روحانی طور پر آپریشن ہوا

 پیر بہن(شیخوپورہ ) بیان کرتی ہیں کہ آج میں اللّٰہ و رسولﷺ کے محبوب فقیر صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب کی نظر کرم کی بدولت ہی زندہ ہوں۔ میرے پیٹ میں کینسر تھا تقریباً آٹھ مہینے سے طبیعت کافی خراب تھی۔ جب ڈاکٹروں کے پاس گئی تو یہ معاملہ ان کی سمجھ سے بھی باہر تھا کوئی کچھ بتاتا تھا اور کوئی کچھ کہہ دیتا تھا۔ جب پرائیوٹ ہسپتال میں گئی تو ڈاکٹروں نے الٹرا ساؤنڈ کرکے بتایا کہ آپ کی پیٹ میں کینسر ہے اور کہا کہ آپ کا فوراً آپریشن کرنا پڑے گا تو میں نے بتایا کہ ابھی تو میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں نے مجھے پانچ دن کا ٹائم دے دیا۔ جس دن میرا آپریشن تھا اس دن میں بہت رو رہی تھی۔ اسی دوران میرے آنکھ لگ جاتی ہے اور میں دیکھتی ہوں کہ میں آستانہ عالیہ پر موجود ہوں اور قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب سفید سوٹ میں تاج مبارک پہن کر تشریف فرما ہیں۔ خادمہ نے مجھے آکر کہا کہ آپ کو قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب بلا رہے ہیں۔ میں فوراً روتی ہوئی آئی اور میں آکر سامنے کی طرف کھڑی ہوگئی اسکے بعد میں نے مودبانہ سلام عرض کیا اسکے بعد اپنا مسئلہ عرض کیا کہ حضور میں بہت بیمار ہوں یہاں تک کہ چل پھر بھی نہیں سکتی، آپ ہی نظر کرم فرمائیں۔ میں آپ سرکار کے نعلین مبارک چومتی ہوں تو اس کو جو خاک مبارک لگی ہوتی ہے وہ تھوڑی سے میرے منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ جب وہ خاک مبارک میرے اندر گئی تو مجھے بہت سکون محسوس ہوا اور مجھے ایسا لگا کہ جس جگہ مجھے مرض ہے وہاں ایک درخت ہے۔ جب وہ خاک مبارک اس درخت والی جگہ پر پہنچ گئی تو وہ اکھڑ کر باہر آجاتا ہے۔ میں سامنے دیکھتی ہوں تو باہر ایک گولا پڑا ہوتا ہے۔ تو میں پیر و مرشد سے کہتی ہوں کہ مجھے یہ مرض تھا۔ تو جیسے ہی قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب گولے کی طرف دیکھتے ہیں تو آپ کی نظر کرم سے وہ گولا ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مجھے واضح طور پر محسوس ہوا کہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اسی دوران میری آنکھ کھل گئی۔

جب آنکھ کھلی تو میں کیا دیکھتی ہوں کہ جس چارپائی پر میں لیٹی ہوئی تھی وہ چارپائی بلیڈنگ سے بھری ہوئی ہے۔ میں اٹھ کر واش روم جانے لگتی ہوں تومیری امی کہتی ہیں کہ بیٹی تمہاری حالت تو خراب ہے کہیں تم گر نہ جانا۔ میں نے کہا نہیں امی جی! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ کو کیا پتا ہو، قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے روحانی طور پر میرا آپریشن کردیا ہے۔ اب میں آپریشن کروانے کہیں نہیں جاؤں گی۔ ڈاکٹروں نے کہا ہوا تھا کہ جب آپ کی بلیڈنگ بند ہوگئی تو آپ مرجائیں گی۔ خواب آنے کے بعد فوراً ہی میری بلیڈنگ رک گئی۔ میری امی نے کہا کہ بیٹی ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اگر بلیڈنگ رک گئی تو تم مرسکتی ہو۔ تم ایسا کرو ایک دفعہ چیک تو کروا لو۔ میں نے کہا امی جان! اب کیا چیک کروانا ہے قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے مجھ پر اتنا کرم فرما دیا ہے میں تو اب بالکل ٹھیک ہوں۔ 
میرے بھائی نے خون دینے والے بھی بلوا لئے تھے اور آپریشن کا بندوبست بھی کرلیا۔ ہمارے گھر مہمان آئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ اسے آپ بہانہ لگا کر لیں جائیں یہ آپریشن کروانے سے ڈرتی ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ ہسپتال جاؤں گی لیکن میں نے پہلے الٹراساؤنڈ کروانی ہے۔ وہی ڈاکٹر جو مجھے آپریشن کا کہہ رہے تھے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کینسر نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ حیران کن آپریشن کہاں سے کروایا ہے۔ تو میں نے انہیں اپنے پیر و مرشد کی کرم نوازی کا بتایا تو ڈاکٹر حیرت زدہ رہ گئے۔ اب میں لاثانی سرکار کی خصوصی نظر کرم کی بدولت بالکل شفاء یاب ہوچکی ہوں۔