شہنشاہ اعظم سخی سلطان قبلہ لاثانی سرکار سے روحانی نسبت /بیعت کی فضیلت

 میرے آقا قبلہ چادر والی سرکار ؒ نے فرمایا ۔ ’’ مرشد کی اہمیت کا آگے پتہ چلے گا ۔ مرید ہونا چاہئے خواہ کسی سلسلہ میں ہو ۔ لیکن بیعت ہونے سے پہلے اتنا ضرور دیکھ لیں کہ یہاں اللہ و رسول ﷺ سے نسبت یا تعلق ہے بھی یا نہیں‘‘۔ 

آپ کے اس فرمان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مرشد اورمرید لازم و ملزوم ہیں ۔ مرشد اور مرید میں ایک نقطہ ہے۔ اگر ولی کامل کی نظر اس کو سلجھا دے تو بس تقدیر بدل جاتی ہے ۔قلب و نظر میں ایک انقلاب بر پا ہو جاتا ہے ۔ مرشد کامل پتھر کو ہیرا بنا تا ہے ‘فرش سے اٹھا کر اوج ثریا تک پہنچا تا ہے ۔ ایسے ہی ولی اکمل سے نسبت اختیار کرنے کا حکم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی ؒ نے فرمایا ہے اولیاء کرامؓ کا یہ مقدس اور پاکیزہ گروہ ہے جس کے تصدیق و توسل سے ہمیں بارگاہ نبوتﷺ کا قرب اور عرفان حاصل ہوتا ہے اور یہی عرفان تخلیق انسانی کی غرض و غایت ہے اور مقصود اولین ہے ۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان اپنے مقصد تخلیقی کے حصول کے لئے اولیاء کرام ؒ کے فیضان کا محتاج ہے انہیں مقدس ہستیوں میں شیخ طریقت آشنائے حقیقت قبلہ لاثانی سرکار ہی ہیں جن کی نگاہ کرم نے ذروں کو مہر و باہ کی تا بانی بخشی اور لاکھوں گم گشتہ راہوں کو صراط مستقیم پر گامزن کیا ۔ انہیں خصوصیات کی بنا پر آپ بارگاہ اللہ و رسول ﷺ میں کتنے مقبول و محبوب ہیں اور آپ کی نسبت کو بارگاہ رسالت ماب میں کس نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟ آئیے اس کا اندازہ مندرجہ ذیل خوابوں کی روشنی میں کرتے ہیں۔

ہمارے سلسلہ کے ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عالم رویاء میں حضور نبی کریم ﷺ کو جلوہ افروز ہو تے دیکھا ۔ ایک عورت آپ ﷺ سے عرض کرتی ہے ۔ میرے آقا یا رسول اللہ ﷺ کیا بیعت ہونا ضروری ہے ۔ آپ ﷺ نے زبان مبارک سے ارشاد فرمایا ’’ بالکل ‘ بالکل ۔‘‘ پھر ایک اور عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی ہے اور عرض کرتی ہے ۔ میرے آقا ﷺ حضرت لاثانی سرکار کی بیعت کرنا کیسا ہے ۔ آپ ﷺ نے مسکرا کر زبان شریں سے ارشاد فرمایا‘‘۔ خوب تر ‘‘( سبحان اللہ ) 

*۔۔۔دختر محمد ریاض( 168/10R،خانیوال )نے بتایا کہ مجھے حضور قبلہ لاثانی سرکار کے دست اقدس پر بیعت ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے کہ قبلہ لاثانی سرکار کی کرم نوازی سے شہنشاہ کون و مکاں تاج دار انبیاء، حضور نبی کریم ﷺ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ تم نے لاثانی سرکار کے ہاتھ پر نہیں بلکہ ہمارے ہاتھ پر بیعت کی ہے ۔ ‘‘ (یعنی ان کا بیعت ہونا ہمارا ہی بیعت ہونا ہے۔ ) سبحان اللہ کیا شان ہے میرے پیرو مرشد کی کہ ان کے دست اقدس پر بیعت کی اور فوراً ہی بارگاہ رسالت ﷺ سے قبولیت کا پروانہ مل گیا ۔ ظہوری صاحب نے کیا خوب کہا ہے ۔ 

ہتھ مرشد دے ہتھ تیرے نیں ‘ رب آکھے اے ہتھ میرے نیں 

ا س لئی میں مرشد کامل دے ہتھاں نو ں جا کے چم لینا 

ہماری ایک پیر بہن جو کہ مدرسہ عرفان القرآن لاثانیہ ( فیصل آباد ) میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں ایک ماہ قبل سلسلہ میں داخل ہوئیں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ چند پیر بہنیں مسجد میں گئیں ہیں کیا دیکھتی ہوں کہ سامنے تین ہستیاں تشریف لا رہیں ہیں ان میں درمیان والی بزرگ ہستی کا کچھ ایسا رعب اور دبدبہ ہے کہ ہم آنکھیں نیچی کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ہم نے پیر بہن ( جو کہ محفل کرواتی ہیں ) سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے اور یہ کون ہستیاں ہیں ۔ انہوں نے پوچھا تو دائیں بائیں جو بزرگ تھے ۔ انہوں نے فرمایا یہ مسجد اقصیٰ ہے اور یہ امیر المومنین حضرت سید نا صدیق اکبرؓ ہیں پھر وہی بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ اس سے راضی ہو جائیں تو اسے چاہیے کہ صحابہ کرام کا پلہ پکڑے ۔ پھر میں نے دیکھا حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے بڑی موج میں ایک رسی ہماری طرف پھینکی اور فرمایا کہ اسے پکڑ لو ۔ ہم نے اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن رسی میں اتنا جوش تھا کہ ہم اسے پکڑ نہ سکے ۔ پھر حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا ’’ ہماری رسی کو پکڑنے کے لئے ضروری ہے کہ درمیان میں کوئی مرشد کامل ہو ۔ ‘‘ پھر ہم نے دیکھا کہ اسی وقت میرے مرشد قبلہ لاثانی سرکار وہاں تشریف لائے اور رسی کو پکڑ لیا ۔ پھر ہم سب پیر بہنوں نے اس رسی کو پکڑنا چاہا تو رسی بڑی آسانی سے ہمارے ہاتھوں میں آگئی پھر آپ نے ہم سے بیعت لی اور فرمایا کہ اب اس رسی کو کبھی نہ چھوڑنا ۔ پھر آپ تشریف لے گئے ۔صبح جب میں اٹھی تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہماری رہنمائی فرمائی اور دکھایا کہ ہمارے قبلہ لاثانی سرکار کا در حق ہے اور آپ سے بیعت کرنے والوں کی نسبت سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سالا ر اعظم حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ سے قائم ہو جاتی ہے اور یہی راستہ حق کا راستہ ہے۔ 

*۔۔۔ ہماری پیر بہن ( واپڈا ہاؤس ، خانیوال ) کے قریب رہتی ہیں بیان کرتی ہیں کہ مجھے بیعت ہوئے ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ خواب میں دیکھا دو بزرگ ہستیاں تشریف لائیں اور فرمایا ’’ تمہیں مبارک ہو کہ تم لاثانی سرکار سے بیعت ہوئی ہو۔ ہم تمہیں مبارک باد دینے آئے ہیں ۔‘‘ چند دنون بعد جب میری کزن بیعت ہوئی تو اسے بھی اسی طرح کا خوب آیا کہ آسمان سے ملائکہ تشریف لا رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں مائیک کی طرح کی کوئی چیز ہے اور وہ تمام دنیا میں اعلان کر رہے ہیں ’’ لاثانی سرکار کے مریدوں کو مبارک ہو ۔ ہم لاثانی سرکار کے مریدوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ‘‘۔

میرے قبلہ لاثانی سرکار ارشاد فرماتے ہیں کہ بروز اتوار 26-05-1996ء کو عالم رویا ء میں دیکھا کہ ایک مجمع ہے جس میں لوگوں کو سنت رسول ﷺ کے مطابق کام کرتے ہوئے دکھایا گیا یعنی کسی کو آپ کی محبت اور سنت سمجھتے ہوئے کدو شریف کھاتے ہوئے۔ کسی کو مسواک کرتے ہوئے ‘ کسی کو داڑھی رکھے ہوئے دکھایا گیا ۔ ان میں ہمارے سلسلہ کے لوگ بھی شامل تھے اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ تشریف لاتے ہیں ۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ لاثانی سرکار کے سلسلے کا کوئی شخص اگر کم ازکم پانچ یا سات سنتوں پر بھی عمل کرتا ہو گا اور اس کے پاس اگر اس دنیا میں گھر نہیں ہے تو ہم اسے بے گھر نہیں رہنے دیں گے اور گھر عطا فرمائیں گے ۔ ‘‘میں خوشی سے سوچتا ہوں کہ میں اہل سلسلہ کو بتاؤں گا کہ میرے قبلہ و کعبہ حضور ﷺ نے اہل سلسلہ پر کتنا کرم فرمایا ہے کہ صرف چند سنتوں پر بھی جو عمل کرتا ہو گا میرے آقا اس کو اس کے اہل خانہ کو دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانے دیں گے ۔ سبحان اللہ ۔

*۔۔۔خالد محمود بسراایڈووکیٹ ہائی کورٹ( خانیوال) بیان کرتے ہیں کہ حضور صدیقی لاثانی سرکار سے بیعت ہونے کے بعد میرے بڑی بیٹی کو خواب آیا کہ وہ ایک جگہ پر کھڑی ہے اور اس کے پاس ہی قبلہ لاثانی سرکار ایک پہاڑی پر موجود ہیں اور اس سے اوپر والی پہاڑی پر سرکار مدینہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہیں ۔ نور کی ایک لمبی قطار آسمان سے میرے آقا حضور نبی کریم ﷺ تک اور پھر آپﷺ سے میرے پیرو مرشد تک آ رہی ہے ۔ میری بیٹی بھی آپ لاثانی سرکار تک پہنچنے کے لئے پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرتی ہے تو آپ اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھا دیتے ہیں اور نور کی وہ قطار جو نبی کریم ﷺ اور پھر مرشد پاک تک آ رہی ہوتی ہے ۔ اس تک بھی پہنچنا شروع ہو جاتی ہے اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپ سے نسبت اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے نسبت ہے ۔ 

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو جنہوں نے بھی شہنشاہ اعظم قبلہ صدیقی لاثانی سرکار سے روحانی نسبت قائم کی ہے یا بیعت کی ہے استقامت نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین