرت امیر المومنین ،امام المتقین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے زیارت با برکات سے نوازا اور فرمایا،’’جس کا یہ مولا (مجھ غلام مسعود احمد صدیقی کیطرف اشارہ کر کے فرمایا)،اس کا علیؓ مولا ( اپنی جانب انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔)،اور جس کا علیؓ مولا ،اس کا نبی ﷺ مولا۔

*حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ،حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ،حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اورحضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے باطنی طور پر اپنی مہریں لگا کر فقراء میں منظور فرمایا۔

*حضرت سیدنا امام حسینؓ عالی مقام نے آپ کے آستانہ کو اپنا آستانہ فرمایا اور ’’ابوالفیض‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ 

* ایک مرتبہ خواب میں حضرت سیدنا امام حسینؓ عالی مقام ،حضرت سیدنا امام حسن المجتبیٰؓ ، حضرت سیدنا غازی عباسؓ علمدار، حضرت سیدنا علی اکبرؓ اور حضرت سیدنا علی اصغر ؓ کی نورانی جسم میں تشریف آوری ہوئی ۔اور سیدنا امام حسینؓ نے پر جوش انداز سے ارشاد فرمایا،’’خلافت ہمارے گھر کی ہے ،امامت ہمارے گھر کی ہے،شہادت ہمارے گھر کی ہے ،شجاعت ہمارے گھر کی ہے،شریعت ہمارے گھر کی ہے،طریقت ہمارے گھر کی ہے،حقیقت ہمارے گھر کی ہے ،ولایت ہمارے گھر کی ہے،معرفت ہمارے گھر کی ہے،فقیری(درویشی) ہمارے گھر کی ہے اور ہر چیز ہمارے گھر کی محتاج (لونڈیاں اور کنیزیں) ہیں۔تم یہ خیال نہ کرو کہ کسی چیز سے تمہیں حصہ عطا نہ کیا جائے گا۔ہر چیز سے تمہیں نوازا جائے گا۔ہم جسے چاہیں جو چاہیں جب چاہیں نواز دیں ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ہر چیز ہماری ہے اور ہم تمہارے ہیں‘‘۔یہ فرما کر آپؓ کا اور تمام ارواح مبارکہ کے نورانی جسم اس فقیر (مسعود احمد صدیقی)کے جسم میں تشریف لے آئے۔

*حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی پیرانِ پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ نے آپ سرکار کو اپنے محبوب ترین خلفاء میں سے نائب اعظم بنایا اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کرنے کی اجازت فرمائی نیز سیدنا طاہر الاشرفی قادری رحمتہ اللہ علیہ کے توسط سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی وراثت عطا فرمائی۔ 

*حضرت سیدنا داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے باطنی خلافت عطا فرمائی اور اپنی خصوصی عطاؤں اور اختیارات سے نوازا نیز ہر جمعرات بعد نمازِ عشاء خصوصی محفل آستانہ عالیہ لاثانیہ پر منعقد کرانے کا کرم فرمایا جس میں صاحب ڈیوٹی اولیاء شریک ہوتے ہیں۔ 

* ایک نشست میں ہمیں جناب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے کرم نوازیوں کے حوالے سے بیان فرمایا کہ: عالم رویا میں ،میں نے دیکھا کہ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مشائخ عظام کی روحانی مجلس ہو رہی ہے ،جس میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ ،حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر ؒ ،حضرت نظام الدین اولیاء ؒ اور ان کیساتھ مزید اولیاء کرام ؒ ،جن میں چند دور حاضر کے درویش بھی شامل تھے۔جنہوں نے مشورے کے بعد سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت دینے کا متفقہ فیصلہ فرمایا اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کی دستار مبارک کوتمام اولیاء اللہ نے اپنے اپنے دست مبارک میں لے کر منظور فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ،کہ یہ (مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار )سلسلہ عالیہ محمدیہ ،صدیقیہ کادرویش ہے ،کیوں نا ہم حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی موجودگی میں ان کے دست اقدس سے یہ دستار مبارک بندھوائیں(تاکہ امیر المومنین بھی ہمارے اس فیصلے اور اعلان پر خوشی کا اظہار فرمائیں کہ ہم نے آپؓ کے سلسلہ کے درویش کو متفقہ طور پر اس نعمت عظمیٰ سے نوازا)۔تو تمام اولیاء اللہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار فرمایا اور امیر المومنین حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی طرف رجوع کیا۔فوراًہی امیر المومنین حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ اس مجلس میں تشریف لے آئے اور سلسلہ عالیہ کے تمام اولیاء اللہ نے اپنے متفقہ فیصلے کو آپکی بارگاہ اقدس میں پیش کیا۔جسے امیر المومنین سیدنا صدیق اکبرؓ نے بخوشی قبول فرما کر دستار مبارک اس فقیر(صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار) کے سر پر اپنے دست مبارک سے باندھا۔ 

*حضرت سیدنا بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے فرید العصر (عصر حاضر کے حضرت بابا فرید) کے لقب سے نوازتے ہوئے فرمایا ،’’جو روحانی معاملات کی نوعیت اور ڈیوٹیاں ہماری تھیں ،وہ ہی آپ (صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار) کی ہیں‘‘۔ 

*اس فقیر (مسعوداحمد صدیقی )کے پیرو مرشد،امام الفقراء حضرت سیدنا ولی محمد شاہ صاحب المعروف حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی کئی بار اپنا روحانی بیٹا فرمایا۔اور پھر یہ بھی ارشاد فرمایا:میرا یہ بیٹا ’’سید‘‘ہے،پھر ارشاد فرمایا کسی کو کیا معلوم میرا یہ بیٹا ’’زاہد ‘‘بھی ہے ۔اور ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ،’’کہ بابو جی آپ ولی بھی ہیں صوفی بھی ہیں اور درویش بھی ہیں ۔پھر نائب ،خلیفہ اور خلیفہ اعظم کے لقب سے نوازا اور مختلف لوگوں کے سامنے بھی کئی بار یہی ارشاد فرمایا ۔بعد ازاں آپ ؒ نے فیصل آباد تشریف لا کر مجمع عام کی موجودگی میں اس فقیر کو اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کیلئے طلب فرمایا ۔میرے حاضر ہوتے ہی آپ ؒ کے حکم پر آپ کی دائیں جانب آپ ؒ کیساتھ بیٹھ گیا۔چند لمحوں بعد آپ ؒ نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا اورمیں نے آپ ؒ کے دست اقدس کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوما آپ ؒ نے فوراًاپنے ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور پر جوش انداز میں فرمایا،’’کہ سب سن لو!بابو مسعود احمد صاحب آپ کے اول پیر ہیں ،میں بعد میں پیر ہوں۔‘‘فیصل آباد اور اس کے گردو نواح کے علاقوں کے لوگوں سے ارشاد فرمایا،’’کہ جن کے علاقے اور شہر فیصل آباد کے قریب ہیں انکو میرے پاس ملتان آنے کی ضرورت نہیں ہے جو بات آپ نے ہم سے آکر عرض کرنی ہو یا دعا کروانی ہو تو وہ بابو مسعود احمد صاحب کے پاس آکر ان سے کہہ لیا کریں او ر دعا کر الیا کریں ۔میرے پاس آکر عرض کر و گے یا بابو مسعود سے عرض کر و گے،ایک ہی بات ہے۔‘‘سب سن لو اول پیر آپ کے بابو مسعود صاحب ہیں میں بعد میں آپ کا پیر ہوں ۔‘‘جتنی دیر آپ ؒ یہ ارشاد عالیہ فرماتے رہے اس وقت تک آپ ؒ نے اپنے ہاتھ مبارک سے میرے پکڑے ہوئے ہاتھ کو بلند کئے رکھا ۔اور موجود لوگوں کی اکثریت نے مجھے آپ ؒ کے سامنے خلافت کی مبارک باد دی۔اس کے کئی سال بعد اپنی حقیقی وراثت اپنے قلب انور سے نکال کر اس فقیر کے جسم میں داخل کر کے اپنا مکمل حقیقی وارث ہونے کی بشارت عطا فرمائی۔ نیز باطنی طور پر اپنی مہر او ر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدنا غوث الاعظم جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی مہریں لگوا کر فقراء میں منظور فرمایا۔ 

امام الفقراء حضور سیدنا چادر والی سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو فرمایا ’’تمہارا نام مستقبل میں تصوف کے آسمان پر سورج کی طرح چمکے گا۔‘‘ 

* ایک مرتبہ حضور سیدنا چادر والی سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا،’’بابو جی !جس قسم کی آزمائشوں سے آپ کو گزارا گیا ہے ۔ اس طرح کی آزمائشیں اب کسی فقیر کو نہیں آئیں گی ،قوانین تبدیل کر دئیے گئے ہیں ۔ہم نے امام مہدی علیہ السلام تک نظر ڈال کر دیکھی ہے ، آپ اس نوعیت کے آخری فقیر ہیں جی!۔ 

* مستوں کے شہنشاہ حضرت سید مقبول حسین شاہ بخاری گردیزی ؒ المعروف بابا ٹالی سائیں نے اپنا خلیفہ اور نائب اعظم بنا کر مستی کے خاص فیض سے نوازا اور روحانی ڈیوٹی بھی لگا ئی۔

*مجذوبوں کے شہنشاہ حضرت بابابگا شیر ؒ (ملتان شریف)نے خلیفہ اول بنا کر اپنے خاص مجذوبیت کے فیض سے نوازا۔

*مختلف مشائخ اور طالبین (سالکین) کو بذریعہ خواب حضور نبی کریم ﷺ اور مشائخ و کاملین کی جانب سے جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب کو نائب غو ث الاعظم، شہبازِ لامکانی، محبوب سبحانی اور اللہ کے حبیب کے لقب کی تصدیق ہوچکی ہے۔