آستانہ عالیہ چادریہ لاثانیہ کی فضیلت

 ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ’’انا الصفا والمرو ۃ من شعائر اللہ ‘‘ 

ترجمہ : صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ 

صفا اور مروہ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں قرار دیں ‘ کہ حضر ت بی بی حاجرہؓ جو نبی نہیں بلکہ ایک ولیہ تھی۔ ایک حالت خاص میں اس مقام پر پانی کی تلاش میں دوڑیں تو اللہ تعالیٰ نے ان قدموں کی برکت سے اس مقام کو شعائر اللہ میں داخل فرمایا ۔ جب ایک ولیہ کی برکت سے زمین کا ٹکڑا اللہ کی نشانیوں میں ایک نشانی بن جاتا ہے تو جہاں اولیاء کرامؓ درویشوں اور فقراء کے اجسام موجود ہوں ۔ جس جگہ انہوں نے عمر بھر عبادتیں ‘ ریاضتیں اور مجاہدے کئے ہوں ۔ جہاں ان کی بدولت ہر لمحہ انوارِ الٰہی برستے ہوں ۔ تو کیا ایسے مقامات کا شمار شعائر اللہ میں نہیں ہوگا ۔ اس لئے اولیاء کرامؓ کے ذکر کی بدولت وہ جگہ ‘ وہ زمین مقدس ‘ ہو جاتی ہے ۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہے ۔ یہاں میں چند واقعات تحریر کر رہا ہوں ۔ جن سے پتا چلتا ہے ۔ کہ اللہ رب العزت کے ہاں آستانہ عالیہ چادر یہ لاثانیہ کی فضیلت ہے ۔ 

18-12-1992ء یہ آج سے تقریباً چار پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن جب یہ غلام قدم بوسی کے لئے حاضر ہوا ۔ میرے قبلہ آقا و مولا حضرت لاثانی سرکار بہت خوشگوار موڈ میں باہر تشریف لائے ۔دل نے فوراً محسوس کیا کہ ضرور کوئی خاص کرم ہوا ہے تبھی حضور اتنے مسرور نظر آ رہے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس آستانے کے متعلق آج میرے مالک نے خاص کرم فرمایا ‘ ندا ہوئی ۔ 

’’یہ اللہ کا دربار ہے ‘‘ یہ کرم ہونے پر 10-01-1993ء کو رب تعالیٰ نے الہام فرمایا خواہ کیسی ہی محفل ہواس آستانہ عالیہ کا تقاضا یہ ہے کہ بغیر اللہ رسول ﷺ کے ذکر کے کوئی محفل نہ ہو ’’اگر کسی مقصد کے لئے لوگ جمع ہو ں تو اللہ رسول ﷺ کا ذکر پھر بھی ضروری ہے ۔ ‘‘ اور آستانہ عالیہ پر حاضری کے آداب یہ ہیں کہ جیسے ہی آستانہ عالیہ پر نظر پڑے ۔ مرد حضرات با آواز بلند اور خواتین دھیمی آواز سے اللہ کاذ کر شروع کردیں ۔ آستانہ عالیہ پر ذکر کرتے ہوئے داخل ہوں ‘ اور پھر آستانہ عالیہ پر کھڑے ہو کر بھی ذکر کریں‘ اور رخصت ہو تے وقت بھی پہلے کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کریں پھر آستانہ عالیہ سے ذکر کرتے ہوئے جائیں ۔ آستانہ عالیہ کی مزید فضیلت دکھائی گئی کہ ’’ کہ ایک عورت کا معاملہ اسی وجہ سے اتنا بلند ہوا کہ اس کا گمان بہت بلند تھا‘‘۔ اس نے اس آستانہ عالیہ پر حاضری دے کر بے حد فیض لوٹ لیا۔ فرمایا ’’اس در پر فرشتے اور اولیاء کرام ؒ حاضر ہوا کریں گے ‘‘۔ 

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا ’’ اگر کوئی فیض لینا چاہے تو آستانہ عالیہ کے تنکوں سے بھی فیض لے سکتا ہے۔ بات تو عقیدت و محبت کی ہے ۔ ‘‘

21-03-1993ء کو حضر ت داتا گنج بخش سرکار ؒ نے خصوصی نظر کرم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ اولیاء کرام ؒ اور فرشتے اس آستانہ عالیہ پر ہر جمعرات حاضری دیا کریں گے آئندہ ہماری روحانی محفلیں اس آستانہ عالیہ پر ہوا کریں گی ۔ ‘‘ 

05-06-1995ء پیرڈاکٹر مرزا محمد الیاس صاحب ( شاہدہ، لاہور ) بیان کرتے ہیں کہ آج آقا جی کی کرم نوازی سے حاضر خدمت تھا ۔ نماز سے فارغ ہوکر صف پر بیٹھا ۔ صف کا تنکا میرے ہاتھ میں تھا منہ میں رکھ لیا اور فوراً چومنے لگا ۔ فوراً ہی میرا قلب جاری ہو گیا اور ذکر کرنے لگا۔ بے حد لذت ملی میں نے لاہور واپس جا کر اپنے پیر بھائیوں سے اس کرم کا تذکرہ کیا تو اگلے ماہ جولائی کی محفل پاک میں انہوں نے بھی ایسا کیا اور وہ بھی قبلہ لاثانی سرکار کی کرم نوازی سے اسی طرح مستفیض ہوئے کچھ لوگ اس قسم کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں ۔جب کہ اللہ و رسول ﷺ کے فضل و کرم سے سب کچھ ممکن ہے اور یہ سب انہی کا کرم اور انہی کی عطا ہے ۔پھر انداز ہ کیجئے اس متبرک مقام کا جہاں ہر وقت اللہ ، اللہ کی صدائیں فضا میں گونجتی ہوں، جس جگہ اللہ تعالیٰ کی ایسی محبوب ہستی جلوہ افروز ہو کہ ایسی جگہ کی عظمت و حرمت کا اندازہ کون کر سکتا ہے ۔ 

26-02-1996ء محمد اختر صاحب ( شاہ گرامی منزل ، عالمگیر روڈ کراچی ) بیان کرتے ہیں کہ ماہ رمضان کی ایک رات میں ’’نوری کرنیں‘‘ کتاب پڑھتے پڑھتے سو گیا کتاب کی برکت اور قبلہ لاثانی سرکار کے کرم سے دیکھا کہ آستانہ عالیہ پر پلاٹ کے درمیان میں آسمان سے نور گر رہا ہے اور آستانہ عالیہ کی زمین خوش ہو رہی ہے ۔ ’’نداہوئی ‘‘ یہ زمین تمام روئے زمین کے خاص ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے ۔ ‘‘ اسی زمین کو خاص فضیلت حاصل ہے کہ یہاں ہر وقت انوار کی بارش ہو تی ہے ۔ 

*۔۔۔ پیر بہن ( خانیوال ) بیان کرتی ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آستانہ عالیہ پر موجود ہوں۔ وہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہے۔ آستانہ شریف کی زمین سے نور اُبل رہا ہے ۔ یوں لگتا ہے ‘گویا زمین سے نور کے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور وہ نورپیر مبارک سے چاروں طرف پھیل رہا ہے ۔ 

*۔۔۔پیرصوفی مختار احمد صاحب نقشبندی ( ریل بازار، فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آستانہ عالیہ چادریہ لاثانیہ کو اللہ و رسول ﷺ نے اپنا دربار فرمایا ہے ۔ کیونکہ یہاں آنے والے سائلوں کے مسائل پر میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ خود نظر کرم فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ خواب میں آستانہ عالیہ پر حاضر ہوا تو دیکھا کہ آستانہ عالیہ پر کچھ مریض دم کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ سامنے ہی تخت مبارک پر میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہیں ۔ میرے پیرو مرشد قبلہ لاثانی سرکار بھی وہیں تشریف فرما ہیں ۔ مریض حضرت سیدنا محمد مصطفی ﷺ کے قدموں میں فرش پر حلقہ کی صورت میں بیٹھے ہیں ۔ آپ ﷺ مریضوں کے مسائل سن کر دعا فرماتے ہیں اور ساتھ ہی دم بھی فرماتے ہیں ۔ یہ کرم دیکھ کر میں بہت خوش ہوا کہ میرے آقا ﷺ یہاں آنے والے لوگوں کی میرے شہنشاہ لاثانی سرکار کی نسبت کی وجہ سے خود دستگیری فرما رہے ہیں ۔