(م�تی عاشق حسین صاحب (لا�ور

 آقا ﷺ نے �رمایا اگرکوئی چا�ے ک� و� خداکی صحبت میں بیٹھے توصو�یا کی جماعت میں بیٹھ جائے تو اس کی صحبت ،صحبت� خدا�ی �ے۔

جو لوگ ی� ک�تے �یں ک� پیری مریدی کاتصورک�اں سے آگیا، تو میں ک�تا �وں ک� ان لوگوں نے قرآن کو غور سے پڑھا �ی ن�یں، اسلام تو پھیلا �ی سلسل� بیعت سے �ے،تین بیعتیں اسلام کی اشاعت کاذریع� بنیں،پ�لی مدین� پاک میں ان دس ا�رادکی بیعت سے �وئی، دوسری بیعت اولیٰ وعقب�،اسلام مک� سے بذریع� بیعت نکلا،تیسری و� بیعت جس میں قرآن پاک میں اس طرح �رمایا، آپﷺ درخت کے نیچے صحاب� کرامؓکوبیعت �رمائیں۔ بیعت یوں لی جاتی �ے،آقا ﷺ اپنا دست مبارک آگے بڑھاتے اورصحاب� کرامؓاپنا�اتھ اپنے آقا ﷺ کے دست مبارک سے بیعت کرر�ے �یں،پریشانیوں میں تمام صحاب� کرامؓبالکل مطمئن اپنے آقاﷺ پر اپنی جان ومال کوقربان کرنے کی بیعت �رمار�ے تھے ،ی� ادا اللّٰ� تعالیٰ کواتنی پسند آئی ک� �رمایا �انزل السکین� ،بیعت کے سلسلے میں اپنے مرشد سے وابست� �ونیوالو، میں(الل� ) تم�ارے دلوں پر سکون کی بارش برساؤں گا،اس کا اظ�ار تم�ارے چ�روں سے عیاں �وگا۔