ابتدائی حالات

 آپ کے والد ماجد جناب حاجی مختار احمد صاحب گولڑہ شریف والوں سے بیعت تھے اور حلیم الطبع اور دریا دل انسان تھے ۔آپ کے دادا جان فضل دین صاحب قادری سلسلہ کے ایک صاحب حال بزرگ گزرے ہیں ۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ حضور قبلہ چادر والی سرکارؒ کے دست حق پر بیعت ہونے کے کچھ عرصہ بعد ایک دن آپ کی ملاقات گوجرانوالہ شہرسے آئے ہوئے ایک صاحبِ حال درویش سے ہوئی انہوں ( بزرگ) نے جب آپ کو دیکھا تو دیکھتے ہی بے اختیار کہنے لگے ۔ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، میں آپ کے جسم میں دو قسم کے انوار کے دریا بہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔

ایک جانب نقشبندی سلسلہ کا فیض اور دوسری جانب قادری سلسلہ کا فیض ۔ آپ نے عرض کی حضور نقشبندی سلسلہ کے فیض کی تو سمجھ آگئی (کیونکہ آپ نقشبندیہ سلسلہ میں بیعت ہوئے تھے ) لیکن قادری سلسلہ کا فیض یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی ۔ تو بزرگ نے فرمایا آپ کے آباؤ اجداد میں کوئی قادری سلسلہ کے بزرگ گزرے ہیں، یہ انہیں کی جانب سے وراثتی فیض ہے ۔ جب آپ واپس گھر تشریف لائے تو والدہ محترمہ سے سارا واقعہ بیان فرمایا تب آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو بتایا کہ آپ کے دادا جان قادری سلسلہ میں بیعت تھے اور ایک صاحب حال درویش بزرگ گزرے ہیں ۔یقیناًیہ وراثتی فیض ہی کا اعجاز تھا کہ آپ کے دادا حضور جو کہ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، آپ ان کا حلیہ مبارک ، عادات واطوار اور روزمرہ کے معمولات کے متعلق ایسے بتا تے تھے گویا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو ،اور اہل خانہ بھی ان باتوں پر بہت زیادہ حیران ہوتے تھے ۔

آپ کے دادا جان کی بزرگی سے ہی متعلق ایک واقعہ ہے کہ ایک دن قبرستان ( نزد پبلک ہائی سکول خانیوال ) کا گورکن آپ کے والد صاحب کی دکان پر آیا اور آتے ہی ان سے کہنے لگا ۔ سبحان اللہ کیا شان ہے آپ کے والد محترم کی ۔ میں حیران ہوں کہ وہ اتنی محبوب ہستی ہیں کہ ان کے طفیل آج زندگی میں پہلی بار حضور قبلہ غوث الا عظم سرکار ؒ نے مجھے اپنی زیارت سے نوازا ۔ پھر اس نے بتایا کہ آج رات خواب میں حضرت غوث الا عظم سرکار ؒ تشریف لائے اور مجھے سے فرمایا ’’ کیا تمہیں علم نہیں کہ ہمارے ایک خاص آدمی فضل دین صاحب کا مکان ( قبر مبارک بارش کی وجہ سے ) کچھ شکستہ ہو گیا ہے پھر مجھے قبر مبارک دکھاتے ہوئے فرمایا اسے ٹھیک کرو ‘‘ اور میں نے جب صبح قبرستان میں جاکر دیکھا تو واقعی ایسا ہی تھا ۔ چنانچہ میں نے فوراً آپ کے حکم کی تعمیل کی ۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت مولانا سردار احمد صاحب ؒ اسی قبرستان سے اپنے عقید تمندوں کے ہمراہ گذر رہے تھے جب وہ آپ کے دادا حضور کی قبر انور کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے مریدین سے فرمایا۔

’’یہ ہمارے سلسلہ کے درویش ہیں ، تم یہاں آیا کرو اور ان کے وسیلے سے دعا کیا کرو ‘‘۔

آپ بچپن میں اکثر خواب میں اپنے آپ کو مجذوبیت اور دیوانگی کی حالت میں دیکھتے گویا آئندہ کی پاکیزہ زندگی کی بشارت خدا تعالیٰ نے بچپن ہی میں دے دی تھی ۔ آپ نے چمن زندگی کی کچھ زیادہ بہاریں بھی نہ دیکھیں تھیں کہ والدہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں جب کسی شخص کے ساتھ ہوتی ہے تو اس کی کایا ہی پلٹ جاتی ہے ۔ بارہا ایسا ہوا کہ جب بھی ( لعوو لہب) کی جانب مائل ہوئے تو خدا تعالیٰ نے رویائے صادقہ کے ذریعے راہبری فرمائی۔ انسان خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق یوں پاکر آئندہ غلطیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔