روحانی ارتقاء

 آپ کا بیعت ہونا تھا کہ عشق کی چنگاری جو آہستہ آہستہ سلگ رہی تھی شعلہ بن کر بھڑک اٹھی ۔ آپ مرشد کے عشق میں تڑپنے لگے ۔ دل ہر لمحہ مرشد کے تصور میں غرق اور زباں ہر دم محبوب کے ذکر میں مصروف رہنے لگی ۔ عشق ایک آگ ہے جو دل و جاں ہوش و خرد سب کو جلا ڈالتی ہے ۔ آپ کو بھی مرشد کے عشق میں نہ کھانے پینے کا ہوش تھا نہ آرام سے کوئی غرض رہی بس اپنی ذات سے بے خبر ہر دم مرشد کی ذات میں فنا رہتے ۔ شیخ کی محبت نے آپ کو اس مقام پر پہنچادیا جہاں آپ کو موسم کی شدتوں کا بھی احساس نہ رہا ۔ زماں و مکاں سے بے خبر ہو گئے وقت عشق کے نشے میں مخمور ، نیم مجذوبانہ کیفیت رہتی ۔ جب بھی محبوب مرشد کے دیدار کا شو ق شدت اختیار کرتا تو جس حال میں بھی ہوتے کوئے یار کی جانب چل پڑتے ۔ سخت سردیوں کے موسم میں بھی جسم پر ایک باریک سا کرتہ ہو تا اور گرمیوں میں چلملاتی دھوپ میں برہنہ پاہی زیارت کے شوق میں مست آستانہ شریف چل پڑتے اگر کوئی اچھی بس نہ ملتی تو ٹوٹی پھوٹی خراب بس میں ہی بیٹھ جاتے اور انتظار نہ کرتے ، یہ سوچ کر کہ کبھی تو میرے آقا کے در پر پہنچائے گی ۔ عشق بے مثال کا یہ عالم تھا کہ فیصل آباد سے ہر تیسرے چوتھے روز زیارت محبوب سے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے کیلئے آستانہ عالیہ( ملتان شریف ) حاضر ہوتے ۔ بارہا ایسا ہوتا کہ ابھی آپ کو آستانہ عالیہ سے واپس آئے چند گھنٹے گذرتے لیکن دل بیتاب ہو جاتا اور مرشد کی زیارت کیلئے مچلتا ، آپ اسی وقت واپس آستانہ عالیہ ( ملتان شریف ) حاضرہو جاتے اور جب خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تو چپ چاپ محبت کے ساتھ چہرہ انور کی زیارت کرتے رہتے ۔ مرشد کی خدمت کرتے اور کبھی بھی اپنے دنیاوی مسائل سے ان کو پریشان نہ کرتے ۔ آپ کی صرف ایک ہی عرض ہوتی یعنی آپ ہمیشہ طالب ذات رہتے ۔ مرشد اکمل حضور قبلہ چادر والی سرکارؒ آپ کے عشق سے بے خبر نہیں تھے ۔ آپ کی طلب اور عشق کو دیکھتے ہوئے ایک دن قبلہ حضور میاں صاحب ؒ نے آزمائش کی خاطر ایسے فرمایا ۔ 

’’اجی بابو جی ! فقیری نہ مانگو جی !، بڑی مشکل ہے اجی ! دنیا بھی لے لو اور دین بھی ، دنیا میں بھی آرام سے زندگی گزرے گی اور آخرت میں جنت بھی مل جائے گی ۔‘‘

لیکن جب محبت الٰہی کا پوری طرح غلبہ ہوتا ہے تو مادی دنیا کی کشش انسان کیلئے بے اثر ہو جاتی ہے ۔ آپ کی نظریں کبھی بھی دنیاوی مال و اسباب پر نہیں گئیں نہ ہی آپ نے کبھی مقام و مرتبہ یا اخروی زندگی کے انعامات کا لالچ کیا آپ تو اس ذات کے طالب تھے جس کے سامنے کل کائنات ذرہ خاک سے بھی کمتر دکھائی دیتی ہے ۔ پھر قلیل کو کثیر پر ترجیح کیسے دیتے اسی لئے آپ نے جواب دیا ۔ 

’’میرے آقا دنیا اور آخرت دونوں کو قربان کرتا ہوں ۔ میں تو طالب حق ہوں‘‘۔ 

درویشی راحت و آرام سے نہیں بلکہ اذیتوں اور مشکلات کو برداشت کرنے سے ملتی ہے ( جیسا کہ مرشد اکمل نے آپ کو شروع ہی میں آگاہ فرمادیاتھا ) پس باوجود یہ کہ آپ متمول گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، آپ نے قد م اول ہی میں جاہ و جمال سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔ یعنی آپ کا اولین مجاہدہ ہی یہ تھا کہ حقیقت تک پہنچے کیلئے آپ نے بالا تر مناسب اور مقالا ت دنیوی کو ترک کردیا ۔ والد محترم کی طرف سے ورثہ میں ملی ہوئی تمام دولت و جائیداد اپنے مطلوب و مقصود کے نام پر قربان کر دی ۔ آپ کو دولت و جائیداد اپنے مطلوب کی راہ میں رکاوٹ محسوس ہوئی ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں جانتا تھا کہ راہِ حق میں ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب مجھے ان تمام چیزوں کو خیرباد کہنا پڑے گا اور یہی آپ کی طلب کا تقاضا بھی تھا ۔ جیسا کہ حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو کوئی مجھ سے محبت کا دعویدار ہو ا پنے آپ کو فقرو فاقہ کیلئے تیار کرے ( مشکوٰۃ ) ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے یہی سوچا کہ جو جو چیزیں مجھ پر آئندہ آئیں گی جب مجھے ان تمام چیزوں کو چھوڑنا پڑے گا کیوں نہ آج ہی اپنے مولا کے نام پر قربان کر دوں تاکہ جلد از جلد اپنے مقصود تک پہنچ سکوں کیونکہ آپ جانتے تھے کہ مال و دولت راہ حق میں حجاب ہیں اور ان چیزوں کو محبوب رکھنے والا کبھی بھی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو شخص ان لوگوں میں سے ہو جنہیں خدانے اپنی دوستی کیلئے چن لیا ہو ان پر بلاو مصیبت اور مذمت کا آنا ضروری ہے ۔یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا جب تمام دولت جاتی تو غلط قسم کی باتیں بنانا شروع کردیں ۔بہتان بازی اور الزام تراشیوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن آپ کو ان چیزوں کی پرواہ ہی کب تھی آپ تو بس ہر وقت مرشد کے عشق میں مست رہتے ۔ ہمہ وقت بے چینی و بے قراری کی کیفیت طاری رہتی یعنی کس پل قرار نہیں تھا سوائے دید مرشد کے یہی وجہ تھی کہ ہر تیسرے چوتھے روز فیصل آباد سے ملتان شریف ( آستانہ عالیہ ) درا قدس میں حاضر ہوتے تو حضور میاں صاحبؒ سب سے آخر میں دریافت فرماتے ۔ 

’’ہاں جی بابو جی کیسے آئے ہو جی ؟

آپ ہاتھ باندھ کر عرض کرتے حضور غلام آپ کی زیارت کیلئے حاضر ہوا تھا تب فوراً ہی حضور میاں صاحبؒ فرماتے ’’ اچھا بابو جی کر لی زیارت ، اب اجازت ہے جی ‘‘۔ یہی وقت آزمائش کا تھا ۔ جب ایک طرف اتنی شدید محبت اور دوسری طرف یہ عالم بے نیازی ، لیکن سچے عاشق کیلئے تو اپنے محبوب کی جفا بھی ادا ہوتی ہے اور عشق تو وہ مقام ہے کہ جہاں سر کی کوئی فکر نہیں ہوتی ۔ سر کانذرانہ تو راہ عشق میں شرط اول ہے اور یہاں جو بھی آتا ہے سربکف ہی آتا ہے ۔ رہا دل ، تو دل اور اس کی بیقراری یہ تو متاع عشق ہیں ۔ محبوب کی بے نیازی آتش عشق کو مزید بھڑکاتی تھی ۔ اکثر ایسا ہونے لگا لیکن اس کے برعکس آپ کی محبت تیز سے تیز تر ہو تی چلی گئی ۔ ہاں ایک مرتبہ حضور میاں صاحب ؒ کی بے نیازی سے ایک لمحہ کیلئے دل میں خیال گزرا کہ یہ آزمائش کب تک چلے گی قریب تھا کہ مایوسی کی کیفیت پیدا ہوتی ، فوراً ہی مرشد برحق کی محبت کا غلبہ ہوا اور سوچنے لگے کہ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ جان چلی جائے گی اگر ایسا ہوا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے عرض کردوں گا۔ 

’’اے اللہ ! میں تیری خاطر مر گیا ‘‘ ۔ مرشد سے محبت مزید تیز ہو گئی حتیٰ کہ آپ محب سے محبوب بن گئے ۔ 

بیعت ہونے کے کچھ عرصہ بعد حضور میاں صاحب ؒ نے کرم فرمایا اور آپ کو ہفت روزہ محفل ذکر کی اجازت مرحمت فرمائی اور آپ جوش و خروش سے محفلیں کروانے لگے ۔ جو لوگ عالم حقیقت میں قدم رکھتے ہیں وہ کچھ اس طرح محو حقائق اور مست بوئے گل ہو جاتے ہیں کہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتے ہیں ۔ ایسے عاشق بہت کم مگر انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔ آپ پر ہر وقت بے خودی طاری رہتی اور زبان ہر دم محبوب کی ( ذکر )صفت و ثناء بیان کرتی رہتی اور جب ذکر کرنے بیٹھتے تو زمان و مکاں سے بے نیاز ہو جاتے ۔ آپ مذہب سے دور بیگانہ گمراہ لوگوں کے پاس بھی جاتے انہیں اللہ و رسولﷺ کی باتیں بتاتے ۔ ان کے سامنے اپنے مرشد کی شان بیان کرتے اور انہیں محفل ذکر میں شرکت کی دعوت دیتے۔ ان کی بے راہروی کی وجہ جان کر ان کی مالی امداد بھی فرماتے اور یہ آپ کی کوششوں ہی کا نتیجہ تھا کہ بالآخر وہ برے کاموں سے تائب ہو کر دین کی طرف راغب ہو ئے اور آج بھی معاشرے میں با عزت زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ 

حاسدین اور مخالفین نے آپ کے ان لوگوں کے ساتھ تعلقات کو غلط رنگ دیا اور وہ جو پہلے ہی آپ کے مخالف تھے اب تو انہیں شکایتوں کا ایک سنہری موقع ہاتھ آگیا اور اکثر حضور میاں صاحبؒ کے حضور من گھڑت اور بے بنیاد باتیں کرنے لگے ۔ لیکن مرشد تو جانتے تھے کہ حقیقت کیا ہے اس لئے ان کی باتوں پر کبھی توجہ نہ فرمائی ۔ آپکو بھی ان سب باتوں کا علم ہوتا لیکن آپ اپنی رحم دلانہ طبیعت کے باعث سب کچھ جانتے ہوئے بھی انہی لوگوں کیلئے حضور میاں صاحب سے سفارشیں کرتے اور دعائیں کرواتے آخر ایک دن ان کے شکایتیں لگانے پر قبلہ حضور میاں صاحب نے انہیں فرمایا ۔ 

’’اجی انسان کی ذہنیت کا اس بات سے ہی پتہ چل جاوے ہے ۔ اجی بابو جی آویں ہیں تو آپ کیلئے دعائیں کرواویں ہیں اور آپ ان کی شکایتیں لگا ؤ ہو جی ‘‘۔

محفل کی اجازت کے بعد اکثر پیر بھائی (فیصل آباد ) اپنے کسی مسئلہ کیلئے ملتان حاضری دیتے تو قبلہ حضور میاں صاحب ان سے فرماتے ’’اجی ان کی محفلوں میں حاضری دیا کرو ‘‘۔ ساتھ ہی مٹھائی کا ڈبہ بھی عنایت فرماتے کہ یہ ہماری طرف سے بابو جی کو دے دینا ۔ 

آپ اکثر مرشد کی محبت میں فرماتے ہیں ۔

’’میں اپنے رب سے زندگی اس لئے مانگتا ہوں کہ ساری زندگی اپنے آقا کا ذکر کرتا رہوں ‘‘۔

آپ کے ذکر کی بدولت بے شمار لوگ حضور قبلہ چادر والی سرکار ؒ کے ارادتمندوں میں شامل ہو کران سے بیعت کے اعزاز سے سرفراز ہوئے آپ نے کبھی بھی مرشد کے کسی قول و فعل پر اعتراض نہ کیا ۔ ان کی ہر بات کو محبت کی نظر سے دیکھتے اور اپنی نسبت پر فخر کرتے ۔ کھانے پینے کا تعلق تو وجود خاکی سے ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کے بندے بشریت کی حدود طے کر کے فنا کی حدود میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں کھانے پینے کی کوئی حاجت نہیں رہتی ۔ پھر وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے خوان نعمت سے انہیں کھانا ملتا ہے ۔ ان کا انس ربی ان کی پیاس کیلئے تسکین پیدا کرتا ہے ۔ آپ بھی جب عشق محبت کی بے خودی میں اپنا آپ بھلا بیٹھے تو آپ کا کھانا پینا سب کچھ ختم ہو گیا ۔ مرشد کی طرف سے ترک طعام کا حکم ملا ۔ جب کھانا پینا ختم ہوا تو جسم لا غر کمزور ہو گیا کمزوری صحت کا یہ عالم تھا کہ آپ سے پانی کا گلاس بھی نہیں پکڑا جاتا تھا ۔ 

حضرت داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں کہ محبت کرنے والے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ وہ محبت کے راستے میں مٹ جائے ۔ آپ بھی محبوب کے نام پر مٹ گئے جسم پر گوشت نام کی کوئی چیز نہ رہی ، شکل مبارک بالکل بدل گئی ۔ حتیٰ کہ لوگ پہنچاننے سے انکار کر دیتے تھے ۔ انڈا ، گوشت ،مچھلی بالکل استعمال نہیں کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر کے پاس تشریف لے گئے اس نے آپ کا بلڈ پریشر چیک کیا تو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا اس آلہ کو کیا ہوا ابھی تو یہ بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا پھر کہا کہ میں نے آج تک ایسا آدمی نہیں دیکھا جس کا بلڈ پریشر اتنا کم ہو اور وہ زندہ بھی ہو ۔ 

ایک حکیم نے نبض چیک کی تو حیران رہ گیا اور کہنے لگا کہ میری زندگی میں یہ پہلا کیس ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو زندہ دیکھ رہا ہوں جس میں کچھ بھی نہیں آپ کیلئے خلوت کی کشش بڑھ گئی سب سے الگ تھلگ رہے ۔ جب نوبت یہاں تک آپہنچی تو آپکی اس حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان نے بھی اپنی سرگرمیاں تیز تر کر دیں ۔ مختلف لوگو ں کے بھیس بدل بدل کر آپ کو ورغلانے کی کوششیں کیں ۔لوگوں نے جب دیکھا کہ کسی قسم کی بہتان بازی اور الزام تراشیوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آپ کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں اور اسی قدر مذمت کے باوجود بھی آپ کے پائے اثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی تو انہوں نے آپ کو راہ حق سے ہٹانے کیلئے دوسرا طریقہ اختیار کیا کوئی آپ سے کہتا کہ تم کس کے پیچھے لگے ہو ، بالکل برباد ہو گئے ہو ، کوئی کہتا کہ تمہارا پیر کیسا ہے ؟ جس نے تمہیں ( نعوذ باللہ) بالکل ہی اجاڑ کر رکھ دیا ہے ، کبھی آپ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے کہ تم کن راستوں پر چل پڑے ہو ، دولت و جائیدا د ختم ہو گئی اور بیوی بچے بھی نہ رہے غرض یہ کہ ان گنت مشکلات اور رکاوٹیں آپ کی دیوار بنیں ، لوگوں نے آپ کو راہِ حق سے دور رکھنے کی بہت کوشش کیں مگر جو طالب ہدایت مقبولان خدا اور محبوبان مصطفےٰﷺ کا ہمسفر ہو جاتا ہے پھر خدا بھی اسی انداز سے مدد کرتا ہے کہ وہ شیطان کے جال میں نہیں پھنس سکتا۔ سبحان اللہ ! مرشد بے بدل قبلہ حضور میاں صاحب نے اس مقام پر بھی آپ کی دستگیری فرمائی اور شیطان کے حربوں سے بچا لیااور آپ نے لوگوں کو جواب دیاکہ۔

’’ مجھے ان چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ، بے شک میری جان بھی چلی جائے ، مجھے قطعاً پرواہ نہیں مجھے تو میرے آقا کے قدموں میں جگہ چاہیے تھی جو کہ مجھے مل گئی ، یہی میرے لئے دولت کونین ہے ‘‘۔ کچھ عرصہ بعد مرشد کی طرف سے حکم ہوا ’’اجی بھوک لگے تو دال روٹی کھا لیا کرو ‘‘۔

مختصر یہ کہ مرشد اکمل نے اپنی جوہر شناس نظروں سے آپ کے اندرونی اوصاف دیکھتے ہوئے نہایت احسن طریقے سے آپ کی ظاہری اور باطنی تربیت فرمائی اور بہت جلد آپ پر مکاشفات اور تجلیات کی بارش ہونے لگی ۔ مرشد اکمل بڑی تیزی کے ساتھ روحانی مدارج طے کراتے گئے ۔ 

ایک رات مرشد نے عالم رویا میں اسی قسم کے کرم کا مشاہدہ کرایا ۔ آپ نے دیکھا کہ حضور میاں صاحب آپ کا ہاتھ پکڑ کر چل رہے ہیں راستے میں حضور میاں صاحب نے آپ کو ایک بزرگ دکھائے جو پانی میں کھڑے مجاہدہ میں مصروف تھے ۔قبلہ آقا و مولا نے فرمایا ’’اجی دیکھو جی ! یہ دس سال سے پانی میں کھڑا جس مقام کو طے کرنے کیلئے مجاہدے کر رہا ہے ہم آپ کو پلک جھپکتے میں ہی یہ مقام طے کروا دیتے ہیں پھر ایسا ہی کیا‘‘۔

سبحان اللہ ! کیا کہنے مرشد کی عطا کے یہ حضور میاں صاحب کے کرم کی ادنیٰ سی جھلک تھی۔ نظر کامل سے اسی طرح سیراب ہوتے رہے لیکن تشنگی بڑھتی رہی اور آپ مزید کرم کی درخواست کرتے۔ ایک رات کرم کی التجا کرتے کرتے ہلکی سی اونگھ آگئی کیا دیکھتے ہیں کہ آقا ومولا قبلہ حضور میاں صاحب المعروف چادر والی سرکار ؒ تشریف لائے اور فرمایا !

’’محبت کرنے سے بڑھتی ہے ‘‘۔

بے شک جب توفیق الٰہی سے محبت نصیب ہو جاتی ہے تو پھر بندے پر منحصر ہے کہ کوشش کرے توجہ اور تصورِ شیخ میں فنائیت حاصل کرے تاکہ معراج محبت حاصل ہو ۔ آپ فرماتے ہیں کہ محبوب کی ذات میں اس قدر گم ہو جاؤ کہ اپنا کہیں پتہ نہ پاؤ اس قدر فنا ہو جاؤ کہ من و تو کا سوال باقی نہ رہے ۔ صرف محبوب کی ذات باقی رہ جائے ۔ 

خواجہ قادر بخش ؒ کا قول ہے کہ ’’ایسا ہونا چاہیے کہ محبوب و مطلوب کے سوا کسی کی طر ف بھی نہ دیکھے ، تب طالب کمال کو پہنچتا ہے اور انوار رحمانی اس پر وارد ہوتے ہیں ۔محض عبادت پر منحصر نہیں‘‘۔

آپ بھی محبت شیخ میں اس قدر آگے نکل گئے کہ آپ کا اندازہ خوردو نوش ، نشست و برخاست سب کچھ مرشد سے مشابہ ہو گیا ۔ اکثر اوقات قریب رہنے والوں نے مشاہدہ کیا کہ آپ کا چہرہ مبارک مرشد کے چہرہ انور میں تبدیل ہو گیا ۔ یہ سب غلبہ عشق اور مرشد کی فیض نظر کا نتیجہ تھا ۔ اس طرح فنا فی الشیخ کی منزل مکمل ہوئی۔ 

تقریباً پانچ چھ سال نیم مجذوبانہ کیفیت رہی ۔ اس دوران آپ نے کوئی دنیاوی شغل اختیار نہیں کیا ۔ دن رات یک گونہ خمار کا عالم طاری رہتا ، ایک روحانی نشہ تھا جو آپ کو دنیا و مافیا سے بیگانہ رکھتا تھا ۔ جب فنا فی الشیخ کی منزل مکمل ہوئی تو رفتہ رفتہ طبیعت میں سکون آتا گیا ۔ اب آپ نے کاروبار کی طرف دھیان دیا تا کہ رزق حلال کما کر مخلوق خدا کی خدمت کی جائے ۔ کئی کاروبار کئے لیکن آپ کی سخاوت کی عادت کی بنا پر کوئی کاروبار نہ جم سکا ۔ اگر کوئی غریب گاہک آپ کی دکان پر آتا اور اپنی معاشی تنگدستی کا اظہار کرتا تو آپ خرید سے بہت کم قیمت پر وہ اشیاء اس کو دے دیتے حتیٰ کہ اگر کوئی بہت ہی غریب اور ضرورت مند ہوتا تو نہ صرف یہ کہ اسے مفت اشیاء فراہم کرتے بلکہ اسکی ضرورت کے تحت مالی امداد بھی فرماتے ۔ اس طرح سے ہر کاروبار آپ کی سخاوت کی نظر ہو گیا ۔قبلہ حضور میاں صاحب نماز کی تاکید تو شروع ہی سے فرماتے تھے ۔ نیم مجذوبیت کی حالت میں بھی اس قدر سختی فرماتے کہ ترک نماز تو درکنار آ پ کو نماز میں سستی بھی گوارہ نہ ہوتی ۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن قبلہ لاثانی سرکار نے مرشد پاک کی خدمت میں (ملتان ) حاضری دی اور تھوڑی دیر خدمت اقدس میں قیام کے بعد ہی واپس فیصل آباد تشریف لے آئے ۔ سارا دن مسلسل سفر میں رہنے کی وجہ سے تھکاوٹ بہت زیادہ ہو گئی تھی ۔ چنانچہ آرام کی غرض سے بستر پر لیٹ گئے اور آپ کی آنکھ لگ گئی ۔ قریب تھا کہ آپ کی نماز قضاء ہو جاتی ، عالم رویاء میں دیکھا کہ مرشد اکمل چادر والی سرکار ؒ جلالت کے عالم میں تشریف لائے ۔ آپ کو نماز میں سستی پر سخت تنبیہہ فرمائی اور اٹھا کر بٹھا دیا ۔ 

تبلیغ دین 

جب سلوک کا راستہ طے ہو گیا اور آپ کی تربیت مکمل ہوئی تو قبلہ حضور میاں صاحب نے تبلیغ و ترویج کا حکم دیا ۔ اس کا ر خیر پر آپ عمل پیرا تو ابتداء ہی سے تھے لیکن آپ کا دائرہ عمل صرف اپنے آس پاس کے علاقوں تک محدود تھا ۔ جب مرشد نے آپ کو تبلیغ وارشاد کا حکم فرمایا تو آپ اور زیادہ سر گرمی کے ساتھ اس حکم کی بجا آوری میں مصروف ہو گئے ۔ آپ نے تبلیغ وارشاد کے دائرہ عمل کو بڑھایا اور مقصد کیلئے دور دراز کے قصبوں اور دیہاتوں کا رخ کیا۔ آپ جس گاؤں یا مقام پر جاتے تو آپ کو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا کہ وہاں لوگ دین اسلام ، احکام شرعیہ ، اور سنت نبوی ﷺ سے بالکل واقف نہیں ۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر لوگ ایسے ہوتے جنہیں نماز بھی پڑھنا نہیں آتی تھی آپ انہیں از سر نو ارکان اسلام اور نماز ، روزہ کی تعلیم فرماتے ۔ اللہ رسول ﷺ کے احکامات سے آگاہ فرماتے وہ آپ کی باتیں سنتے اور بہت حیران ہوتے وہ بتاتے کہ ہمیں آج سے پہلے کبھی کسی نے اس قسم کی باتیں نہیں بتائیں ۔ 

خدا تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے رشد و ہدایت کا کام لینا چاہتا ہے تو اس میں کوئی ایسی خاصیت پیدا کر دیتا ہے کہ مخلوق خود بخود ان کی جانب کھنچتی چلی آتی ہے ۔ آپکو بھی خدا تعالیٰ نے ایسی پر تاثیر زبان عطا فرمائی ہے کہ جو بھی آپ کا وعظ سنتا ہدایت حاصل کرتا ہے۔ آپ کی گفتگو عام فہم ہوتی اور آپ اتنی سادہ مثال اور دلائل کے ساتھ آیات و احادیث کی روشنی میں گفتگو فرماتے کہ ان کا ذہن بلا چون و چرا آپ کی باتوں کو قبول کر لیتا ۔ اس طرح بندگان خدا کی اصلاح ہوتی ، ان کا ایمان تازہ ہوتا اور وہ راہ ہدایت پاتے ۔ آپ لوگوں کو ذکر کی تلقین فرماتے ضرورت مرشد ، بیعت کی اہمیت اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی فضیلت بیان فرماتے ۔ آپ کی تبلیغ و ارشاد کے نتیجہ میں بے شمار لوگ قبلہ حضور میاں صاحب کے دست حق پر داخل سلسلہ ہوئے میاں صاحب کے حکم سے جو محفل ذکر کرواتے تھے ان میں شرکت کرنے لگے اس وقت حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے اپنی نظر کرم سے اتنا نواز دیا تھا کہ فیصل آباد اور اس کے گردونواح کے لوگ جب دعا یا کسی مسئلہ کیلئے آستانہ عالیہ ملتان شریف حاضر ہوتے تو آپ ارشاد فرماتے ’’ بابو جی ! اتنا لمبا سفر کر کے میرے پاس آنے کی کیا ضرورت ، فیصل آباد میں مسعود صاحب ہیں ، کوئی مسئلہ کوئی کام ہو ان سے کہہ لیا کرو اور ان کی محفلوں میں شرکت کیا کرو ۔ اس کے بعد جب آپ سرکار ایک مرتبہ فیصل آباد تشریف لائے تو محفل میں فرمایا کہ صوفی مسعود احمد صاحب کہاں ہیں جی ؟ جب آپ حاضر خدمت ہوئے تو پیرو مرشد نے اپنے ہاتھ میں آپ کا ہاتھ لیکر بلند کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔ سن لو ! مسعود احمد صاحب تمہارے اول پیر ہیں میں بعد میں پیر ہوں جو بات ہم سے کہنی ہو ان سے کہہ لیا کرو ایک ہی بات ہے ۔ 

آپ فریضہ تبلیغ جس احسن طریقے سے انجام دیتے تھے آپ کے پیرو مرشد قبلہ حضور میاں صاحب اس سے بہت خوش ہوتے اور اکثر آپ کی تعریف فرماتے اور مختلف لوگوں سے بھی فرماتے کہ یہ درویش ہے ۔ 

آ پ دن رات تبلیغ و ارشاد کے سلسلہ میں مصروف رہتے گھر والے چاہتے کہ آپ کوئی کاروبار کریں۔ایک مرتبہ حضور قبلہ چادر والی سرکار آپ کے بڑے بھائی جناب محترم عارف صاحب کے گھر تشریف لائے تو بھائی صاحب نے عرض کی ! حضور یہ کوئی کام نہیں کرتا ۔ آپ نے فرمایا کہ 

’’ہاں جی کام تو کرنا چاہیے‘‘۔

اس کے بعد آپ کی کیفیت بدلی اور آپ نے فرمایا 

’’اجی یہ صوفی بھی ہے ، درویش بھی ‘‘۔

پھر دوبارہ فرمایا کہ

’’اجی یہ ولی بھی ہے اور درویش بھی ‘‘۔

(سب لوگ اعتراض کرتے تھے کہ آپ کوئی کاروبار کیوں نہیں کرتے ) 

آپ اس حقیقت کو جانتے تھے چونکہ آپ کے مرشد نے کبھی بھی آپ کو کاروبار کرنے کا حکم نہیں فرمایا تھا اس لئے آپ نے بھی اسی طرف دھیان نہ دیا ۔ اب جب کہ مرشد نے سب کے سامنے یہ فرمایا کہ 

’’ہاں جی کام تو کرنا چاہییے‘‘۔

تو آپ کچھ تذبذب کا شکار ہو گئے کہ یہ کیا معاملہ ہے ؟ اسی رات عالم رویاء میں دیکھا کہ پیرو مرشد تشریف لائے اور حکماً فرمایا ’’اگر تم نے کارو بار کیا تو دیکھنا پھر ‘‘۔ یعنی آپ کا فرمان تھا کہ تمہیں کاروبار کرنے کی ضرورت نہیں۔ یقیناً وہ بہتر جانتے تھے کہ آپ کیلئے کیا صحیح ہے ۔ اسی وجہ سے انہوں نے آپ کو فریضہ تبلیغ سونپا تاکہ آپ دین کا کام مکمل یکسوئی کے ساتھ سر انجام دے سکیں ۔ اگر کارو بار میں لگ جاتے تو آپ کیلئے ٹھیک نہیں تھا اسی طرح کچھ عرصہ بعد ایک مرتبہ آپ کی والدہ محترمہ آپ کے ہمراہ آستانہ عالیہ (ملتان شریف ) حاضر خدمت ہوئیں تو حضور میاں صاحب سے شکایتاً عرض کی حضور ! یہ کوئی کاروبار نہیں کرتا اور سگریٹ پیتا ہے آپ ہی اسے کچھ سمجھائیں ۔ آپ نے جواب میں فرمایا ’’ بس بس اللہ بہتر کرے گا‘‘۔ 

والد ہ صاحب نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو آپ نے قدرے جلال میں فرمایا !

’’اماں فکر نہ کر تیرا بیٹا ہزاروں لاکھوں سے اچھا ہے ‘‘۔

والدہ صاحبہ خاموش ہو گئیں کہ مرشد جانے اور مرید جانے ۔ اس کے بعد آپ کو خانیوال اور لاہور تبلیغ کا حکم ہوا ۔ آپ وہاں جاتے ، محفلیں کرواتے ، محفلوں میں وعظ فرماتے اور لوگوں کو دین کی باتیں بتاتے ۔ آپ نے ہزاروں بندگان خدا کی اصلاح کر کے نماز و ذکر کا پابند بنا کر انہیں نفس مطمئنہ کے مرتبہ پر پہنچایا ۔ اللہ و رسول ﷺ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنا ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی پر آمادہ کرنا طریقت کی جان ہے ۔ ہمہ وقت ظاہر بھی خلق اور باطن میں خالق کی یاد میں مشغول رہنا ، دشمن کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آنا ، ریاضت و مجاہدہ کی اصل ہے یہی آپ کا معمول ہے اور لوگوں کو بھی اسی چیز کی تعلیم دیتے ہیں ۔ آپ کی تعلیمات و افکار اور فیوض وبرکات کے بحر بیکراں سے راہِ حق کے متلاشی اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھاتے ہیں ۔ اس دوران حاسدین و مخالفین نے آپ کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں کھڑی کیں۔ فریضہ تبلیغ سے باز رکھنے کی بہت کوشش کیں لیکن آپ کے پائے اثبات میں لغز ش نہیں آئی بلکہ دشواریاں جتنی زیادہ ہوتی آپ کا حوصلہ اتنا ہی بلند اور عزم اتنا ہی راسخ ہو جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ حلقہ معتقدین میں شامل ہوئے ۔ یہ آپ کے عزم و استقلال ہی کا نتیجہ ہے کہ الحمد للہ ! آج پاکستان کے مختلف شہروں میں مردانہ اور خواتین کی ماہانہ ہفت روزہ محافل ذکر منعقد ہوتیں ہیں ۔ غرض یہ کہ مرشد اکمل نے جو حکم دیا آپ نے اس کی بجا آوری میں ذرہ برابر بھی کو تاہی نہ برتی ۔ ہمیشہ اپنے آقا کی شان بیان کرتے رہتے ۔ آپ اپنے مرشد کا ذکر اس انداز سے کرتے کہ کوئی نیا سننے والا بھی محسوس کرتا گویا وہ قبلہ حضور میاں صاحب سے برسوں سے واقف ہے اور ان کیلئے اپنے دل میں بے پناہ عقیدت و محبت محسوس کرتا ۔ آج بھی جب کہ مرشد کو پردہ فرمائے ہوئے کئی سال گذر چکے ہیں وہی عشق و ادب ہے ۔ جب اپنے آقا و مولا حضور میاں صاحب چادر والی سرکار کا ذکر فرماتے ہیں تو آنکھیں عقیدت و محبت کے نشے میں مخمور جھک جاتی ہیں اور دل فرط محبت سے معمو ر ہوتا ہے ۔ بڑے فخر کے ساتھ مرشد کی شان اور ان سے نسبت کی عظمت بیان فرماتے ہیں ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے پیرو مرشد کی کرم نوازی ہے کہ مجھے کہاں سے کہاں لاکھڑا کیا ۔ کبھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اصل بات نسبت کی ہے ہماری نسبت بہت عظیم ہے ۔ ہمیں کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا۔ کبھی ارشاد فرماتے ہیں کہ اصل بات نسبت کی ہے ہماری نسبت بہت عظیم ہے ہمیں بڑا عظیم در ملا ہے نیز ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم چادر والی سرکار کا فیض آگے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔ ہم انہیں کا عطا کیا ہوا آگے دیتے ہیں آپ نے اپنے پیرومرشد کی شان میں کتاب ’’مرشد اکمل ‘‘ تحریر فرمائی جو کہ آپ کی اپنے پیرو مرشد سے محبت کا عین ثبوت ہے ۔