بیعت و نسبت

  آپ پر خدا تعالیٰ کا فضل خاص ہوا ، ابھی آپ بارہویں کلاس میں زیر تعلیم تھے کہ معاشرہ میں بڑھتی ہوئی بے حیائی ، مادہ پرستی اور نفسا نفسی کا عالم دیکھ کر دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا حتیٰ کہ آپ نے دنیاوی تعلیم کو بھی خیر باد کہہ دیا ۔ جب دنیا کی حقیقت عیاں ہوئی اور دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو ئی تو اس امر کی ضرورت قدم قدم پر محسوس ہونے لگی کہ کوئی ایسی عظیم المرتبت ہستی ہو جو ان گناہوں سے دور رکھے اور قدم قدم پر راہنمائی و دستگیری فرمائے ۔ کچھ اولیائے کرام کے حالات زندگی ، کرامات و تصرفات کے متعلق پڑھا تو عقل حیران رہ گئی اور دل نے گواہی دی کہ یہی وہ خاصان خدا ہیں جو تزکیہ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور خدا تک رسائی کا نہایت مؤثر ذریعہ ہیں ۔ جب دل میں ولی کامل کا اشتیاق پیدا ہوا تو بہت تلاش کی مگر کامیابی نصیب نہ ہوئی اور کہیں بھی دل مطمئن نہ ہوا آخر ایک دن اللہ تعالیٰ سے عرض کی 

’’یا اللہ ! تو خود ہی اپنا کوئی ایسا محبوب دکھا جس کا کوئی ثانی نہ ہو ‘‘۔ اسی لگن اور دعا میں سات ماہ گزر گئے ۔ اسی دوران آپ نے گوشہ نشینی اختیار کئے رکھی معرفت الٰہی کا شوق بڑھتا گیا ، رو رو کر راتیں گزارتے تھے ۔ آپ کا ایک ایک لمحہ اسی اضطراب کی کیفیت میں گزرتا تھا 

ٍقرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انہیں اپنا راستہ دکھاتے ہیں ‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد ہے 

’’اور اپنی طرف راہ دکھاتے ہیں جو کوئی ارادہ کرے ‘‘۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ صدق دل سے نکلنے والی پکار پر ہدایت حق ضرور متوجہ ہوتی ہے اور اگر لگن سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ میری راہ میں نکل کر دیکھ راہیں نہ کھول دوں تو کہنا ۔ آپ بھی جب خدا تعالیٰ کی تلاش میں نکلے تو اللہ بزرگ و برتر نے بڑھ کر آپ کو اپنی رحمت بے پایاں میں لے لیا ۔ آپ کی شب بیداریوں اور گریہ زاریوں کو شرف قبولیت بخشا ، وعدہ ربانی پورا ہوا اور آخر کار ایک رات عالم رویاء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا ( بزرگ ہستی کا حلیہ مبارک اور پتہ بتایا گیا ) اور آواز آئی ۔

’’جاؤ ہم نے تمہیں اپنے محبوب کا پتہ بتا دیا ہے ، دیر نہ کرو جاؤ ہم نے پتہ بتا دیا ہے دیر نہ کرو ‘‘۔

آواز کی ہیبت اتنی تھی کہ آپ خود بخود سجدے کی حالت میں چلے گئے اور سو فیصد یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی آواز ہے ۔ مسلسل تین راتوں تک یہی حکم ہوتا رہا ۔ تب آپ کو سکون و اطمینان حاصل ہوا ۔ آپ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ مدد خدا وندی شامل حال تھی چنانچہ شوق دید میں مست آستانہ شریف چل دیئے ۔

راستے میں سوچا کیا وہ بزرگ مجھے پہچان لیں گے ؟ کیا وہ بزرگ مجھے مرید فرما لیں گے ؟ یا الٰہی تیرے ایسے محبوب بندے ہیں تو مجھے تیرے حکم سے حاضر ہونے کے متعلق فرما دیں تاکہ مجھے عین الیقین ہو جائے ۔ جب محبوب خدا قبلہ حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ کے در اقدس پر پہنچے تو دل خوشی سے جھو م اٹھا ، سب کچھ بالکل ویسا ہی پایا جیسا عالم غیب میں مشاہدہ فرمایا تھا ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک سولہ یا سترہ برس تھی جب وہاں جاکر بیٹھے تو لوگوں نے پوچھا کس مقصد سے آئے ہو ؟ آپ نے بیعت ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا بھائی یہاں بیعت ہونا آسان بات نہیں ، کئی لوگ دس دس گیارہ گیارہ سال سے اس ارادے سے آ رہے ہیں لیکن چادر والی سرکار ؒ نے بیعت نہیں فرمایا اور فرماتے ہیں 

’’اجی جب اللہ کاحکم ہو گا تب بیعت کریں گے ‘‘۔

وہ یہ بات نہیں جانتے تھے کہ خدا نے ہی تو آپ کو یہاں تک پہنچایا ہے ۔ آپ نے ان کی باتیں سن کر دل میں سوچا کہ اگر واقعی مجھے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے تو انشاء اللہ مجھے ضرور غلامی میں قبول فرمائیں گے ۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ قبلہ حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ تشریف لے آئے جیسا سوچا تھا ویسا ہی ہوا ۔ سیّدی ، مرشدی قبلہ حضور میاں صاحب کو اپنا منتظر پایا ۔ مرشد کی زیارت با برکت نصیب ہوئی تو بے قرار دل کو قرار ملا ۔ سبحان اللہ ! ہو بہو وہی حلیہ مبارک جو خواب میں اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا ۔ حضور میاں صاحب ؒ نے آتے ہی فرمایا 

’’آ گئے بابو جی ! میں آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا ۔ اجی ! مجھے بھی تین دن سے حکم ہو رہا تھا کہ آپ آویں گے بیعت کر لینا ‘‘۔

پھر کیا تھا مرشد اکمل نے جو نظر کرم فرمائی تو دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ ایک ہی نظر میں تمام لطائف جاری ہو گئے ۔ دل ذاکر ہو گیا ۔ ایک کیف و سرور کی کیفیت طاری ہو گئی ذرا سی توجہ سے اللہ کا ذکر کرتے تو جسم کے ہرمسام سے ذکر جاری ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ بیعت کرنے کے بعد حضور میاں صاحب چادر والی سرکار ؒ نے اہل محفل کے سامنے فرمایا ۔

’’اجی یہ کورا بھانڈا ہے ۔ اس نے زنگ نہیں لگنے دیا ورنہ اس عمر میں زنگ لگ جاتا ہے ۔ ‘‘

پیرومرشد حضور قبلہ چادر والی سرکارؒ نے تین دن آپ کو اپنے پاس رکھا اور اس دوران دریائے رحمت مسلسل جوش میں رہا اور آپ علم و معرفت کے خزانے لٹاتے رہے اسی کیفیت میں آپ نے ارشاد فرمایا ۔ 

’’بابو جی ! لوگ ہمارے پاس بارہ بارہ ، پندرہ پندرہ سال سے آتے ہیں لیکن ہم نے آج تک کسی کو اتنا نہیں نوازا جتنا کہ آپ کو پہلی رات میں ہی نواز دیا ‘‘۔

اس وقت آستانہ عالیہ پر موجود دو تین مرید ین نے کہا کہ ہمیں تو اتنے اتنے سال ہو گئے یہاں آتے ہوئے لیکن سر کارنے ہم پر کبھی ایسی کرم نوازی نہیں فرمائی تو آپ سرکار نے ان کی بات سن کر فرمایا ۔ 

’’اجی پڑے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا جیسے دل سے یہ آیا ہے تم بھی ایسا دل لے کر آؤ ‘‘ اور اس کے بعد حضور میاں صاحب ؒ نے فرط محبت سے آپ کے نام کے نعرے لگوائے۔

آپ پر خدا تعالیٰ کا فضل ہوا عین نوجوانی کے عالم میں جب کہ دنیا انسان کو بہت پر کشش دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کی رنگینوں میں گم ہو جاتا ہے ۔ آپ نے خدا تعالیٰ سے لو لگائی