ناموافق ناموں کے غلط اثرات

 بہت سے لوگ ساری زندگی رنج و الم اور پریشانیوں میں ہی مبتلا رہتے ہیں اور بعض بچے بھی بہت زیادہ ضدی اور چڑچڑے ہوتے ہیں۔ ان سب باتوں کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ 

٭ایک وجہ تو ناموافق نام ہے کیونکہ اگر بچے کا نام ہی ایسا رکھا گیا ہو جو اس کیلئے موافق نہ ہو تو بچہ چڑچڑا، ضدی اور ساری عمر رنج و الم اور پریشانیوں میں مبتلا رہ سکتا ہے۔ 

ایک مرتبہ میرے آقا حضرت سیدنا چادر والی سرکار٨ نے بذریعہ خواب ارشاد فرمایا: 

''بابو جی! آپکے پاس جو لوگ آنویں ناجی اگر ان کے نام  س،ش،ع،غ،ر،ڑ،ز،ژ اور ی سے شروع ہوں اور وہ مسلسل دکھ، تکلیف اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہوں تو آپ خود ان کے نام بدل دیا کرو جی اور یہ علم کی بات ہے۔'' 

٭دوسری وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ بزرگان دین کے نام پر بچوں کے نام تو رکھ دیتے ہیں لیکن پھر انہیں ادھورا پکارتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ انبیاء کرام، ازواجِ مطہرات و دیگر محترم بیبیاں (حضرت آمنہ، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت میمونہ، حضرت مریم، حضرت آسیہ اور حضرت فاطمہ  وغیرہ) اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے نام بھی پورے لینے چاہئیں ان ناموں کو ادھورا نہ پکاریں۔ ان ناموں کے ساتھ ضرور کوئی دوسرا نام لگائیں کیونکہ ناموں کو خالی پکارنے سے ایک تو بے ادبی کے زمرہ میں آتا ہے مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان اور علی وغیرہ کہنا بے ادبی ہے۔ دوسرا یہ کہ ان ناموں کو خالی پکارنا خود اس شخص کیلئے جس کا نام ہے (جس کو پکارا جاتا ہے) اور جو ادھورا نام لے کر پکارتا ہے دونوں کیلئے بھاری (ناموافق) ہوتا ہے۔ بار بار خالی یا ادھورا نام لے کر بلانے سے اس انسان کی طبیعت پر غلط اثر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر پورا نام لے کر بلایا جائے تو اس سے اس کی طبیعت، مزاج اور شخصیت میں خوشگوار تبدیلی آئے گی (اچھا اثر پڑے گا) 

ایک مرتبہ اللہ رب العزت کی طرف سے فرمان ہوا! ''اگر کسی کا نام عبدالوہاب، عبدالرحمن، عبدالقیوم وغیرہ ہے تو پورا نام لے کر بلایا جائے''۔ 

چند واقعات درج ذیل ہیں جن کے نام تبدیل کرنے سے ان کی زندگی پر نمایاں اثرہوا۔

٭خالدہ خورشید صاحبہ لاہور سے بیان کرتی ہیں کہ میرے بیٹے کا نام محمد عمر تھا اور اسے ہم عمر کہہ کر پکارا کرتے تھے۔میرا بیٹا بہت زیادہ شرارتیں کیا کرتا تھا اورگھر میں چیزیں توڑنا اور سب سے لڑنا اس کا شغل ہوگیا تھا سب کو مارتا تھا اور کسی سے بھی نہیں ڈرتا نہیں تھا۔سکول میں بھی تمام ٹیچرز اس کی شرارتوں سے تنگ تھے ۔بیٹے کی لڑائیوں اور شرارتوں سے میں بہت تنگ تھی۔میں نے اس پریشانی کا اپنی پیر بہن سے ذکر کیا اس نے مشورہ دیا کہ قبلہ سرکار جی سے عرض کرلو۔میں نے قبلہ سرکار جی کی بارگاہ میں اپنا مسئلہ پیش کیا تو آپ سرکار نے فرمایا کہ بچے کانام تبدیل کردیں، عمر نام سے تبدیل کر کے نور محمد رکھ دیں۔ چنانچہ میں نے اپنے بیٹے کا نام نورمحمد رکھ دیا اور سب اسے نور محمدپکارنے لگے کچھ ہی دنوں میں میرے بیٹے میں نمایا ں تبدیلیاں آنا شروع ہوگئی اس کی شرارتیں کم ہوگئیں اور لڑائی لڑنے کی عادت بھی ختم ہوگئی۔اس نے پڑھائی میں بھی دلچسپی لینی شروع کردی الحمداللہ اب میرا بیٹا بہت ہی فرمانبردار ہوگیاہے۔سب اس سے خوش ہیں۔

٭مسز نعیم گوجرانوالا سے بیان کرتی ہیں کہ میرے بیٹے کا نام ابوبکر تھا اورسب اسے اسی نام سے پکارتے تھے۔میرا بیٹا بہت ہی زیادہ شرارتی تھا گھر میں بھی ہر کسی کے ساتھ لڑتا رہتا تھا اور کسی کا کہا نہیں مانتا تھا جوں جوں میرا بیٹا بڑا ہوتا جارہا تھا اس کی لڑائی جھگڑے میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔سکول میں کوئی بھی اس کے لڑائی جھگڑے سے محفوظ نہیں تھا،محلے والے اکثر اس کی شکایات لگایا کرتے تھے کہ تمہارے بیٹے نے ہمارے گھر کا بلب توڑ دیا ہے ،تمہارے بیٹے نے میرے بیٹے کا بہت مارا ہے کوئی کہتا کہ تمہارے بیٹے میرے بچے کا سر پھاڑدیا ہے۔بیٹے کی آئے دن کی شکایات سے تنگ آکر میں نے اپنے بھائی سے مشورہ کیاکیا جائے تو اس نے کہا کہ اس کو آستانہ عالیہ لاثانی سرکار فیصل آباد شریف جناب صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار صاحب پاس لے جائو اور اپنا مسئلہ آپ سرکار کی بارگاہ میں عرض کرو۔آستانہ عالیہ پر حاضر ہوکر میں نے اپنا مسئلہ قبلہ سرکار جی کو عرض کیا، آپ سرکار جی نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام تبدیل کر کے دوسرا نام رکھ لیں ۔آپ سرکار جی کے فرمان کے مطابق بیٹے کا نام تبدیل کر کے نور علی رکھ دیا گیا۔پھر بچے کی عادات میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی اور بیٹے کی لڑائی جھگڑے ختم ہوگئے ۔اس نے باقاعدگی سے سکول جانا شروع کردیا اب میرا بیٹاسب کا کہا مانتا ہے اور اس کی کسی قسم کی شکایت بھی نہیں آتی۔