گوجرانوالہ کی تاریخ میں ایک اور بڑی کرم نوازی

روبینہ طارق صاحبہ (محلہ بختے والا گوجرانوالہ) بتاتی ہیں کہ چار ماہ پہلے ایک پیر بہن مجھ سے ملی۔ اس نے بتایا کہ اس کی چار بیٹیاں پہلے ہی ہیں اور تب آٹھویں مہینے میں جب الٹر سائونڈ کروایا تو رپورٹ میں پھر بیٹی ہی آئی۔ یہ بتانے کے بعد وہ پیر بہن رونے لگ گئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ آپ ہمیں آستانہ عالیہ پر لے جائیں اور قبلہ صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب سے ہمارے لئے دعا کروا دیں۔ چنانچہ ہم نے کیری ڈبے کروایا اور آستانہ عالیہ حاضری دینے کیلئے حاضر ہوگئے۔ آستانہ عالیہ حاضر ہونے کے بعد کچھ دیر انتظار کرنا پڑا اور پھر قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب کی زیارت نصیب ہوگئی۔ میں نے جب سارا معاملہ قبلہ کی بارگاہ میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ آٹھ ماہ گزرنے کے بعد اب آپ کو دعا کروانا یاد آیا ہے۔ تو میں نے عرض کی کہ سرکار! آپ کے پاس خزانے ہیں۔ ہم نے خالی ہاتھ واپس نہیں جانا آپ کرم فرمادیں۔ تو قبلہ صدیقی لاثانی سرکار صاحب نے خصوصی دعا فرما دی اور منت لکھوانے کا فرمایا۔ ہم منت بھی لکھوا کر واپس گوجرانوالہ آگئے۔ جب ڈلیوری ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پیر و مرشد کی دعا سے بیٹا پیدا ہوا۔ ہم سب بہت حیران ہوئے کیونکہ الٹرا سائونڈ رپورٹ تو تین چار مستند ڈاکٹروں سے کروائی تھی اور بیٹی کی پیدائش یقینی تھی مگر قبلہ پیر و مرشد صدیقی لاثانی سرکار صاحب کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرما دیا اور اس پیر بہن کی تقدیر بدل گئی۔ 

بے شک اللہ تعالیٰ نے فقراء کو خزانے عطا فرمائے ہوئے ہیں اور وہ جسے چاہیں ان خزانوں میں سے حصہ عطا فرما دیتے ہیں۔