حلیہ مبارک

 صوفی مسعود احمد صدیقی المعروف لاثانی سرکار کا حلیہ مبارک وسیرت مبارکہ کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ یہ کوئی چند ملاقات میں اخذ نہیں کیا گیا بلکہ کافی عرصہ بعد قلم اس قابل ہوا کہ اسے صفحہ قرطاس پر اتار سکے۔ 

آپ قد مبارک میں نہ زیادہ دراز ہیں نہ ہی پست قامت بلکہ مائل بہ درازی نظر آتے ہیں آپ کے گیسو مبارک نہ بالکل پیچدار ہیں نہ ہی بالکل سیدھے بلکہ قدرے درمیانہ گھنگریالے یعنی کچھ خم دار ، جسم اطہر میں فربہ پن نہیں ہے، چہرہ انور نہ تو لمبائی کے رخ ہے اور نہ بالکل گول بلکہ کسی قدر گولائی ہے ۔ ناک مبارک ستوان ہے یونانی طرز کی، چشمان مبارک گہری اور پلکیں دراز ہیں ، جوڑوں کی ہڈیاں مضبوط ،دونوں شانوں کے درمیانی جگہ پر گوشت ہے آپ سرکار کے بدن مبارک پر زیادہ بال نہ ہیں ،سینہ اقدس چوڑا ہے ، ڈارھی مبارک کا رخساروں پر قدرتی خط ہے جو نہایت خوبصورت معلوم ہوتا ہے، آپ جب چلتے ہیں تو قدموں کو قوت کے ساتھ اٹھاتے ہیں جیسے بلندی سے نیچے کی طرف اتر رہے ہوں، مختلف دوروں پر جبکہ مریدین آپ کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات ساتھ والوں کو دوڑ لگانا پڑجاتی ہے ۔ جب کسی کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو پورے بدن کو پھیر کر توجہ فرماتے ہیں ۔گردن مبارک پرسیاہ تل ہے جس سے گردن کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ نہایت سخی ہیں کلام مبارک نہایت سچا ہے ،طبیعت مبارک انتہائی نرم ہے، آپکا نسب شریف اعلیٰ ہے ، جو بھی آپکو دیکھتا ہے آپکی شخصی وجاہت اور غیر معمولی حسن کے باعث مرعوب ہوجاتا ہے اور جو آپ کی صحبت میں رہتا ہے آپ سے نہایت عقیدت و محبت کرنے لگتا ہے ۔آپ عظیم المرتبت اور بارعب ہیں ، آپ کے بال مبارک کانوں کی لوسے تجاوز نہیں کرتے ،رنگ چمکدار پیشانی کشادہ اور خندہ ، ابروخم دار باریک ، گنجان اور آپس میں ملی ہوئی نہیں ہیں ، ڈارھی مبارک گنجان اور قدرتی طور پر خط بنا ہوا ہے، آپکی ڈارھی مبارک قدرتی طور پر اتنی ہی رہتی ہے اور بڑھتی نہیں ہے نہ ہی رخساروں پر بال اگتے ہیں اگر بالوں نے قدرے خم نہ کھایا ہو تو آپ کی ڈارھی مبارک کا سائز یک مشت ہی ہے ۔ دوستو کتنی عجب بات ہے کہ آپ کی ڈارھی مبارک کے بال ایک خاص حد میں قائم ہیں۔اور آپکو بال چھوٹے کرانے کی حاجت نہیں آنکھ مبارک کی پتلی براؤن، روشن ،بڑی اور چمکدار ہیں جس میں سرخ ڈورے ہیں،گردن مبارک اتنی خوبصورت جیسے مصورنے تصویر تراشی ہو اور رنگ میں چمکدار، شکم مبارک قدرے ابھرا ہوا جبکہ سینہ بھی فراخ جسم کا جو حصہ کپڑوں سے باہر ہوتا ہے نہایت روشن اور نورانی ہوتا ہے۔ کلائیاں دراز اور ہتھیلیاں فراخ وگداز ہیں ہاتھ پاؤں کی انگلیاں تناسب کے ساتھ لمبی ہیں۔ آپ کے تلوے گہرے اور قدم مبارک ہموار ہیں، تواضع کے ساتھ چلتے ہیں کہ زمین پر قدم نہ زور سے پڑتا ہے نہ آہستہ اگر آپ ننگے پاؤں کھڑے ہوں اور کوئی شخص آپ کے تلوے مبارک کو نیچے سے دیکھے تو معلوم ہوگا کہ آپ کا پورا تلوازمین پر نہیں لگتاہاتھ پاؤں کی تمام انگلیوں کے ناخن چمکدار سرخ اور خوبصورت ہیں انگلیوں کی پوریں ناخن سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ عموماًآپ چھوٹے چھوٹے قدم نہیں اٹھاتے گوشہ چشم سے دیکھنا عموماً آپکی عادت ہے ۔اکثر اوقات چلتے وقت دوسروں کو اپنے سے آگے بھی کردیتے ہیں سلام کرنے میں خود ابتداء فرماتے ہیں دوسرے کا انتظار نہیں کرتے آپ کے ہنسنے اور تبسم فرمانے سے دندان مبارک ایسے ظاہر ہوجاتے ہیں جیسے سچے موتی ، آپ بوقت سکوت حد درجہ متین اور سراپا وقار دکھائی دیتے ہیں جب گفتگو فرماتے ہیں تو رخ انور پر شگفتگی پھیل جاتی ہے آپ دور سے ذی وجاہت اور بارعب دکھائی دیتے ہیں جبکہ نزدیک سے کما ل درجہ حسین اور نرم خو آپ کے رنگ مبارک سے انوارات پھوٹتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔

جس بھی فنکار کے شاہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا 

دوستو! کچھ لوگوں کو یہ بات شاید عجیب لگے کہ آپ کی خوشبو سے وہ جگہ پہچانی جاتی ہے جس جگہ آپ کچھ دیر قبل تشریف فرما ہوتے ہیں ۔اور جو بھی آپ کی صحبت میں وقت گزارتا ہے پھر آپ کا ہی ہوکر رہ جاتا ہے۔

المختصر یہ کہ آپ حسن مجسم، خلق بہترین، خزینہ حکمت، گنجینہ معرفت، صاحب جمال، قد پست نہ طویل، پاکیزہ و کشادہ چہرہ، چشم فراخ، بال گھنے و خم دار، خاموشی باوقار، گفتگو دل پذیر، واضح کلام، پسندیدہ خو اور عالی مرتبت ہیں