اوصاف عالیہ

 خدا تعا لیٰ نے آپ کو اوصاف حسنہ سے نوازا ہے ۔ آپ صوفی منش اور درویش صفت بزرگ ہیں ۔ آپ کی زیارت بابرکت سے تطہیر قلب و نگاہ میسر آتی ہے اور انسان اپنے جسم میں بوئے رحمت محسوس کرتا ۔ آپ کا دل عشق رسول ﷺ سے منور ہے ۔ معرفت الٰہی ، باطنی درجہ کمال ، توکل علی اللہ ، تسلیم و رضا ، صبرو تحمل ، قناعت و ایثار ، جو دوسخا ، عفو ودر گزر آپ کے اوصاف عالیہ ہیں ۔ آپ کا دن خلوت در انجمن اور راتیں ذکر الٰہی اور غورو فکر میں بسر ہوتیں ۔کم کھانا ،کم سونا ، فضول گئی سے پرہیز اور خدمت خلق آپ کا شکار ہے ۔ آپ نے فرقہ واریت اور لڑائی جھگڑے سے ہمیشہ پرہیز فرمایا ۔آپ کے اوصاف حسنہ خصوصا اخلاق عالیہ ، عاجزی و انکساری ، رحم دلی اور مہمان نوازی انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جو بھی ایک مرتبہ عقیدت و محبت سے آپ کے پاس آتا ہے بار بار حاضری کیلئے تڑپتاہے ۔ آپ ضبط و تحمل اور عزم استقلال کے درجے کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ظاہر و باطن میں خوف خدا رکھتے ہیں ۔ خدافراموش انسانوں کے قلب و ذہن سے زنگ عصیاں کو دور کر کے یادِ ا لٰہی کی شمع فروزاں کرنا آپ کی حیات طیبہ کا اصل مشن ہے ۔ الغرض آپ کی زندگی راہ حق کے متلاشیوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ آپ بندوں کی خدا تک رسائی کا نہایت مؤثر ذریعہ ہیں ۔اس دور میں جب کہ مادیت پرستی اور فحاشی اپنے پورے عروج پر ہے ایسی بزرگ ہستی کا موجود ہونا ہی کرامت ہے ۔ 

اخلاق حسنہ 

آپ کی سیرت پاک سے اخلاق عالیہ کا درس ملتا ہے ۔ آپ نے اپنی ذات کیلئے بھی غصہ نہیں فرمایا اور نہ کبھی سخت لہجہ میں گفتگو فرمائی ۔ ہر کسی سے خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں کوئی نیا ملنے والا بھی آپ کے اخلاق کر یمانہ کی وجہ سے اجنبیت محسوس نہیں کرتا۔ 

عاجزی و انکساری 

تواضح اور انکساری آپ کا وصف خاص ہے ۔ آپ تشریف لانے پر اہل محفل کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے ہیں ۔ اگر خود اوپر ہوں تو دوسروں کو بھی اپنے برابر میں جگہ دیتے ہیں ۔ حکم دینے کی بجائے اپنا کام خود کر لیتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ کا کام کرنے کیلئے بڑھتا ہے تو آپ منع فرما دیتے ہیں آپ میں غرورو تکبر نام کی کوئی چیزنہیں ہے ۔ آپ عام لوگوں میں گھل ملک کر رہتے ہیں ۔ اس لئے اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے ۔ بار ہا دیکھنے میں آیا کہ وہ لوگ جو پہلی مرتبہ آپ کی زیارت بابرکت کیلئے آتے ہیں آپ کی حد درجہ انکساری کی وجہ سے آپ کو پہچان نہیں سکے اور آپ ہی سے آپ کا پتہ پوچھتے ہیں ۔ آپ کی عاجزی کا یہ عالم ہے ہے کہ عقیدت مندوں سے اکثر فرماتے ہیں میرے لئے بھی دعا کیا کرو۔ اگر کوئی دعا کیلئے عرض کرتا ہے تو فرماتے ہیں میں تو خود گنہگار ہوں ۔ حاضرین محفل سے فرماتے ہیں کہ آپ سب بھی دعا کریں ۔ اللہ سب کی سنتا ہے ۔ آپ جب اپنے مرشد کی عطاؤں اور نوازشات کا تذکرہ کرتے تو عاجزی انکساری کے ساتھ فرماتے ہیں ۔ 

میں گلیاں دا روڑا ، کوڑا 

مینوں محل چڑھایا سائیاں 

سادگی 

آپ سادہ اور تکلف سے پاک زندگی بسر فرما رہے ہیں کھانے ، پینے، اٹھنے ، بیٹھنے میں کوئی تکلف نہیں اور نمود و نمائش کو پسند نہیں فرماتے ہیں ۔ زمین ، چٹائی اور فرش جہاں جگہ ملے بیٹھ جاتے ہیں آپ کے استعمال کی کوئی چیز علیحدہ نہیں بلکہ بوقت ضورت اپنی ذاتی اشیاء مثلا کپڑے جوتے وغیرہ مریدین کو استعمال کیلئے عنائیت فرما ددیتے ہیں غرصیکہ ہر کام میں سادگی اور بے تکلفی کو پیش نظر رکھتے ہیں تاکہ دوسروں کو کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس نہ ہو ۔

حسن معاشرت /خدمت خلق 

آقائے نامدار ، تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے کچھ خاص بندے ہیں جو لوگوں کی دادرسی کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت لوگ ان سے رجوع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھیں عذاب الٰہی سے امان ہے ۔ حضور قبلہ لاثانی سرکار کی ذات با برکت لطف و عنایات کی زندہ مثال ہے۔ آپ کے دربار میں رنگ و نسل ، ملت ، مذہب کا کوئی امتیاز نہیں کسی کو تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے ۔ بیماروں کی عیادت کرتے ۔ بیواؤں اور یتیموں پر خاص عنایت فرماتے ہیں جب کوئی حاجت مند عرض گزارہوتا ہے تو اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں اور حاجت روائی کرتے ہیں آپ کی کرم نوازی اور التفات کا دائرہ عقیدت مندوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر حاجتمند یکساں طور پر فیضیاب ہوتا ہے ۔ خدمت خلق کے دائرہ کار میں صرف ایسی خدمت ہی نہیں آتی جس کا تعلق محض جسم سے ہو بلکہ اس میں روحانی ، اخلاقی اور دینی خدمت بھی شامل ہے۔ کسی شخص کو روحانی اور اخلاقی طور پر گناہ یا بری چیز سے بچانا ، نیکی اور بھلائی کی ترغیب دینا خدمت خلق کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ۔ یہی خلاصہ ہے اس حدیث پاک کا جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ! اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ،صحابہ کرامؓ نے عرض کی مظلوم کی مدد تو ہوتی ہے لیکن ظالم کی مدد ہم کیونکر سکتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے ظلم سے روکناہی اس کی مدد ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ مدد یا خدمت روحانی اور اخلاقی ہے آپ سرکار امت محمدیہ ﷺ میں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ان گنت لوگوں کو پابند صوم و صلوٰۃ بنانا ، ماہانہ ہفت روزہ محافل ذکر اخلاقی و روحانی درس ، مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں خدمت خلق کاعین ثبوت ہے ۔ 

سخاوت / جودو سخا 

سخاوت اور در گذر آپ کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ سخی اس کو کہتے ہیں کہ آدمی کے پاس کچھ ہو نہ پھربھی ہو لوگوں کو نواز تے رہنا اس کی عادت بن چکی ہو کہ وہ تنگی کے وقت بھی خوش دلی اور خندہ پیشانی کے ساتھ سائل کو اسکی ضرورت عطا کرے ۔ سخی یہ نہیں سوچتا کہ اس کے پاس کچھ ہے بھی یا نہیں بخشش و عطا اس کی عادت بن جاتی ہے ۔ جب یہ عادت بڑھتی ہے تو جواد کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ۔ پھر وہ سائل کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیتا جو لوگ بھی حضور قبلہ لاثانی سرکار کی زیارت بابرکت سے مستفیض ہو تے ہیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آپ سائل کے سوال کا انتظار کئے بغیر اپنی عادت اور سر شت کے مطابق ہر کسی کو اپنے عطیات سے نوازتے ہیں ۔آپ پر خدا تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ آپ دل کے سخی ہیں آپ کے در سے لوگ روزانہ مرادوں سے دامن بھر کر لے جاتے ہیں ۔ آپ دینی اور روحانی نعمتوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ضروریات کے تحت انہیں مال و متاع دنیوی سے بھی نواز تے ہیں ۔ آپ کی سخاوت کی گواہی خود نبی کریم ﷺ نے دی اور آپ کے ایک عقیدت مند کو عالم رویاء میں فرمایا ۔ 

’’اس دور میں لاثانی سر کار سخی ہیں ‘‘۔

محبوب حبیب کبریاحضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے عالم رویاء میں فرمایا ’’لاثانی سرکار سخی سلطان ہیں‘‘۔

مہمان نوازی 

در لاثانی پر مہمان نوازی کا انوکھا رنگ دیکھنے میں آیا ہے آپ کے در پر کوئی بھی آ جائے خواہ وہ اپنا ہو یا غیر آپ ہر کسی سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔مہمانوں کی آمد پر خوشی کا اظہار فرماتے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ کا انعام خیال کرتے ہیں اور ان کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے آپ کی مہمان نوازی میں سنت نبوی کا عکس نمایا ں ہے ۔ آپ مہمانوں کے آرام کا بذات خود خاص خیال رکھتے ہیں ۔ اپنے دست مبارک سے مہمانوں کیلئے اشیاء خوردو نوش لیکر آتے ہیں ان کے لئے بستر بچھاتے ہیں ۔ رات کو مہمانوں کے ساتھ کھاتے ہیں اور انہیں اصرار کے ساتھ کھلاتے ہیں ۔ آپ کی اعلیٰ درجہ کی مہمان نوازی اور حسن سلو ک کا ہی نتیجہ ہے کہ کوئی بھی عقیدت مند کسی بھی وقت آپ کے در اقدس پر جانے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ۔دن ہو یا رات جب بھی کوئی زیارت کیلئے بیتاب ہوتا ہے بلا جھجک رخت سفر باندھ لیتا ہے ۔ یہی سوچ کر کہ میرے آقا کا در ہر وقت ہر خاص و عام کیلئے کھلا ہے ۔ جو بھی عقیدت مند در اقدس پر حاضر ہوتے ہیں نوجوانوں سے ان کی تعلیم اور لوگوں سے ان کے کاروبار اور ملازمت سے متعلق دریافت فرماتے ہیں ۔ ان کی دین و دنیا کی بہتری کیلئے دعا فرماتے ہیں اور انہیں بصد خلوص رخصت فرماتے ہیں ۔ 

خواتین کی اصلاح 

حضور قبلہ صدیقی لاثانی سرکار کے فیض عام سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی یکساں فیضیاب ہو رہی ہیں آپ نماز و ذکر کے بعد عورتوں کو سب سے پہلا حکم پردے کا فرماتے ہیں ۔ انہیں خاوند کے حقوق ، اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ حسن اخلاق کا درس دیتے ہیں ۔آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ عورتوں کا اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرنا اور مہمان نوازی جہاد ہے ۔ نیز عورتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں میں کام کرتے ہوئے زبان ، سانس یا دل کے ساتھ اسم اعظم ’’اللہ ‘‘ کا ذکر و تصور رکھیں۔ اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اگر عورتیں پابند صو م و صلوٰۃ ، با کردار گھریلوں ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ہر وقت ذکر وفکر میں مشغول رکھنے والی ہوں تو ان کے ہاتھ کے پکائے ہوئے کھانے میں نورانیت ہوتی ہے اور اس کو کھانے والا بھی نیک اعمال کی طرف راغب ہوتا ہے ۔ آپ کی تعلیم و ارشاد کے نتیجہ میں بے شمار عورتیں پابند صوم و صلوٰۃ اور با کردار بن گئیں ۔ ان کے اہل خانہ ، ملنے جلنے والی عورتیں ان کی مسلسل صحبت کے باعث اسی رنگ میں رنگنے لگتی ہیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے خاندان کا خاندان بدل جاتا ہے اور دل میں جہاں پہلے دنیاوی مسائل اور پریشانیاں جگہ کئے ہوتی ہیں وہاں آپ کی نظر کرم کے باعث محبت الٰہی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ جو کہ ہمارا اصل مقصود اور مقصد تخلیق بھی ہے ۔ آپ کے فیض نظر سے بہت سی عورتیں روحانیت کے بلند مقام پر پہنچ گئیں ۔ آج پاکستان کے مختلف شہروں میں نہ صرف مردانہ محافل ذکر بلکہ خواتین کی ہفت روزہ یا ماہانہ ذکر کی محفلیں بھی منعقد ہوتی ہیں جن میں حلقہ ذکر کے علاوہ شریعت و طریقت کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ 

یاران طریقت سے محبت 

یاران طریقت سے کے ساتھ آپ کا برتاؤ نہایت مشفقانہ ہو تا ہے آپ کے اس قدر محبت سے پیش آنے کی وجہ سے ہر کوئی یہی خیال کرتا ہے کہ حضور قبلہ صدیقی لاثانی سرکار مجھ ہی سے سب سے زیادہ محبت فرماتے ہیں ۔ انکساری کا یہ عالم ہے کہ مریدین کیلئے ہمیشہ پیر بھائی کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور انہیں اپنے برابر میں جگہ دیتے ہیں ۔ یاران طریقت میں جو بوڑھے اور ضعیف العمر ہیں آپ ان کی بہت عزت کرتے ہیں اور ان کے آرام کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ عقیدت مندوں سے محبت کی بناء پر ان کے مسائل جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں حل کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش فرماتے ہیں اگر کسی کا معاشی مسئلہ ہو تو آپ مالی امداد فرماتے ہیں ۔ اگر کبھی کوئی کسی غلط مقصد کیلئے عرض کرتا ہے تو مدلل انداز میں نہایت محبت کے ساتھ اس کی اصلاح فرماتے ہیں ۔ اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو آپ پردہ پوشی فرماتے ہیں ۔ بر سر محفل کبھی بھی کسی کا نام لیکر غلطی کا تذکرہ نہیں فرماتے بلکہ عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے مناسب اندا زمیں اصلاح فرماتے ہیں ۔ آپ کا اصلاحی انداز اتنا دلکش ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے اور آئندہ غلطی کرنے سے بچ جاتا ہے ۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس طرح ماں اپنے بچے کو نقصان کرنے پر سزا نہیں دیتی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ بچہ نا سمجھ ہے ۔ اسی طرح پیر بھی مریدوں کو ان کی غلطیوں پر سزا دے کر انہیں اپنے در سے دور نہیں کرتے وہ ہر کسی سے نبھاتے ہیں آپ اکثر فرماتے ہیں ۔ 

لجپال پریت نوں توڑ دے نئیں ۔ 

تعلیم و تلقین 

جب بھی کوئی اللہ رسولﷺ کا طالب آتاہے آپ بہت خوش ہوتے ہیں اور اس پر خصوصی توجہ فرماتے ہیں آپ کا طریقہ تلقین یہ ہے کہ جس طالب کو سلسلہ میں داخل فرماتے ہیں اول توبہ اور انابت کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں ۔ پھر عقیدہ درست رکھنے اور نماز کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں ۔ وظائف کے علاوہ ہر وقت سانس کے ساتھ ذکر ، تصور اور بلند آواز کے ساتھ ذکر کی تلقین فرماتے ہیں ۔ پھر اگر کسی طالب میں عقیدت اور محبت زیادہ دیکھتے ہیں تو ذکر کے علاوہ فکر ، رابطہ ، مراقبہ اور محاسبہ کی تلقین فرماتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس سے بہت جلد طالب کیلئے آگے کا راستہ کھلتا ہے ۔ آپ کی تعلیم و تلقین میں یہ امر قابل غور ہے کہ آپ جس طالب کو ذکر اور توبہ کی تعلیم فرماتے ہیں ۔ اس تعلیم کے ساتھ اپنی توجہ اور ہمت کو اس کے شامل حال رکھتے ہیں ۔ اس کی توجہ کو منتشر کرنے والے محرکات کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے اسی وقت طالب کا دل ذاکرہوجاتا ہے اور حضور و توجہ سے اسے اپنی آغوش میں لے لیتا ہے آپ کی یہ عنایت عام طور پر ہے ۔ آپ کی توجہ میں اس قدر تیزی ہے کہ بے شمار طالبین آپ کی توجہ کے زیر اثر آگئے اور کئی مغلوب و مجذوب ہونے سے بچا لئے گئے ۔ آپ نے ہمیشہ رضائے الٰہی کے مطابق زندگی بسر کی اور لوگوں کو بھی یہی تعلیم دیتے ہیں ۔نیز اپنے تابعین کو شکر اور عاجزی کی تلقین فرماتے ہیں ۔ حقوق اللہ ، حقوق العباد پر زور دیتے ہیں فضول گوئی سے پرہیز اور حسن سلوک کی تلقین فرماتے ہیں ۔ طالبین حق سے اکثر ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے اللہ رسول ﷺ کیلئے ملو دنیاوی سائل تو پیدا ہو تے ہی رہتے ہیں ۔ ساتھ ہی ارشاد فرماتے ہیں کہ جو خدا اور رسول ﷺ کی طلب اور محبت رکھتا ہے خدا اس کے مسائل کا حل اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ آپ نے اپنے بیان میں رزق حلال کی اہمیت کو اجاگر کیا آپ فرماتے ہیں کہ ایسا انسان جس کی نظر اپنے اعمال کی بجائے رحمت خداوندی پر ہوتی ہے وہ اپنے حسن ظن کی بدولت جلد منزل کو پا لیتا ہے ۔ 

طریقت کے وہ باریک مسائل اور نقاط جو مدتوں غوروفکر کے بعدبھی سمجھ نہ آتے ہیں آپ نہایت سادہ اور جامع دلائل کے ساتھ ان مسائل کو حل فرمادیتے ہیں اور جب تک سائل کو اپنے سوالات کا جامع اور ٹھوس جواب نہ ملے آپ آیات و احادیث اور اولیاء کرام کے واقعات وا قوال سے بات کو واضح فرماتے ہیں ۔ بار بار بتانے اور سمجھانے سے بالکل نہیں گھبراتے ۔آپ کی گفتگو دلائل سے لبریز ایسی پر تاثیر ہوتی ہے کہ انسان بلا چوں و چرا انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تمام شکوک زائل ہو جاتے ہیں ۔ آپ تصوف و فقر اور روحانیت میں بہت وسیع و بلیغ نظر رکھتے ہیں اور اس کے ہر موڑ سے علمی اور عملی طور پر کما حقہ واقفہ ہیں آپ کی ساری زندگی اسی دشت کی سیاحی میں گزری اس دوران آپ کو ہر مکتب خیال اور اور انداز فکر کے لوگوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملا یہی وجہ ہے کہ آپ لوگوں میں علم و معرفت کے ایسے خزانے تقسیم کر رہے ہیں جنہیں ان گنت گنہگار اپنی جھولیوں میں سمیٹ کر نیکو کار بن گئے ۔ آپ کے سننے والوں میں درویش و مشائخ ، امیر و غریب خاص طور پر نوجوا ن ، بچے ، بوڑھے الغرض ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں ۔ 

صحبت با بر کت کا فیض 

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کے دیدار سے تم کو اللہ کی یاد آئے ، جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو ، جس کے عمل سے تمہاری رغبت آخرت کی طرف بڑھنے لگے حضور لاثانی سرکار کی صحبت با برکت اور تعلیم و تلقین کی بدولت لوگ دین کی طرف راغب ہو ئے اور عبادت و ریاضت کو اپنا شعار بنالیا ۔ بے شمار راہ حق کے متلاشیوں نے آپ کی صحبت با فیض سے عشق کی چاشنی اور معرفت کی روشنی حاصل کی اور ان گنت گنہگاروں نے اپنی زندگیاں سنوار یں ۔بہت سے غیر مسلک لوگوں نے آپ کے دست حق پر بیعت کی اور راہ حق پر گامزن ہوئے ۔ بہت سے غیر مسلک کے لوگوں نے آپ کے دست حق پر بیعت کی اور راہ حق پر گامزن ہوئے ۔ آپ کی محبت با برکت کے طفیل کند ذہنوں کو کشادگی نصیب ہوئی ۔ خواہشات نفسانیہ سے دل پاک اور مشاغل دنیا سے لاتعلق ہو تا چلا جاتا ہے ۔ آپ کی صحبت بابرکت کے اثر سے دل ذکر الٰہی کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔ خود شناسی اور خدا کی معرفت کا جذبہ پیدا ہو تا ہے اور حجابات اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ 

حدیث مبارکہ سے واضح ہو تا ہے کہ انسان اپنے دوستوں کے عادات واطوار اپناتا ہے اور وہی خصوصیات اس میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں حضور قبلہ لاثانی سرکار کو بے نمازی کے ہاتھ کا کھانا پینا منع ہے ۔ آپ کی اس عادت مبارکہ کے طفیل آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے بھی پابند صوم و صلوٰۃ بن گئے ۔ الغرض آپ کی صحبت با برکت کا ہر لمحہ فیوض و برکات کا آئینہ دار اور ہر ساعت کرم خاص کا مظہر ہے ۔ 

حضرت سلطان باہوؓ فر ماتے ہیں 

اور یاد رکھو فقیر فنا فی اللہ صاحب حضور ہوتا ہے واحدانیت الٰہی میں غرق کرنا ور مجلس محمدی ﷺ میں پہچانا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں بلکہ آسان ہے اور صرف ذکر وفکر اور زہد و تقویٰ سے یہ بات حاصل ہونا دشوار ہے کیونکہ مرشد کامل و مکمل طالب اللہ کا ہاتھ پکڑ کر منزل مقصود کو پہنچا سکتا ہے ۔ جس شخص کو یہ قدرت نہ ہو اسے کامل مکمل کہنا غلط ہے بلکہ وہ راہزن ہے ۔ (عین الفقر )