(پروفیسرپیر حافظ محمد نظیف چشتی صاحب (ایم فل اسکالر لاہور

 حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے جنت میں صرف دن ہی دیکھا تھا ،رات نہیں دیکھی تھی،جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو رات دیکھی اوررات ختم ہونے کے شکریہ میںآپؑ نے نمازِفجرکی دورکعتیں ادافرمائیں تویہ نمازِ فجر کہلائی، نمازِ فجر حضرت سیدنا آدمؑ کی یادگار ہے، نمازِ ظہرحضرت سیدنا ابراہیمؑ اورسیدنا اسماعیل ؑ کی یادگارہے ،جب سیدنا ابراہیمؑ نے حضرت سیدنا اسماعیل ؑ کی جگہ دنبہ ذبیع ہوادیکھا تو اس شکرانے میں آپؑ نے چاررکعتیں ادافرمائیں تو یہ نماز ظہر کہلائی، نمازِ ظہر حضرت سیدنا ابراہیم ؑ اورحضرت سیدنااسماعیل ؑ کی یادگارہے، نماز عصر حضرت سیدنا عزیرؓ کی یادگار ہے، جب آپؑ سوسال پہاڑمیں سوئے رہے،اسکے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے آپ ؑ کوزندگی عطا فرمائی اور آپؑ بیدارہوئے، تو شکرانے میں آپؑ نے چاررکعتیں ادافرمائیں تو یہ چار رکعتیں نماز عصر کہلائی، نماز مغرب حضرت سیدنا داؤدؑ کی یادگار ہے، آپؑ کی جس وقت توبہ قبول ہوئی تو آپ ؑ نے اس شکرانے میں چار رکعتیں اداکرنے کی نیت کی لیکن تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا،تو یہ تین رکعتیں نماز مغر ب کہلائی،عشا کی نما زہمارے پیارے آقاومولا ،تاجدار کائنات حضور پرنورﷺ کی ادا ہے، نمازوں کی رکعتیں بھی اللّٰہ تعالیٰ کے محبوبین کی یا دکے طور پراداکی جاتی ہیں۔ حج کاعمل حضرت سیدنا ابراہیمؑ ، حضرت سیدنا اسماعیل ؑ اورحضرت سیدہ ہاجرہؓ کے عمل کا نام ہے، پتہ چلتاہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی یادوں کوتازہ رکھتاہے ،اللّٰہ تعالیٰ کے محبوبوں کی یاد منانا اللّٰہ تعالیٰ کی سنت ہے،یہ حکم الہیہ ہے ،آج کایہ جشن ولادت اس سلسلہ میں ہے کہ ان ایام میں میرے مرشد کریم حضور صدیقی لاثانی سرکار صاحب کی روح مبارکہ عالم ارواح سے عالم ناسوت میں تشریف لائی، اسی لئے یہ جشن پاک اس نعمت کے ملنے کی خوشی میں منایا جارہاہے اورتاقیامت منایا جاتارہے گا۔ انشاء اللّٰہ