سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افراد پر بلا تفریق فی الفور FIR درج کی جائے-تنظیم مشائخ عظام پاکستان

 حکومت پاکستان کے کاروائی نہ کروانے سے جمہوریت ،آئین اور قانون کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔مجلس شورٰ ی

گزشتہ روز تنظیم مشائخ عظام پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰ ی کا ہنگامی اجلاس مرکزی لاثانی سیکرٹریٹ فیصل آباد منعقد ہوا ،جس کی صدارت امیر تنظیم مشائخ عظام پاکستان صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے کی ،اجلاس میں موجودہ ملکی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،مرکزی مجلس شورٰ ی کے اراکین سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے تشریف لائے ہوئے مشائخ نے پر امن رہنے اور نظم و ضبط قائم رکھنے پر انقلاب مارچ کے شرکاء کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا ۔تنظیم مشائخ عظام پاکستان میں شامل مشائخ نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افراد کیخلاف بلا تفریق اورفی الفور FIR درج کی جائے ،اور وحشیانہ ظلم وتشدد کرنے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔کیونکہ اگر FIR کے اندراج میں تاخیر کی گئی تو وطن عزیز مزید بحرانوں کا شکار ہو سکتا ہے۔اور جس کا خمیازہ حکومت وقت کو بھگتنا پڑے گا۔امیر تنظیم مشائخ عظام صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار نے کہا کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات ملک و قوم کی بہتری او ر سا لمیت کے لئے انتہائی ناگزیر ہیں،مگر جمہورت اور آئین کی حدود میں فیصلے کئے جائیں تو ملک بڑے انتشار سے بچ سکتا ہے۔آپ نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو اپنے رویے میں نرمی اور تبدیلی لانا ہو گی ۔اس وقت پوری قوم کی نظریں حکومت وقت پرہیں کہ وہ ملک پاکستان کے مستقبل کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔اجلاس میں صاحبزادہ پیر شبیر احمد صدیقی ،پیر محمد افضل نقشبندی ،پیر رانا محمد طاہر ،پیر لیاقت علی نقشبندی،پیر محمد اعجاز المعروف بابا جی سرکار ،پیر حافظ فریاد علی قادری نقشبندی ،پیر محمد راشد نقشبندی،پیر محمد افتخار احمد ،پیر محمد خالد حنیف نقشبندی،پیر محمد افتخار نقشبندی ،خلیفہ ناصر علی نقشبندی،خلیفہ جی نذیر احمد نقشبندی نے شرکت کی ۔