سلسلہ کی ٹوپی کی فضیلت

 کئی سال بیشتر میرے قبلہ نے کرم فرمایا ۔ اس نا چیز کو آئندہ آنے والے واقعات خصوصاً سلسلہ عالیہ ، چادریہ لاثانیہ کے بارے میں گفتگو فرمائی اور اس وقت آپ نے یہ بھی فرمایا تھا ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ فیصل آباد اور ملتان کے درمیان آنے والے شہروں سے لوگوں کی کثیر تعداد سلسلہ میں داخل ہو گی۔ حالانکہ شہروں سے کوئی بیعت نہ تھا ۔ لیکن چند سال کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت کا آپ کا فرمان بالکل پورا ہو رہا ہے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اہل سلسلہ کے سفید رنگ کی ٹوپی کی منظوری آئی ہے ۔ جو کہ منفرد ڈیزائن کی ہے اور ہمارے سلسلہ کے لوگ اس ٹوپی کی وجہ سے پہچانے جائیں گے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی (انشاء اللہ )۔

الحمد للہ !آپ کا فرمان ہم پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں اہل سلسلہ جہاں بھی ہیں اس ٹوپی کی برکت سے لوگ انہیں جانتے ہیں کہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ چادریہ لاثانیہ میں داخل ہیں ۔ قبلہ سرکار کے فرمان کے بعد بہت سے پیر بھائیوں کو ٹوپی کی اللہ و رسول ﷺ کی بارگاہ سے منظوری کی تصدیق ہوئی ۔ چند واقعات تحریر کر رہا ہوں۔ 

*۔۔۔محمدعامر صاحب ( فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ اتوار کی محفل میں محمد ارشد صاحب نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ چادریہ لاثانیہ کی منظور شدہ ٹوپی کے فضائل بیان فرمائے ۔ ان کے بیان سے متاثرہو کر میں نے گھر جا کر اپنے سلسلہ کی ٹوپی پہن لی اور اسی طرح ٹوپی پہن کر سو گیا ‘ اور رات کو خواب میں دیکھا ایک شخص میرے پاس آتا ہے مجھے دل میں یہ محسوس ہو تا ہے کہ جنتی ہے ۔ وہ مجھے پکڑ کر ایک بزرگ ہستی کے پاس لے جاتا ہے ۔ ان کے پاس ایک بہت بڑی حدیثوں کی کتاب ہے ۔ ایک حدیث پاک کی طرف اشارہ فرماکر وہ کہتا ہے کہ بابا جی یہ جو حدیث پاک ہے ۔ کہ ایک شخص نے قبلہ کی طرف تھو کا تھا تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ شخص امامت کے لائق نہیں ۔ اس بزرگ نے کہا کہ بالکل ٹھیک۔ پھر میری طرف اشارہ کر کے کہا یہ شخص ہر روز میرے آقا ﷺ کے شہر کی طرف تھوکتا ہے اس کو کیا سزا دی جائے ۔ وہ بزرگ کہتے ہیں ۔ جو مرضی سزا دو۔

وہ مجھے کمرے میں لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں کو ڑے ماروں گا۔ جب وہ مجھے مارنے لگتا ہے تو میرے سر پر سلسلہ کی ٹوپی دیکھتا ہے ۔پھر کہتا ہے کہ میں مارتا تو ضرور لیکن کیا کروں تم لاثانی سرکار کے مرید ہو ۔ جاؤ تمہاری غلطی معاف کی۔ جب اٹھا تو میں بڑا خوش ہوا کہ قبلہ لاثانی سرکار کے سلسلہ کی ٹوپی پہننے کی برکت سے عذاب سے بچ گیا اور اس ٹوپی کی برکت سے مجھے میری غلطی کی نشان دہی کی گئی ۔ یہ سب میرے آقا کا کرم ہے ۔ ہمارے محترم پیر بھائی 

عبد العزیز صاحب ( خانیوال) بیان کرتے ہیں کہ خواب میں دیکھا کہ قیامت آ گئی ہے اور حشر کا میدا ن قائم ہے لوگوں کا حساب کتاب ہو رہا ہے ۔ جب میرا حساب ہوتا ہے ۔ تونیکیاں کم پڑ جاتی ہیں اوربدیاں زیادہ ہو جاتی ہیں ۔ فرشتے مجھے دوزخ میں لے جانے کے لئے پکڑتے ہیں ۔ تو میں جان بچانے کے لیے بھاگ پڑتاہوں ۔ اچانک مجھے حضرت صدیق اکبر ؓ نظر آتے ہیں ۔ میں دوڑ کر آپؓ کے قدموں میں گر جاتا ہوں اور عرض کرتا ہوں سرکار مجھے بچا لیجئے ۔ آپؓ مجھے فرما تے ہیں کہ تمہاری کہیں نسبت نہیں ہے اور ان کی تمہارے پاس کوئی نشانی نہیں ہے ۔ اچانک مجھے یاد آتا ہے کہ میری جیب میں سلسلے کی ٹوپی ہے ۔ میں جلدی سے ٹوپی نکال کر پہنتا ہوں ۔ جب آپ سلسلہ کی ٹوپی دیکھتے ہیں تو فرماتے ہیں ۔ یہ تو ہمارے سلسلہ کی منظور شدہ ٹوپی ہے ۔ سامنے سفید جھنڈا لگا ہوا ہے ۔ وہاں لاثانی سرکار اور ان کے مریدین جمع ہیں ۔ وہاں چلے جاؤ۔ کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا ۔ میں ادھر جاتا ہوں تو قبلہ لا ثانی سرکار اپنے مریدین کو اکٹھا کر نے کے لئے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں ۔ آپ مجھے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ تم کہاں رہ گئے تھے ، تمہاری سیٹ خالی پڑی ہے ۔ جاؤ وہاں جا کر بیٹھ جاؤ۔ میں وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہوں۔ دوزخ کے فرشتے یہ دیکھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ صبح اٹھا تو مجھے بہت خوشی ہو ئی کہ سلسلہ عالیہ کی ٹوپی کی نسبت سے میری جان بچ گئی ۔ اس سے قبل میں سر پر ٹوپی نہیں رکھتا تھا ۔ اس کے بعد میں نے سر پہ ٹوپی رکھنا شروع کر دی ۔ 

15-10-1996ء قمر محمود صاحب ( ڈجکوٹ ) بیان کرتے ہیں کہ قبلہ پیرو مرشد کے کرم سے دیکھا کہ روز محشر ہے اور حضرت محمد ﷺ ایک اسٹیج پر جلوہ نما ہیں ۔ آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ سب امام اپنے مریدوں ( گروہ ) کو لے کر الگ ہوجائیں۔ قبلہ حضرت لاثانی سرکار بھی جب آپ مریدوں کو بلانے لگتے ہیں تو حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ کے مریدین بہت زیادہ ہیں ۔آپ صرف یہ اعلان کریں کہ جو سلسلہ کی سفید ٹوپیوں والے ہیں وہ ادھر آ جائیں ۔ قبلہ لاثانی سرکار نے حکم کے مطابق اعلان فرمایا تو بے شمار لوگ اکٹھے ہونا شروع ہو گئے تا حد نظر تک مجمع اکٹھا ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کہیں بیعت نہیں وہ پیچھے ہو جائیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا جو سلسلہ قیامت تک چلے گا ان سب کے لئے سلسلہ کی مخصوص ٹوپی ہو گی اور سلسلہ کی یہ ٹوپی بارگاہِ الٰہی میں پسند ہے (سبحان اللہ) جس طرح سے دنیا میں آپ کے مریدین کی پہچان ٹوپی سے ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ٹوپی سے ہو گی ۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے کہ ’’ ہم ہر گروہ کو قیامت کے دن اس کے امام کے ذریعے بلائیں گے ‘‘۔ یہ فرمان خواب کے پہلے حصے پر دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب امام اپنے اپنے گروہوں کو اکٹھا کریں ۔ ایک اور نقطہ اس خواب کے دوسرے حصہ سے یہ نکلتا ہے ۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ جو کہیں بیعت نہیں وہ الگ ہو جائیں ۔ کہ جو لوگ دنیا میں وسیلہ کومانتے ہیں ۔ وہ دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی کامیاب رہیں گے اور اپنے مرشد کی شفاعت سے حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کے مستحق ہو ں گے ۔